مبینہ ملی بھگت سے بھرتی ہونےوالے4 ڈاکٹروں کی تعیناتیوں کےخلاف حکم امتناعی جاری

مبینہ ملی بھگت سے بھرتی ہونےوالے4 ڈاکٹروں کی تعیناتیوں کےخلاف حکم امتناعی ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پبلک سروس کمیشن اور محکمہ صحت کی مبینہ ملی بھگت سے بھرتی ہونے والے سرجری کے 4 ڈاکٹروں کی تعیناتیوں کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پبلک سروس کمیشن اور محکمہ صحت سے 14اکتوبر تک جواب طلب کر لیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ نے ڈاکٹر گلریز ذوالفقار کی درخواست پر سماعت شروع کی تو درخواست گزار کے وکیل حافظ محمد فاروق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے مختلف ہسپتال میں اورل سرجری کے ڈاکٹروں کی بھرتیوں کیلئے اشتہار دیااور امیدواروں کا تحریری امتحان اور انٹرویو لینے کیلئے محکمہ صحت کی طرف سے ایک غیرمتعلقہ مضمون میں ڈگری لینے والے پروفیسر وحید الحمید، ڈاکٹر عثمان اصغر اور اڈکٹر ارشد ملک پر مشتمل پینل تشکیل دیدیا، درخواست گزار نے عدالت میں پینل کی بدنیتی کے ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تین رکنی پینل نے اپنے ہی پرائیویٹ کلینکس پر کام کرنے والے چار افراد ڈاکٹر ارمغان اسرار مرزا، ڈاکٹر آصف مرزا، ڈاکٹر عمر صفوان جنجوعہ اور ڈاکٹروحید اے طاہر کو اورل سرجری کیلئے منتخب کر کے مختلف ہسپتالوں میں تعینات کروا لیا،، درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن محکمہ ہیلتھ اور تعلیم کے مافیا کا گڑھ بنا گیا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کہ عدالت پبلک سروس کمیشن میں ہونے والی کرپشن کا نوٹس لے اور مبینہ ملی بھگت کے ساتھ تعینات ہونے والے چاروں ڈاکٹروں کی تعیناتیاں کالعدم قرار دے، عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد اورل سرجری میں تعینات ہونے والے چاروں ڈاکٹروں کی تعیناتیوں کیخلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پنجاب پبلک سروس کمیشن اور محکمہ صحت سے 14اکتوبر تک جوا ب طلب کر لیا۔

 حکم امتناعی

مزید : صفحہ آخر


loading...