بھارت کی سرد مہری کے باعث پاکستانی حکومت نے پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا

بھارت کی سرد مہری کے باعث پاکستانی حکومت نے پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ...
بھارت کی سرد مہری کے باعث پاکستانی حکومت نے پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا

  



                             وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا دورہ امریکہ اختتام کو پہنچ رہا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعدوزیر اعظم مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے نیویارک سے روانہ ہوں گے اور لندن میں قیام کریں گے۔ وزیر اعظم نے امریکی صدرباراک اوباما کی جانب سے سربراہان مملکت کے اعزاز میںدیئے گئے عشائیے میں شرکت نہیں کی تھی، اس کی بنیادی وجہ ان کی تاخیر سے آمد معلوم ہوتی ہے۔ بریفنگ کے دوران سیکرٹری خارجہ سے تاخیر کی وجہ دریافت کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کا طیارہ چھوٹا ہے اس لئے لندن میں رکنا ضروری تھا۔ علاوہ ازیں ان کی امریکی صدر سے ملاقات بھی شیڈول نہ کی جا سکی تھی۔ وزیر اعظم نے ناروے، ہالینڈ، نیپال، ملائیشیاءاور مالٹا کے سربراہوںسے ملاقاتیں کیں مگر دیگر صدور سے ملاقات نہ ہو سکی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے باعث بر وقت اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہ ہو سکالہذا دیگر ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں طے نہ کی جاسکیں۔ تاہم ورلڈ بینک کے صدر سے ملاقات کافی مثبت رہی اور انہوں نے پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اقوام متحدہ کی عمارت میں وزیر اعظم نواز شریف کے ”استقبال“ کے لئے تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد گیٹ کے سامنے موجود تھی اور وہ مسلسل ’گو نواز گو‘اور ’نو نوازنو‘ کے نعرے بڑے روایتی انداز میں بلند کر تے رہے،مظاہرین میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مسلم لیگ نواز کے کارکنان بھی اس موقع پر آگئے اور اپنے لیڈر کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے ۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے دیگر ممالک کے مظاہرین بھی اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات طے نہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وزیر اعظم کے ابتدائی دنوں میں بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں جو گرم جوشی تھی اس میں کمی آ رہی ہے۔ وزیر اعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ بھارتی حکومت کے رویے سے کافی مایوس بھی ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات میں سیکریٹری خارجہ سطح پر مذاکرات پہ اتفاق ہوا تھا تاہم بھارت نے پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری قائدین سے ملاقات کو بہانہ بنا کر ان مذاکرات میں تعطل ڈال دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سرد مہری کے اظہار کے بعد پاکستانی حکومت نے بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور وزیر اعظم کے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر اٹھا کر عالمی رہنماﺅں کی توجہ اس کی طرف دلائی ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کا ذکر کرنا بند کر دے اور صرف اسی صورت میں دیگر معاملات پر پیشرفت ممکن ہے حالانکہ یہ کئی برسوں سے پاکستانی سفارتکاروں کا معمول رہا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے بھارت کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی گئی لہذا اس کے حل کے بغیر اسے بھول جانا نا ممکنات میں سے ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے وزیر اعظم کی ملک کے اندر بھی پوزیشن مستحکم ہو گی اور یہ تاثر کہ حکومت مکمل طور پر جمود کا شکا ر ہے، اسے زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ تقریر سے قبل صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات میں وزیر اعظم کی باڈی لینگوئج کافی بہتر نظر آئی اور بیشتر سوالات کے جواب انہوں نے خوشگوار موڈ میں رہتے ہوئے دیئے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ملکی معیشت کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم کا وفد نہایت مختصر ہو گااور یہ کہ دورے کی کوریج کے خواہشمند صحافیوں کو یہ ذمہ داری اپنے خرچ پر ادا کرنا ہوگی۔ تاہم یہ اعلان بھی حکومت کے دیگر دعووں کی طرح ہی ثابت ہوا اور یہاں تشریف لانے والے بیشتر صحافیوں کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی قیمت بھی حسب معمول سرکاری خزانے سے ہی ادا کی جا رہی ہے لیکن ان معلومات کو بے حد خفیہ رکھاگیا ہے۔

مزید : تجزیہ