عرب ممالک میں سوشل میڈیا پر امریکہ کی سب سے زیادہ مخالفت

عرب ممالک میں سوشل میڈیا پر امریکہ کی سب سے زیادہ مخالفت
عرب ممالک میں سوشل میڈیا پر امریکہ کی سب سے زیادہ مخالفت

  



نیویارک (ویب ڈیسک) ٹوئٹر پر ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عربی زبان کے ٹوئٹس کرنے والے لاکھوں صارفین یعنی مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی مخالفت کی شرح بہت زیادہ ہے۔

پرنسٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مقامی تنازعات میں کونسا گروپ یا فرد ملوث ہے، اس سے قطع نظر ٹوئٹر صارفین ہر معاملے میں امریکہ کی مخالفت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

 تحقیق کے مطابق نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی چیلنجز اور موقع کی ہیں۔ اس تحقیق کے دوران 2012ءاور 2013ءکے درمیان اہم معاملات پر عربوں کے ردعمل پر مبنی ٹوئٹر پیغامات کا تجزیہ کیا گیا۔ ان واقعات میں امریکہ میں سینڈی طوفان، شامی خانہ جنگی میں ممکنہ امریکی مداخلت، بوسٹن میراتھن، بم دھماکے اور مصری صدر محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹایا جانا شامل تھا۔ محققین نے اس دوران لاکھوں ٹوئٹس کا جائزہ لیا جن میں سے صرف 3 فیصد امریکی حمایت میں تھے جبکہ 23 فیصد غیر جانبدار جبکہ باقی سب میں امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

 محققین کا کہنا ہے کہ عربی کہاوت ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہے اور امریکہ لوگوں کی نظر میں دشمن ہے، اس لئے وہ اس کے دشمنوں کو اپنا دوست ہی سمجھتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

مزید : بین الاقوامی