مسلم حلیہ اختیار کرنے پر عیسائی آسٹریلوی خاتون کو شدید تنقید کا سامنا

مسلم حلیہ اختیار کرنے پر عیسائی آسٹریلوی خاتون کو شدید تنقید کا سامنا
مسلم حلیہ اختیار کرنے پر عیسائی آسٹریلوی خاتون کو شدید تنقید کا سامنا

  



سڈنی (نیوز ڈیسک) مسلمان خواتین کا حجاب پہننا مغربی معاشرے کے اہم ترین موضوعات میں سے ایک بن چکا ہے اور ایک مدت سے حجاب کے خلاف نفرت پر مبنی مہم چلائی جارہی ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا کی ایک عیسائی خاتون نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک ہفتے کیلئے حجاب پہنے گی تاکہ دیکھ سکے کہ مسلم خواتین کو اپنی اس روایت پر عمل کرنے کی وجہ سے کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ستائیس سالہ کیٹ لینی کا کہنا ہے کہ اس کی کئی دوست خواتین مسلمان ہیں اور حجاب کی وجہ سے ان کو پیش آنے والے مسائل کی بناءپر اس نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور صورتحال کا براہ راست اظہار یکجہتی اور صورتحال کا براہ راست تجربہ کرنے کیلئے خود حجاب پہننے کا فیصلہ کیا۔ کیٹ کا کہنا ہے کہ وہ یہ جان کر حیران رہ گئی کہ محض سر پر ایک کپڑا پہننے سے کس طرح لوگوں نے اسے نفرت اور اشتعال کا نشانہ بنایا۔ وہ جہاں بھی جاتی لوگ اسے عجیب نظروں سے گھورتے اور بعض تو اسے دیکھ کر ایسا رویہ ظاہر کرتے جیسے وہ کوئی خطرناک مخلوق ہو۔ ایک پٹرول پمپ کے ملازم نے اس سے پوچھا کہ آخر وہ کیوں ایسی نظر آتی ہے اور حجاب کیوں پہنتی ہے۔ ایک دفعہ راہ چلتے ہوئے ایک خاتون اور اس کی بیٹی نے اسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیا۔ کیٹی نے بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران اسے حجاب کی وجہ سے لوگوں کے بے حساب منفی رویے کا اندازہ ہوا لیکن اس نے یہ بھی بتایا کہ حجاب پہن کر اس نے پہلے سے بہت زیادہ اچھا محسوس کیا اور بطور دعوت اس نے اپنے آپ کو بہت محفوظ محسوس کیا۔ کیٹی کی مسلمان دوستوں نے اظہار یکجہتی پر اس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...