بائیس سال پہلے ہونیوالے واقعات کے بارے میں جنرل راحیل شریف سے سوالات کیوں کئے جا رہے ہیں ؟

بائیس سال پہلے ہونیوالے واقعات کے بارے میں جنرل راحیل شریف سے سوالات کیوں ...

  



                                                     سیاست میں اگر سوالات پوچھے جاتے ہیں تو جوابات بھی دینے پڑتے ہیں، سیاست میں ٹریفک دو طرفہ چلتی ہے، یہ یکطرفہ ٹریفک نہیں ہوتی لیکن اگر سوالات برمحل نہ ہوں یا بعد از وقت پوچھے جائیں تو پھر یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ جب سوالات پوچھنے کا وقت تھا اس وقت چپ کیوں سادھ لی گئی؟ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے اب جو سوالات بائیس برس پہلے کے واقعات کے بارے میں پوچھے جارہے ہیں کیا یہ بے موقع نہیں ہیں؟ جن سوالات کا تعلق جنرل آصف نواز (مرحوم) یا جنرل اسلم بیگ سے تھا وہ اب کیوں اُٹھائے جارہے ہیں۔ جنرل اسلم بیگ کے بعد جنرل آصف نواز آرمی چیف بنے جو عہدے پر قائم رہتے ہوئے مرحوم ہوچکے، ان کے بعد جنرل عبدالوحید آرمی چیف بنے تھے، اُن کے بعد یہ عہدہ جنرل جہانگیر کرامت نے سنبھالا، جنرل جہانگیر کرامت کے مستعفی ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے ان کی جگہ لی اور منتخب وزیراعظم کو اقتدار سے ہٹادیا، اُن کے خلاف طیارے کے اغوا کا مقدمہ چلا جس میں اُنہیں عمر قید کی سزا ہوگئی، اس کے بعد انہیں خاندان کے بہت سے دوسرے افراد سمیت جلا وطن کردیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کے ساتھ ساتھ پہلے ملک کے چیف ایگزیکٹو بنے، پھر صدارتی منصب بھی سنبھال لیا۔ 12 اکتوبر 1999ءسے 18 اگست 2008ءتک وہ اقتدار میں رہے، پھر استعفا دیدیا اور کچھ عرصے کے بعد ملک چھوڑ گئے۔

جنرل پرویز مشرف کے پورے دور میں ایم کیو ایم وفاقی اور سندھ حکومت میں شریک رہی، جنرل پرویز مشرف کا پورا عہد اقتدار دس برس سے کچھ کم ہے، اس عرصے میں سندھ کی گورنری پر ڈاکٹر عشرت العباد متمکن رہے جواب تک چلے آرہے ہیں، انہیں جنرل پرویز مشرف نے مقرر کیا تھا، پھر پیپلزپارٹی کے پورے عہد حکومت میں وہ اس عہدے پر رہے اور آج تک چلے آرہے ہیں، اس لحاظ سے وہ طویل ترین عرصے کے لئے گورنر رہنے کا ریکارڈ قائم کرچکے ہیں، پاکستان میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی گورنر اتنے عرصے تک اس عہدے پر قائم رہا ہو، یہ بھی جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایم کیو ایم کے خصوصی تعلقات کا اظہار ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے جب استعفا لینے میں ناکامی کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو اُن کے منصب سے ہٹایا تو وکلا نے ان کے حق میں ملک گیر تحریک شروع کردی، اس تحریک کے دوران افتخار محمد چودھری کراچی کے دورے پر گئے تو انہیں کراچی ایئرپورٹ سے باہر نہ نکلنے دیا گیا اور انہیں ایئرپورٹ کے اندر ہی یرغمال بنا کررکھا گیا، اس دوران پورے شہر میں مسلح افراد کا راج رہا، جو کھلے عام فائرنگ کر کے شہریوں کو ہلاک کرتے رہے۔ پچاس کے قریب شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار کر پورے شہر پر خوف و دہشت مسلط کردی گئی، جن لوگوں نے شہر میں یہ خوف و ہراس پھیلایا وہ جدید ترین اسلحے سے مسلح تھے اور کہا جاتا ہے کہ یہ ایسا اسلحہ تھا جو اس وقت سیکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں تھایا خال خال تھا، سارا دن کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی اور رات کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں مسلم لیگ (ق) کے زیر اہتمام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے مکے لہراتے ہوئے کہا ”عوام کی طاقت دیکھ لی“ خوف و دہشت کے راج کو وہ عوام کی طاقت سے تعبیر کررہے تھے اور اس پر فخر بھی کررہے تھے۔

ایم کیو ایم کے قائد اب آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے جو سوالات پوچھ رہے ہیں کیا انہوں نے ایسے سوالات جنرل پرویز مشرف سے پوچھنے کی بھی کبھی ضرورت محسوس کی، وہ آرمی چیف اور صدر تھے۔ جو سوالات اب پوچھے جارہے ہیں ان کا جواب جنرل پرویز مشرف سے کیوں نہ مانگا گیا؟ جو ایم کیو ایم کے ہمدرد بلکہ سرپرست تھے اور اس جماعت کو انہوں نے اپنے پورے عرصہ حکومت میں شریک اقتدار کئے رکھا۔ جنرل آصف نواز کے بعد جو آرمی چیف آئے اُن سے بھی الطاف حسین نے کبھی ایسے سوالات پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ کی تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنرل راحیل شریف سے ان سوالات کے پوچھنے کی ضرورت اب کیا پیش آگئی ہے؟ الطاف حسین کے بھائی اور بھتیجے کب شہید ہوئے؟ یہ کوئی آج کے دور کا یا حالیہ ایام کا واقعہ تو نہیں ہے، اس کے بعد تو ایم کیو ایم نے اقتدار کے مزے بھی لوٹے، کیا انہوںنے اقتدار دینے والوں سے کبھی یہ سوال کیا کہ اُن کے بھائی اور بھتیجے کو کس جرم میں شہید کیا گیا، کراچی کا امن دو عشروں سے زیادہ عرصے سے خواب و خیال بنا ہوا ہے۔ اس عرصے میں بھی شہر میں بدامنی دیکھنے میں آئی جب اس شہر پر ایم کیو ایم کی حکومت تھی۔ اب بھی بدامنی ہے جب ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ شریک اقتدار ہے، جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں پہلے ایک منتخب وزیراعظم کا تختہ اُلٹا گیا، پھر اُسے مقدمات میں سزائے عمر قید دی گئی اس کے بعد دس سال کے لئے جلا وطن کردیا گیا، نواز شریف مہاجر نہیں تھے، اس طرح بے نظیر بھٹو سندھی تھیں، الطاف حسین اگر اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو مہاجروں کے خلاف کارروائیاں کہتے ہیں تو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے خلاف کارروائیوں کو کس شمار میں رکھیں گے؟

مزید : صفحہ اول