نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے۔۔۔!

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے۔۔۔!
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے۔۔۔!

  

اِس وقت مملکتِ خداداد پاکستان کئی مسائل کا شکار ہے اور ہم تمام اطراف سے جن مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ان میں سے چند ایک کے سوا باقی سب ایسے ہیں جو ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔فروعی حیثیت کے حامل سیاسی اختلافات کو دشمنی کی حد تک لے جا کر نہ جانے ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

اس معاملے میں ہم تمام حدود و قیود پار کئے جا رہے ہیں۔ اس امر سے بے خبر کہ اس کا نقصان کیا ہے۔۔۔ ذاتی طور پر ہم کیا گنوا رہے ہیں اور قومی سطح پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ جو جی میں آ رہا ہے بغیر سوچے سمجھے کئے جا رہے ہیں۔

اہم قومی ایشوز اسی المیے کی بنا پر ادھورے ہیں یا پس پشت ڈال دیئے گئے ہیں۔ پاناما کیس، جے آئی ٹی، میاں نواز شریف کی نااہلی اور نیب کی پیشیاں ہی شائد اہم ترین معاملہ ہے، جس پر ہم اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔

ذاتی حیثیت میں بھی اسی کام پر لگے ہوئے ہیں اور بعض ادارے بھی بال کی کھال اُتارنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اہم ایشوز کو فراموش کر کے ہم ثانوی معاملات کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رہے ہیں جس کا فائدہ پاکستان مخالف قوتیں اُٹھا رہی ہیں۔ ایک اہم ترین معاملہ جو فوری حل کا متقاضی ہے، اُس کی طرف توجہ دینے کی ہمیں شاید مہلت نہیں مل رہی۔

آپس کے چھوٹے موٹے امور ہمارے سر پر سوار ہیں اور پانی جیسا اہم معاملہ ہم نے بالکل ہی بھلا دیا ہے، جبکہ بھارت ڈیم پر ڈیم بنائے جا رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ دکھائی دے رہا ہے کہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں پینے کے پانی کو بھی ترس رہی ہوں گی۔

شریف فیملی کو چور ثابت کر کے ہم کیا مقاصد حاصل کریں گے اور پانی جیسے اہم ایشو کو فراموش کر کے ہمیں کیا ملے گا؟ اِس کا موازنہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے تھنک ٹینک شاید فکر اور سوچ سے عاری ہو چکے ہیں جو قومی ایشوز پر سوچنا تو درکنار مل بیٹھنا بھی محال سمجھتے ہیں۔معمولی سیاسی اختلافات اہم قومی معاملات پر غالب ہوتے جا رہے ہیں۔

احتساب بہت اچھی چیز ہے،لیکن غیر جانبدارانہ، مساویانہ اور بے رحمانہ ہونا چاہئے، اِس میں پسند نا پسند کی بجائے یکسانیت دکھائی دینا ضروری ہے اور شاید ہمارے ہاں اِسی چیز کی کمی ہے۔ جنہوں نے ماضی میں کرپشن کی اور ککھ پتی سے ارب پتی بن گئے، آج وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہم دودھ کے دُھلے ہیں اور نواز شریف یا اُن کے اہلِ خانہ کرپشن یا چوری کے پیسے سے پلے بڑھے ہیں۔ہمارا ہمسایہ مُلک شروع دن سے ہمیں تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور اُس کی پوری کوشش ہے کہ وہ سرزمین پاک کو خاکم بدھن بنجر کر ڈالے۔

اِس مقصد کے لئے بھارت نے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا،کبھی پانی روک کر اور کبھی پانی چھوڑ کر ہمارے دریاؤں میں سطح آب کم کی گئی تو کبھی گلی محلوں کو دریاؤں کی شکل دے دی گئی اور اِس پر طرہ یہ کہ ہمیں اِس کی کانوں کان خبر تک نہیں دی گئی۔ہم ہیں کہ اِس اہم معاملے سے بے خبر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ کبھی کالا باغ ڈیم کو سیاسی رنگ دے کر اِس کی مخالفت کی جاتی ہے تو کبھی چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کو متنازعہ بنا دیا جاتا ہے۔

یہی ہماری بدقسمتی ہے کہ اہم قومی امور کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کی بجائے اپنی تمام تر توجہ معمولی باتوں پر مرکوز کر دیتے ہیں۔اِس کا فائدہ ہمارا ہمسایہ مُلک پوری طرح اُٹھا رہا ہے، ہم نے پانی کے ایشو کو کئی بار اٹھایا،لیکن اِس پر کوئی نتیجہ خیز عمل سامنے آنے تک آواز بلند نہیں کی،جس کا نتیجہ یہ نکلتا رہا کہ معاملہ دب جاتا اور پھر مستقل خاموشی چھا جاتی رہی۔

ایک دوسرے پر چوری کے الزامات لگانے سے فرصت ملے تو ہم اِن معاملات پر توجہ دیں جو فوری عملدرآمد کے متقاضی ہیں۔ تمام فریقوں کو کسی بھی معاملے میں ساتھ لے کر چلنے کی روایت ہم توڑ چکے ہیں اور تنہا پرواز کی عادت نے ہمیں یہ دن دکھائے ہیں کہ صرف ذاتی معاملات پر ہی توجہ دیتے ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم پانی جیسے اہم ایشو کو پہلی ترجیح بنا کر اسے حل کرنے کی مشترکہ اور متفقہ کوشش کریں تاکہ آنے والی نسلیں پیاس سے بلبلانے کی بجائے سُکھ کا سانس لے سکیں۔ ہمیں سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کے پیرائے میں دیکھنے کی عادت ترک کرنا ہو گی اور یہ موجودہ حالات کا اہم ترین تقاضا ہے۔

مزید : کالم