میٹرو بس کو جنگلا کہنے والے عمران خان پشاور میں کس منہ سے جنگلا بس بنا رہے ہیں ،شہباز شریف

میٹرو بس کو جنگلا کہنے والے عمران خان پشاور میں کس منہ سے جنگلا بس بنا رہے ہیں ...

  



لاہور (پ ر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے جھنگ کے سیلاب متاثرہ علاقوں پیر کوٹ سدھانہ اوردیگر بستیوں کا دور ہ کیااور سیلاب زدہ علاقوں میں جاری امدادی و بحالی کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اوران کے مسائل دریافت کیے ۔ا س موقع پروزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرین اور عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کو دو قسطوں میں مالی امداد دی جائے گی۔عید سے قبل متاثرہ خاندانوں کومالی امداد کی پہلی قسط ادا کردی جائے گی ۔پہلی قسط کے طورپران لوگوں کو 25ہزار روپے فی خاندان مالی امداد دی جائے گی ،جن کے گھروں کو نقصان پہنچاہے اور پہلی قسط کی ادائیگی کا عمل آئندہ چند روز میں شروع کردیا جائے گاجبکہ دوسری قسط کی ادائیگی 20 اکتوبر سے شروع ہوگی اور فصلوں و مویشیوں کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ کاشتکاروں کو کھاد اوربیج بھی مفت فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنی زمینوں کو آباد کرسکیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف پنجاب پانی میں ڈوبا ہوا تھا، لاکھوں لوگوں کے گھر بار اجڑے لیکن اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کو شرم آئی نہ کوئی حیاء آئی اور دھرنادینے والوں نے اپنا ناچ گانا جاری رکھا۔اسلام آباد میں دھرنوں پرغریب عوام کے اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں،کاش یہ رقم مصیبت زدہ عوام پر خرچ ہوتی ۔قوم اس بدترین بے حسی پر انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دائیں بائیں وہ لوگ کھڑے ہیں جنہوں نے اپنے دور میں بینکوں پر اربوں روپے کے ڈاکے ڈالے ،کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے ،اربوں روپے کے قرضے معاف کرائے اورپاکستان کو اس حالت میں پہنچایا۔ کیاعمران خان ان کرپٹ لوگوں کے ساتھ مل کر نیا پاکستان بنانے اورتبدیلی کے دعویدار ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ میں عمران خان سے سوال کرتاہوں کہ کیاان کی نزدیک کی نظر کمزور ہے کہ انہیں اپنے پاس کھڑے یہ کرپٹ عناصر نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ بینکوں پر ڈاکہ ڈالنے والے ’’نئے پاکستان ‘‘کا نعرہ لگارہے ہیں۔ میٹروبس کو جنگلا بس کہنے والے عمران خان پشاور میں کس منہ سے ’’جنگلا بس‘‘بنارہے ہیں۔ دھرنے دینے والوں نے چینی صدر کا دورہ ملتوی کراکے معیشت کا قتل عام کیاہے اور پاکستان کا مستقبل مخدوش کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ دھرنے دینے والوں کا ہے ۔چینی صدر کے نہ آنے سے بجلی کے منصوبے کھٹائی میں پڑ گئے ہیں،اگر بجلی کے منصوبے وقت پر لگتے تو آپ کے دیہات روشن ہوتے،کارخانے چلتے اور آپ کو روزگار ملتا لیکن ان عناصر نے ملک و قوم کے ساتھ وہ ظلم کیا ہے جو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان مصیبت میں گھرے عوام کو بھول کر کونسا ’’نیا پاکستان‘‘ بنانا چاہتے ہیں۔اسلام آباد میں ناچ گانے کی محفلیں سجانے والے سیلاب میں گھرے بہن بھائیوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں ۔آئندہ عام انتخابات میںیہی عوام رقص و سرود کی محفلیں سجانے والوں کو ڈبودیں گے۔انہوں نے کہا کہ حقداروں کو مالی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔آخری متاثرہ خاندان کی دوبارہ اپنے گھر میں آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ سیلاب سے جھنگ میں بے پناہ تباہی ہوئی ہے اور لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے ۔ انشاء اللہ حکومت لوگوں کے نقصان کا ازالہ کرے گی۔عید پرسرکاری طورپر سیلاب متاثرہ لوگوں اور بچوں کو خصوصی عید گفٹس دےئے جائیں گے جبکہ متاثرین کیلئے قربانی اورکھانے کا بھی انتظام ہوگااورسب کو خوشیوں میں شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آمدورفت کی سہولت بحال کرنے کیلئے سڑکوں کی تعمیر ومرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے اوربہت جلدصوبے کی تمام متاثرہ سڑکیں آمدورفت کیلئے بحال ہوجائیں گی اور اس ضمن میں متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔متاثر ہونے والے سکولوں،ہسپتالوں اورمراکز صحت کو جلد سے جلد بحال کیا جائے گا۔میں آپ کے گھروں کی تعمیر کے دوران بھی آپ کے ساتھ ہوں گااورآپ کی بحالی کیلئے ہرممکن وسائل مہیا کیے جائیں گے۔مستقبل میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے اور نقصانات کم کرنے کیلئے اربوں روپے کی لاگت سے ہیڈتریموں کووسیع کرنے کا منصوبہ شروع کیا جائے گا جبکہ موسم سرما کی آمد کے پیش نظر متاثرین کو رضائیاں بھی دی جائیں گی۔وزیراعلیٰ نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں شاندار کام کرنے پر پاک افواج ،نیوی،اےئر فورس،پولیس، ریسکیو 1122، انتظامیہ، متعلقہ اداروں اورعوامی نمائندوں کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے50 فیصد اخراجات وفاقی حکومت دے رہی ہے جبکہ 50فیصد پنجاب حکومت فراہم کرے گی، میں وزیراعظم محمد نوازشریف اوروفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے تعاون پر شکرگزار ہوں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے یہاں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں امن عامہ اور ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال ہواوزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت یہاں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سیلاب متاثرین کو ان کے گھروں اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کیلئے مالی امداد کی ادائیگی سے متعلق کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلا س میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ متاثرین سیلاب میں مالی امداد کی تقسیم کا پہلا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا اور پہلے مرحلے میں عید سے قبل جن لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے انہیں مالی امداد دی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقداروں کو ان کا حق پہنچانے کیلئے عوامی نمائندے اور انتظامیہ اسی جذبے اور عزم سے کام کریں جس کا مظاہرہ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے دوران کیا گیاہے۔ انہو ں نے کہا کہ وسائل قوم کی امانت ہیں، ایک ایک پائی نہایت شفاف طریقے سے حق داروں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ مالی امداد کی فراہمی کے عمل کیلئے ضلعی مانیٹرنگ کمیٹیاں اورشکایات کے ازالے کیلئے کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سیلاب متاثرین کو مالی امداد کی ادئیگی کے لئے بھر پور آگاہی مہم چلائی جائے اور سکولوں ،تھانوں ، مساجد،ہسپتالوں ، صحت کے مراکز اور دیگر اہم مقامات پر فہرستیں آویزاں کرنے کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں منادی بھی کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگی کے لئے قائم کئے جانے والے خصوصی مراکز میں متاثرین کے لئے ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہمصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد سیاست نہیں صرف اور صرف بے لوث خدمت ہے۔ کسی ستائش کے بغیر سیلاب زدہ لوگوں کی مدد کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر دے گا۔صوبائی وزراء کرنل (ر) شجاع خانزادہ، عطا مانیکا، ڈاکٹر فرخ جاوید، بلال یاسین، ایم پی اے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متاثرین سیلاب کو مالی امداد کی ادائیگی کے طریقہ کار کے بارے میں بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا ۔وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی سکندر حیات بوسن ،صوبائی وزراء ڈاکٹر فرخ جاوید ، عطا مانیکا،کرنل (ر) شجاع خانزادہ، وفاقی سیکرٹری فوڈ سکیورٹی ، چیف سیکرٹری، سینئر ممبربورڈ آف ریونیواور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں کاشتکاروں کو سہولتیں دینے کے حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا ۔وزیراعلی محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ زرعی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔زراعت کو ترقی دے کر معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیاجا سکتا ہے ۔پنجاب حکومت نے زراعت کے فروغ اور چھوٹے کسانوں کی خوشحالی کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائی ہے۔کاشتکاروں کو جدیدسہولتیں فراہم کر کے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہے ۔انہوں نے کہاکہ کاشتکاروں کو سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کئے جا رہے ہیں اورکاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کریں گے ۔وزیراعلی پنجاب محمد نے صوبہ بھر میں کام کرنے والے نیشنل پروگرام برائے فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری ہیلتھ کیئرکے تقریبا 50 ہزار ملازمین کو ملازمت پر ریگولر کر دیا۔تمام لیڈی ہیلتھ سپروائزر،لیڈی ہیلتھ ورکرز اور نیشنل پروگرام کے ڈرائیورز کو ریگولر کرنے کے احکامات انفرادی طور پر جاری کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں محکمہ صحت نے ٹوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔سیکرٹری ہیلتھ پنجاب جواد رفیق ملک نے بتایا کہ تمام ملازمین کو یکم جولائی 2012 سے ریگولر کیا گیا ہے اور LHS کو گریڈLHW\'7 کو گریڈ 5 اور ڈرائیورز کو گریڈ4 دیا گیا ہے۔اس سلسلہ میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب کی جانب سے تمام اضلاع کے ای ڈی اوز ہیلتھ اور ڈی او ہیلتھ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلع میں فرائض سرانجام دینے والے نیشنل پروگرام برائے فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری ہیلتھ کیئرکے ملازمین کو ریگولر کرنے کے انفرادی (By Name) احکامات فوری طور پر جاری کریں۔

مزید : صفحہ اول


loading...