وہ شخص جو سائنس کے ذریعے مونگ پھلی کو ہیرے میں تبدیل کر دیتا ہے

وہ شخص جو سائنس کے ذریعے مونگ پھلی کو ہیرے میں تبدیل کر دیتا ہے
وہ شخص جو سائنس کے ذریعے مونگ پھلی کو ہیرے میں تبدیل کر دیتا ہے

  

برلن (نیوز ڈیسک) ہیرے کو قدرتی طور پر پایا جانے والا سخت ترین مادہ قرار دیا جاتا ہے اور تا حال کسی نے سوچا ہی نہ تھا کہ اسے مصنوعی طور پر بھی بنایاجا سکتا ہے، لیکن جرمنی میں ایک صاحب نے نہ صرف یہ سوچ لیا ہے بلکہ ہیروں کی لیبارٹری میں تیاری کے لئے تجربات بھی شروع کر دئیے ہیں۔

کیا آپ ناپسندیدہ میسجز اور کالز وصول کرنے سے تھک گئے ہیں؟ تو یہ خبر آپ کے لئے ہے

یہ صاحب جرمن سائنسدان ڈین فراسٹ ہیں جو ہیرے جیسی قیمتی شے کو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور مونگ پھلی کے مکھن جیسی ارزاں چیزوں سے بنانے کے لئے تجربات کر رہے ہیں۔ فراسٹ کی لیبارٹری میں دو انتہائی طاقتور دباﺅ پیدا کرنے والی مشینیں کام کر رہی ہیں جو مصنوعی اجزاءپر ماحولیاتی دباﺅ سے 13 لاکھ گنا زائد دباﺅ ڈال کر ہیرے پیدا کرنے کوشش کر رہی ہیں۔ فراسٹ کا کہنا ہے کہ ہیرے زمین کی پیدائش کے ابتدائی دور میں بے انتہا دباﺅ کے ماحول میں پیدا ہوئے اور ان کی مشینیں بھی دباﺅ کا ایسا ہی ماحول پیدا کرتی ہیں تا کہ ہیروں کو مصنوعی طور پر پیدا کیا جا سکے۔

داعش کی افغانستان میں موجودگی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انتہائی تشویشناک خبر آ گئی

اس عمل کے دوراں متعدد دفعہ چھوٹے چھوٹے دھماکوں کا بھی سامنا کرنا پڑ چکا ہے تا ہم حفاظتی اقدامات کی وجہ سے کسی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ فراسٹ کا کہنا ہے کہ ان کے تجربات کامیاب ہونے سے نہ صرف ہیرے مصنوعی طور پر بنانا ممکن ہو جائے گا بلکہ زمین کی اندرونی ساخت اور اس کے ارتقاءکو سمجھنے میں بھی بہت مدد ملے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس