حکومت بجلی چوری روک رہی ہے نہ عام آدمی کو ریلیف دیا جا رہا ہے ، لاہور ہائیکورٹ

حکومت بجلی چوری روک رہی ہے نہ عام آدمی کو ریلیف دیا جا رہا ہے ، لاہور ہائیکورٹ

  



                   لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں ایکولائزیشن سرچارج کے خلاف دائر 6 سو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ امر بھی فیصلہ طلب ہے کہ کیا حکومت سبسڈی واپس لے سکتی ہے ؟ حکومت بجلی چوری روک رہی ہے اور نہ ہی عام آدمی کو رےلےف دےا جارہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے بجلی کے بلوں میں ایکولائزیشن سرچارج کے خلاف دائر ان درخواستوںکی سماعت کی، درخواست گزاروں کی طرف سے محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ نےپرا نے بجلی کے صارفےن پر 81روپے فی کے وی ڈبلیو سرچارج عائد کیا مگر اس سرچارج کے نفاذ کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ نےپرا اےکٹ کی دفعہ 31کے تحت نیپرا صرف بجلی کی قےمتوں کاتعےن کرسکتی ہے مگر اسے سرچارج لگانے کا اختےار نہ ہے ، لہذا ایکولائزیشن سرچارج کالعدم قرار دیا جائے، وفاقی حکومت کی طرف سے اےڈےشنل اٹارنی جنرل نصےر بھٹہ نے موقف اختےار کےا کہ وفاقی حکومت کو سرچارج لگانے کا اختےار ہے اور اس نے اپنا نقصان پورا کرنے کےلئے سرچارج لگاےا ہے ، وزارت پانی وبجلی کے وکیل نے بتایا کہ بجلی مہنگی پےدا ہوتی ہے ،چھوٹے صارفین کو سبسڈی بھی دی جاتی ہے اس لےے سرچارج لگاےا گےا ، تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا حکومت سبسڈی واپس لے سکتی ہے؟ بظاہر لگتا ہے کہ وفاقی حکومت بجلی چوری روک رہی ہے اور نہ ہی عام آدمی کو رےلےف دےا جارہا ہے۔

فیصلہ محفوظ

مزید : صفحہ آخر


loading...