مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈال سکتے،نواز شریف

مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈال سکتے،نواز شریف

  



                         نیو یارک(عثمان شامی سے) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام حق خود ارادیت سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ ہم مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈال سکتے ۔ پاک بھارت سیکریٹری خارجہ مذاکرات منسوخ ہونے پر مایوسی ہوئی،بھارت کی طرف سے مذاکرات سے انکار کو پوری دنیا نے دیکھا۔ خوشحالی کے لئے تنازعات پرامن طریقے سے حل کرنا ہوں گے۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انہترویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا شدید موسم اور خراب معیشت کا دنیا بھر میں اثر ہوا ہے جس سے پاکستان بھی بےحد متاثر ہوا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ نواز شریف نے کہا 2030 تک غربت ختم کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے ، ا?نے والی دہائیوں میں صحت پر سرمایہ کاری کریں گے اور نجی شعبے کی شراکت سے ترقی کا سفر طے کریں گی۔ امن اور معاشی استحکام ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ صدر جنرل اسمبلی کو تعاون کا یقین دلاتے ہیں اور اقوام متحدہ کی دنیا میں قیام امن کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمسایوں سے پرامن تعلقات ہماری حکومت کی ترجیح ہے ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں مذاکرات اور سفارتکاری کی ضرورت ہے۔بھارت کی جانب سے حالیہ مذاکرات پر انکار کو پوری دنیا نے دیکھا چھ دہائیاں قبل اقوام متحدہ نے کشمیر میں استصواب رائے کی قرارداد منظور کی تھیں اور ابھی تک کشمیریوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کی رائے کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہاکہ افغانستان اس وقت سیاسی اور معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے اور افغانستان میں صدارتی انتخابات کے پرامن انعقاد پر پاکستان نے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا غزہ کے شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں اور غزہ کے شہریوں کا محاصرہ ختم ہونا چاہئے۔ شامی گروپوں کو فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل کرتے ہیں، پاکستان دہشتگردی کی ہر صورت میں شدید مذمت کرتا ہے۔ ہم پاکستانی سرزمین پر شروع کی گئی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف تیرہ سالہ جنگ میں پاکستان نے بہت قربانیاں دیں اس جنگ میں 50 ہزار پاکستانیوں نے جان دی شہید ہونے والے ایک فوجی کی جگہ دوسرا فوجی فخر سے لیتا ہے ہم دس لاکھ بے گھر افراد کی بحالی کیلئے ایکشن پلان بنا چکے ہیں۔ نواز شریف نے کہا پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر جوہری ہتھیاروں سے غیرمسلح ہونے اور عدم پھیلاو¿ کی پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان خطے میں کسی قسم کی جوہری دوڑ میں شریک نہیں ہے اور جوہری سلامتی اور سیکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیار پر عمل پیرا ہے، پاکستان کے پاس ایڈوانس جوہری ٹیکنالوجی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے اس سے قبل کبھی غربت کے خاتمے، ترقی وامن اور ماحولیاتی تحفظ جیسے معاملات پر کام نہیں کیا لیکن اس سیشن میں ان تمام امور پر بات چیت ہو رہی ہے جو کہ خوش ا?ئند ہے اور پاکستان بنی نوع انسان کیلئے اس زمین کو پرامن اور بہتر جگہ بنانے کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا بھرپور ساتھ دے گا

مزید : صفحہ اول


loading...