جج کا کام محض قانون کی تشریح نہیں آئین کا تحفظ کرنا بھی ہے: چیف جسٹس ناصر الملک

جج کا کام محض قانون کی تشریح نہیں آئین کا تحفظ کرنا بھی ہے: چیف جسٹس ناصر ...
جج کا کام محض قانون کی تشریح نہیں آئین کا تحفظ کرنا بھی ہے: چیف جسٹس ناصر الملک

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ جج کا کام محض قانون کی تشریح کرنا ہی نہیں بلکہ آئین کا تحفظ کرنا بھی ہے، انصاف غلط اور درست کے درمیان امتیاز کا نام ہے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد اظہر سعید کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے جسٹس محمد اظہر سعید کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی عدالتی خدمات کو سراہا، چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس محمد اظہر سعید نے شاندار عدالتی کیریئر گزارا ہے وہ نوسال تک اعلیٰ عدالتوں کے جج رہے جس میں انہوں نے اڑھائی سال تک سپریم کورٹ میں عدالتی خدمات سرانجام دی ہیں، انہوں نے تین دہائیوں تک بار کی پریکٹس کی ہے اور 2005ءمیں سندھ ہائیکورٹ کے جج بنے، فاضل جج نے جو عدالتی خدمات سرانجام دی ہیں ان پر ہم کو فخر ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنے خاص شعبے بلکہ آئینی نوعیت کے معاملات، سروس کے کیسز اور دیگر معاملات میں بھی اہم فیصلے دئے اور خدمات سرانجام دیں۔ فل کورڈ ریفرنس کے موقع پر خوشی اور غم دونوں ہی ہمارے ساتھ شامل ہیں۔ غم اس بات کا ہے کہ آج ہم سے ہمارے برادر جج جدا ہورہے ہیں اور خوشی اس بات کی ہے کہ انہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ آئین سے حلف کی پاسداری کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا آئین جدید جمہوریت کے روشن آئیڈیاز سے مستعار لیا گیا ہے۔ ٹیکس ریاست کے لئے ریونیو جمع کرنے کا اہم ذریعہ ہے، اس کے بغیر ریاست کو جدید فلاحی نہیں بنایا جاسکتا۔ ملکی ٹیکس قوانین جدید جمہوری نظریات سے حاصل کئے گئے،اب عوام غیر قانونی طور پر حاصل کردہ رقم حکومت کو واپس کرنے کے پابند ہیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...