سپیکر ایاز مشکل میں، استعفے دینے والے نہیں آئے

سپیکر ایاز مشکل میں، استعفے دینے والے نہیں آئے
سپیکر ایاز مشکل میں، استعفے دینے والے نہیں آئے

  



تجزیہ: چودھری خادم حسین

توقع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اپنے استعفوں کی تصدیق کے لئے سپیکر چیمبر نہیں پہنچے، اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ مجبور ہوکر سپیکر ایاز صادق اس قاعدہ کے تحت استعفے منظور کرلیں کہ جونہی استعفیٰ پہنچے وہ منظور تصور ہوتا ہے تاہم سپیکر ایاز صادق کا موقف ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق یہ یقین حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ دستخط اصلی اور استعفیٰ خوش دلی سے خود دیا گیا کسی دباﺅ کا نتیجہ تو نہیں، تحریک انصاف والے یہ نہیں چاہتے، ان کے خیال میں الگ الگ جانے والوں میں سے بہت سے منحرف ہوسکتے ہیں اور اجتماعی طور پر گئے تو سب ہاں کہہ دیں گے اور حقیقت بھی یہی ہے، چار کھلے عام منحرف ہوگئے اور پانچ کا واضح خدشہ ہے کہ سپیکر وہ استعفے واپس کررہے ہیں اور ان پانچوں کو بلایا بھی نہیں گیا، اب یہ رسہ کشی کہاں ختم ہوگی اس کا فیصلہ بھی آئینی ماہرین ہی کریں گے۔

دوسری طرف تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک والے بڑے خوش ہیں اور شاید اب شیخ رشید بھی پھر سے رخ روشن دکھادیں کہ اسحٰق خاکوانی کی طرف سے عدالت عظمےٰ میں وزیراعظم کی نااہلی کے لئے دائر رٹ پر رجسٹرار کے اعتراض کو ختم کردیا گیاجنہیوں نے رٹ کو سماعت کے ناقابل قرار دیا تھا۔ اب یہ رٹ اگلے ہفتے کسی تاریخ پر ابتدائی سماعت کے لئے پیش ہوگی اور عدالت عظمےٰ کا فاضل بنچ یہ طے کرے گا کہ رٹ کی سماعت کی جائے یا اسے ابتدائی سماعت کے بعد ہی مسترد کردیا جائے، شیخ رشید اور دونوں دھرنوں والے خوش ہیں کہ فیصلہ ہاں میں ہوگا۔

دھرنوں کی جو صورت حال ہے اس میں اب عمران خان تو فیصلے کرتے چلے جارہے ہیں انہوں نے جلسوں کا فیصلہ کرنے کے بعد اب اسلام آباد سے دھرنا لاہور منتقل کرنے اور پھر اسے شہر شہر لے جانے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔ خبر یہ ہے کہ اس حوالے سے پاکستان عوامی تحریک سے بھی مشاورت کی جارہی ہے۔ یہ تجویز بھی تو دھرنا ختم کرنے کی ایک ترکیب ہو سکتی ہے کہ اب عید کے حوالے سے دھرنوں کی حالت اور بھی پتلی ہوگئی ہے، تاہم اب دونوں جماعتوں کو غور کرنا چاہیے کہ مجموعی طور پر عوام دھرنوں کی سیاست سے مایوس ہوئے ہیں یوں بھی مطالبات میں ان کے مسائل کا کوئی حل نظر نہیں آرہا اور وزیراعظم کا استعفیٰ اور حکومت کا خاتمہ ہی سب کچھ بنالیا گیا ہے۔ معیشت پر پڑنے والے اثرات کو صنعتکار اور تاجر زیادہ محسوس کررہے ہیں جبکہ عام لوگوں کی زندگی مہنگائی اجیرن کررہی ہے، اشیاءضرورت اور خوردونوش روز بروز گراں ہورہی ہیں، لوگ محسوس کرتے ہیں کہ دھرنا والوں کے پاس ان کے مسائل کا حل نہیں بلکہ یہ تو بڑھ رہے ہیں اب جلسے ہوں گے تو رونق کی وجہ محبت نہیں نفرت ہوگی کہ حکمرانوں کے خلاف عوامی جذبات بھی بڑھ گئے ہیں کہ لوڈشیڈنگ سے مہنگائی نے براحال کردیا ہے، حکمرانوں کو سنجیدگی سے ان مسائل پر سوچنا ہوگا، گڈ گورننس کہیں نظر نہیں آتی، ماتحت عملہ کسی بھی نوعیت کے اپنے فرائض دیانت داری سے ادانہیں کررہا، یہاں نچلی سطح پر کرپشن بہت ہے اس کا ذکر ہی نہیں کیا جاتا۔

محترم ڈاکٹر طاہرالقادری جمعرات کو عمران خان کے مشورے پر کنٹینر سے باہر نکلے تو ان کو احساس ہوا اور یقیناً ہوا ہوگا کہ ”پنڈ“ تو بڑا بس چکا لیکن افرادی قوت کم ہوگئی ہے، ٹیلی ویژن کیمرے نے جو دکھایا وہ تو یہی ہے کہ وہاں محترم کے عقیدت مند و خواتین تھیں جو واضح طور پر دیہاتی نظر آئے کہ ہر کوئی عقیدت سے ڈاکٹر قادری کے ہاتھ چومنا چاہتا تھا اور اکثر خواتین ہاتھ جوڈ کر فریاد بھی کررہی تھیں (اب یہ معلوم نہیں کہ یہ دل کی کسی مراد کے لئے تھی یاد دھرنا سے آزادی کے لئے)

ڈاکٹر طاہرالقادری کا کنٹینر سے باہر نکلنا ایک نیا ایشو بن گیا ہے، ایسا احساس ہوا کہ انہوں نے پرنٹ میڈیا سے قطعی منہ موڑ لیا اور تمام تر انحصار الیکٹرونک میڈیا پر ہے جس نے ایک ماہ دس دن تک مسلسل لائیو کوریج کی حتیٰ کہ پرائم ٹائم کے پروگرام اور خبروں کے اوقات کو بھی نظر انداز کیا گیا، ٹیلی ویژن کے ان اوقات کا ”نقصان“ شمار کیا جاسکتا ہے، اب ڈاکٹر محترم ان سے بھی ناراض ہوگئے ہیں کہ ٹیلی ویژن نے ان کو ناک پر پہلے ٹشو پیپر اور پھر سفید رومال رکھے دکھایا اور کسی نے یہ بھی کہا کہ ”قبلہ“ کو بو آرہی تھی، محترم پھٹ پڑے اور انہوں نے لفافہ جرنلزم کی گالی دے دی اور باقی سب کو جرنلزم ہی سے خارج کردیا اور کہا کہ صحافی تو وہ ہیں جو یہاں (ڈی چوک) رہ کر کوریج کررہے ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری کے اس طرز تخاطب اور غصے نے ان کے حامی میڈیا والوں کو بھی رنج پہنچایا ہے اور اب ان کے لئے ”محبت“ اور ”ہمدردی“ کے جذبات تبدیل ہورہے ہیں، ان کو خود اپنی ادا پر غور کرنا چاہیے، ویسے ان کو یہ بتانا ضروری ہوگیا ہے کہ تھڑوں اور پارکوں میں گفتگو کرنے والے بھی یہی تاثر لئے ہوئے ہیں اور ان کو ”سفید رومال والی سرکار“ کہنے لگے ہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...