قومی اسمبلی سے استعفا نہ دینے والے ارکان کیخلاف عمران خان کوئی کاروائی نہیں کر سکتے

قومی اسمبلی سے استعفا نہ دینے والے ارکان کیخلاف عمران خان کوئی کاروائی نہیں ...
قومی اسمبلی سے استعفا نہ دینے والے ارکان کیخلاف عمران خان کوئی کاروائی نہیں کر سکتے

  



تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی پارٹی کے ان تین ارکان کی رکنیت ختم کرانے کے لئے سپیکر سے رجوع کیا ہے جنہوں نے ان کی ہدایات کے باوجود قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفے نہیں دئیے، لطف کی بات یہ ہے کہ جو ارکان مستعفی ہوچکے ہیں اور جن کے بارے میں ماہرین آئین و قانون متفقہ طور پر کہہ رہے ہیں کہ جونہی ان کا استعفا سپیکر کے پاس جاتا ہے وہ منظور متصور ہوتا ہے اور یہ نشست خالی ہوجاتی ہے، وہ تو ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ حالانکہ ان کے بارے میں ایوان کے اندر بھی تقریریں ہوچکی ہیں کہ مستعفی ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے مگر سیاسی جرگے کے رہنما کھلے عام کہے جارہے ہیں کہ ان کے استعفے منظور نہ کئے جائیں، حالانکہ کسی رکن کا استعفا منظور کرنا یا رد کرنا سپیکر کا اختیارہی نہیں، سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتا ہے کہ وہ مستعفی رکن کو بلا کر پوچھے کہ کیا اس نے استعفا برضا ورغبت دیا یا کسی دباﺅ کے نتیجے میں، جن ارکان کے بارے میں یقین ہے کہ وہ برضا و رغبت مستعفی ہوچکے ہیں ان کی اسمبلی کی رکنیت آئین پاکستان کی روشنی میں ختم ہوچکی ہے اور ماہرین کے بقول سپیکر نے جس طرح معاملے کو لٹکایا ہوا ہے وہ بھی آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔یہ تو مستعفی ہونے والوں کا حال ہے لیکن جن ارکان نے عمران خان کے حکم کے باوجود مستعفی ہونے سے انکار کیا ان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے تین ارکان شامل ہیں جن میں گلزار خان، ناصر خان خٹک اور مسرت زیب خان شامل ہیں۔ چونکہ یہ تینوں ارکان عمران خان کی حکم عدولی کر بیٹھے ہیں اور دباﺅ میں آکر استعفا نہیں دیا اس لئے عمران خان ان کی رکنیت ختم کرنے کے درپے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی رکنیت ختم ہوسکتی ہے؟ اس کا جواب آئین کی دفعہ -63 اے میں موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک پارلیمانی پارٹی کا ایک رکن جو ایوان میں واحد سیاسی جماعت پر مشتمل ہو۔(اے) اپنی سیاسی جماعت کی رکنیت سے مستعفی ہوجاتا ہے یا کسی دیگر پارلیمانی پارٹی میں شامل ہوجاتا ہے۔(بی) ایوان میں اپنی پارلیمانی پارٹی جس سے اس کا تعلق ہے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے برعکس درج ذیل کے سلسلے میں ووٹ دیتا ہے یا ووٹ دینے سے باز رہتا ہے۔(1) وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب یا(2) اعتماد کا ووٹ یا عدم اعتماد کا ووٹ(3) ایک مالی مسودہ قانونتو وہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے تحریری صورت میں اپنی سیاسی جماعت سے انحراف کیا گیا اعلان کیا جائے گا اور پارلیمانی پارٹی کا سربراہ اس اعلان کی ایک نقل افسر صدارت کنندہ کو دے گا اور بالکل اس طرح سے اس کی ایک نقل متعلقہ رکن کو دے گا مگر شرط یہ ہے کہ ایسے اعلان کو جاری کرنے سے قبل پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ایسے رکن کو اظہار وجوہ کا ایک موقعہ فراہم کرے گا کہ کیوں نہ ایسا اعلان اس کے خلاف جاری کیا جائے۔پارلیمانی پارٹی کا سربراہ اپنی جماعت کے کسی رکن کے خلاف اسی صورت میں کارروائی کرنے کا مجاز ہے جب کسی رکن نے متذکرہ بالا تین صورتوں میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا ہوا، جن تین ارکان کی رکنیت عمران خان ختم کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا، ان کا ”جرم“ محض یہ ہے کہ انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے اپنے پارلیمانی لیڈر کے کہنے پر استعفا نہیں دیا۔ ایسی صورت میں نہ تو پارلیمانی لیڈر ایسے ارکان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں اور نہ سپیکر ان کی رائے سے متفق ہوگا۔ یہ تینوں ارکان یعنی گلزار خان، ناصر خان خٹک اور مسرت زیب بدستور تحریک انصاف کے رکن ہیں انہوں نے پارٹی نہیں چھوڑی نہ پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی ووٹ دیا، محض استعفا نہ دینے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی ممکن نہیں۔کارروائی

مزید : تجزیہ


loading...