کینیڈا کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے وزیردفاع بھی پاکستان کیخلاف میدان میں آگئے ، شدید تنقید

کینیڈا کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے وزیردفاع بھی پاکستان کیخلاف میدان میں ...
کینیڈا کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے وزیردفاع بھی پاکستان کیخلاف میدان میں آگئے ، شدید تنقید

  

ٹورنٹو (محسن عباس۔ بیوروچیف) کینیڈا کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر دفاع جیسن کینی نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر منصفانہ قوانین کا خاتمہ ہونا چاہئیے جن کے باعث مذہبی اقلیتوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس بات کا اظہار انہوں نے ٹورانٹو شہر کے مضافاتی علاقے میں منعقدہ جماعت احمدیہ کینیڈا کے سالانہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے باعث قادیانیوں سمیت متعدد بے گناہ افراد کو قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں لہٰذا اس غیر منصفانہ قانون کو ختم کیا جانا چاہئیے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی اس تقریر کا ذکر بھی کیا جو انہوں نے 11 اگست 1947ء کو پہلی قانون ساز اسمبلی کے سامنے کی تھی اور تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی کا یقین دلایا تھا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام اس عظیم ملک کے بانی کے فرمودات پر عمل پیرا ہوں جو اقلیتوں کے حقوق کے محافظ تھے۔

جیسن کینی کامزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت پاکستان میں غیر منصفانہ قوانین کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے بانیوں نے اس اصول پر یہ مملکت قائم کی تھی کہ خدا سب سے برتر ہے اور زمین پر قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہئیے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس سرزمین پر قانون کی برتری کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ہم شرف انسانیت کے علمبردار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کینیڈا میں انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کی جاتی ہے اور یہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں

یاد رہے کہ کینیڈا میں احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بہت بڑی تعداد رہتے ہے۔ جن میں اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہے۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں