آرمی چیف کیلئے الطاف حسین کے سوالات معنی نہیں رکھتے ،ہر معاملہ کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں

آرمی چیف کیلئے الطاف حسین کے سوالات معنی نہیں رکھتے ،ہر معاملہ کو سیاسی رنگ ...

  



      لاہور(محمد نواز سنگرا// انویسٹی گیشن سیل) آرمی چیف کےلئے الطاف حسین کے سوالات معنی نہیں رکھتے اور نہ ہی آئین میں ان کی گنجائش ہے۔ تحفظات کی صورت میں پارلیمنٹ یا عدالتوں سے رجوع کی جا سکتا ہے۔جرم کا ارتکاب ہوتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں آرمی ہمیشہ بلا تفریق کاروائیاں کرتی ہے ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی اور عسکری ماہرین نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے کہا کہ الطاف حسین بوکھلاہٹ کیوجہ سے متضاد بیانات جاری کرتے رہتے ہیں ان کے سوالات کی آئین اور قانون میںکوئی گنجائش نہیں ہے۔عدالتیں موجود ہیں اسلئے سوالات آرمی چیف کےلئے معنی نہیں رکھتے اور جواب بھی عدالتوں سے رجوع ہونا چاہیے۔سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے کہا کہ تحفظات رکھنا یاسوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے لیکن ملک میں ادارے موجود ہیں ۔مناسب وقت پر مناسب سوال متعلقہ ادارے سے کرنے میں حرج نہیں الطاف حسین کو عدالتوں سے رجوع کرنا چاہئے۔جنرل(ر)نصیر اختر نے کہا کہ الطاف حسین کے سوالات کا آرمی چیف کو نہیں پارلیمنٹ کو دینا چاہیے۔آرمی بلا وجہ کسی کو ٹارگٹ نہیں کرتی سیاسی مسائل سیاسی فورم پر حل ہونے چاہیے آرمی کو بلا وجہ گھسیٹنا درست نہیں ہے۔برگیڈئیر (ر)محمد یوسف نے کہا کہ جس نے جرم کیا ہو اس کیخلاف کاروائی کرنا اداروں کا فرض ہے خواہ وہ سیاسی جماعت کا ہو یا کوئی عام شہری۔1970تک کراچی میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں تھی بشرٰی زیدی کے بعد ایم کیو ایم سے جرائم ارتکاب ہوئے تھے۔1990کی دہائی میں کراچی میں جرام بڑھ گئے میجر کلیم کے سر ڈرل مشین سے سراخ کئے گئے بھتہ خوری اور ٹرگٹ کلنگ کے جرائم میں بھی اضافہ ہوتا گیا ۔1992آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے کچھ کارکن گرفتار کئے گئے جنہوں نے جرم کا ارتکاب بھی کیا تھا۔الطاف حسین کو سوالات پہلے پارلیمنٹ اور عدالتوں میں اٹھانے چاہیے اور انصاف نہ ملنے پر آرمی سے استدعا کرنے میں قباحت نہیں ہے ۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بلا تفریق کاروائی کرنی چاہیے اور پاکستان کے معاشی حب کو امن کا گہوارہ بنانا چاہیے۔

سیاسی ،عسکر ی ماہرین

مزید : صفحہ اول