باپ نے اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کیلئے بہت بڑا قدم اٹھا لیا، زندگی ہی بدل گئی

باپ نے اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کیلئے بہت بڑا قدم اٹھا لیا، زندگی ہی بدل گئی
باپ نے اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کیلئے بہت بڑا قدم اٹھا لیا، زندگی ہی بدل گئی

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) اولاد کی محبت میں والدین کیا کچھ کر سکتے ہیں، اسکی ایک خوبصورت مثال آسٹریلوی سائنسدان نائجل فیرو ہیں جو آج سے چند سال قبل تک ایک موسیقار تھے اور ان کا سائنس سے دور دور تک واسطہ نہ تھا، مگر بیٹی کی بیماری نے انہیں سائنسدان بنا دیا۔

جب 2006 میں ان کے ہاں ایک پیاری سی بچی پیدا ہوئی تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ، لیکن پھر جلد ہی ان خوشیوں پر اوس پڑ گئی جب ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ننھی بچی پھیپھڑوں کے کینسر cystic fibrosis کا شکار تھی۔ نائجل نے نیوز سائٹ news.com.au کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب انہیں ان کی پیاری بیٹی ایلا کے کینسر کے متعلق بتایاگیا تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور وہ اور ان کی اہلیہ شدید رنجیدہ خاطر ہوئے۔ بچی کا علاج شروع کر دیا گیا لیکن اس کی تکلیف دیکھ کر نائجل شدید آزردہ رہتے تھے اور پھر ایک سال بعد انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا کہ جسے ان کے ہر جاننے والے نے پاگل پن کہا۔

کیا آپ ناپسندیدہ میسجز اور کالز وصول کرنے سے تھک گئے ہیں؟ تو یہ خبر آپ کے لئے ہے

نائجل کہتے ہیں، یہ 2007 کی بات ہے کہ ایک دن میں نے اپنا گٹار ایک طرف رکھا اور موسیقی کو خیرباد کہہ دیا۔ میں نے اپنی ننھی گڑیا کے کینسر کا علاج خود دریافت کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لئے خود سائنس دان بننے کا عزم کر لیا۔ میں نے دسویں گریڈ کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی اور کبھی سائنس میں دلچسپی نہ رہی تھی، لہٰذا یہ ایک عجیب و غریب فیصلہ تھا، لیکن میں اپنی بیٹی کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔

کافی تگ و دو کے بعد مجھے ایڈیلیڈ کی فلائنڈرز یونیورسٹی کے بیچلر آف میڈیکل سائنس پروگرام میں داخلہ مل گیا اور میں نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ پہلا سال بہت مشکل تھا لیکن میں نے شدید محنت کی اور پھر یہ کام آسان ہوتا چلا گیا اور پھر وہ وقت بھی آ گیا کہ میں نے بیچلر کے بعد ماسٹرز اور پھر ایڈیلیڈ یونیورسٹی سے میڈیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔

اب میں ایڈیلیڈ میں ہی ایک تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ مل کر cystic fibrosis کینسر کا علاج ڈھونڈ رہا ہوں۔ ہم نے ایک ایسا کوریکٹو جین ڈھونڈا ہے کہ جسے مریض کے پھیپھڑوں میں داخل کر کے بیماری کا خاتمہ ممکن نظر آتا ہے۔ہمیں صرف اگلے پانچ سال کے دوران تجربات کے لئے بھاری فنڈز کی ضرورت ہے، اور اگر فنڈز دستیاب رہے تو قوی امید ہے کہ ہم cystic fibrosis کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

بالکل مفت،قحبہ خانے کی شرمناک پیشکش ،مرَدوں کی لمبی قطاریں

ڈاکٹر نائجل کہتے ہیں، ایلا کی تشخیص کے 9 سال بعد، اور ڈاکٹری کی تین ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد، مجھے لگتا ہے کہ آخر کار میں منزل کے قریب ہوں۔

(مزید معلومات اور عطیات کے لئے ڈاکٹر نائجل فیرو کی ریسرچ فاﺅنڈیشن کی ویب سائٹ cure4cf.org سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔)

مزید : ڈیلی بائیٹس