سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا مرکزی ملزم گلوبٹ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر رہا

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا مرکزی ملزم گلوبٹ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر رہا

  



 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے کردار گلوبٹ کی نظر بندی غیرقا نونی قراردیتے ہوئے اسے فوری رہاکرنے کاحکم دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا حکومت نے گلو بٹ کو گلے لگا کر شاباش دینے والے سابق ایس پی ماڈل ٹاﺅن ڈویژن طارق عزیز کو بھی نظربند کیا؟۔ لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس قاسم خان نے گلو بٹ کی نظربندی کے خلاف درخواست کی سماعت کی، گلو بٹ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت عالیہ کی جانب سے گلو بٹ کی ضمانت منظور کی جا چکی ہے مگر ہوم ڈیپارٹمنٹ نے گلو بٹ کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتے ہوئے اس نظربند کر دیا جو غیرقانونی اقدام ہے لہذا گلو بٹ کی نظر بندی کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم دیا جائے، پنجاب حکومت کی طرف سے سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گلوبٹ کو نقص امن کے خڈشے کے پیش نظر نظر بند رکھا گیا ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیاکہ کیا حکومت نے گلو بٹ کو گلے لگا کر شاباش دینے والے سابق ایس پی ماڈل ٹاﺅن طارق عزیز کو بھی نظربند کیا؟ جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیاکہ گلو بٹ کوآشیر باد دینے والے پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج کرکے کاروائی کاآغاز کردیاگیاہے ، عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے منظور کردہ ضمانت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے کہاکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے گلو بٹ کو بے گناہ تسلیم کر لیا، عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد گلوبٹ کی نظر بندی غیرقا نونی قراردیتے ہوئے فوری رہاکرنے کاحکم جاری کردیا۔

 گلوبٹ رہا

مزید : صفحہ آخر


loading...