ہائیکورٹ کا ایک خاندان کے 7افراد کو حراست میں لینے والے اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

ہائیکورٹ کا ایک خاندان کے 7افراد کو حراست میں لینے والے اہلکاروں کیخلاف ...

  




لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے ہربنس پورہ کے رہائشی ایک ہی خاندان کے 7افراد کو حراست میں لینے اور انکی پولیس حراست سے مفروری کے خلاف درخواست میں سی آئی اے سول لائن ڈویژن پولیس کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے ہربنس پورہ کی رہائشی خاتون صفیہ بانو کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی آئی اے سول لائن ڈویڑن پولیس نے کچھ عرصہ قبل دو مقدمات میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ساجد علی ریحان، غلام نبی، محمد امین، غلام حسین ، محسن رضا، عمر رضا اور حسین رضا کو حراست میں لیا اور انکا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تاہم اس دن کے بعد زیر حراست افراد کا پتہ نہیں چل رہا ، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ سے رجوع کرنے پر پولیس نے بتایا کہ تمام ملزم پولیس حراست سے فرار ہو چکے ہیں، درخواست گزار خاتون کے مطابق خدشہ ہے کہ پولیس نے زیر حراست بعض افراد کو قتل کر دیا ہے، انہوں نے استدعا کی عدالت سی اے پولیس کی حراست سے انکے خاندان کے سات افراد کو بازیاب کرائے،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عبدالرب نے پیش ہوکرموقف اختیار کیا کہ عدالت مہلت دے، سی آئی اے کے ذمہ داروں کیخلاف انکوائری کر لیتے ہیں، عدالت نے ڈی آئی جی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ درخواست گزار خاتون کی درخواست پر سی آئی اے سول لائن ڈویژن کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے یکم اکتوبر کو عدالت میں ایف آئی آر کی نقل جمع کرائی جائے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...