ایک تاریخ ساز سیاسی شخصیت

ایک تاریخ ساز سیاسی شخصیت
 ایک تاریخ ساز سیاسی شخصیت

  



بابائے جمہویت نوابزادہ نصر اللہ خان ایک محب وطن سیاست دان تھے۔مُلک میں جمہوریت کی بحالی،آئین و قانون کی بالادستی،ان کی زندگی کا عظیم مشن تھا۔وہ کہا کرتے تھے کہ طالع آزماؤں، آمروں اور ڈکٹیٹروں سے جان چھڑانے کے لئے سیاست دانوں کو اکٹھا اور متحد رہنا چاہئے۔

یہی ایک طریقہ ہے جس سے مُلک میں جمہوریت کو قدم جمانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی پر محترمہ بے نظیر بھٹو کو ملاقات کے دوران مشورہ دیا تھا کہ ان کی پارٹی کو ملک میں اکثریتی ووٹ ملے ہیں،اقتدار میں آنا ان کا حق ہے۔ اقتدار کے حصول کے لئے مقتدر طاقتوں کے دروازوں اور کھڑکیوں کی جانب جھانکنے کی بجائے صبر کا مظاہرہ کریں،صدرِ پاکستان ان کے سوا کسی اور کو حکومت بنانے کی دعوت نہیں دے سکتے،مگر مرحومہ کے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ گیا۔شرائط طے ہونے کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے انہیں حکومت بنانے کی دعوت دینے کے لئے ایوانِ صدر بلایا اور محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں اور اِسی صدر نے پیپلزپارٹی کے ووٹوں سے دوبارہ صدرِ پاکستان منتخب ہونے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو 58(2) بی کا وار کر کے رخصت کر دیا۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان (مرحوم) نے پوری زندگی جمہوریت کی آبیاری کی اور مُلک میں جمہوریت کے قیام اور استحکام کے لئے جدوجہد کی۔اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے 32۔ نکلسن روڈ لاہور میں اپنی رہائش پر سیاسی سیکرٹریٹ قائم کر رکھا تھا، جہاں سے مرحوم مُلک میں جمہوریت کی بحالی، پارلیمینٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے اور آمریت کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لئے کام کرتے رہے۔وہ مُلک میں ایسے مضبوط پارلیمانی جمہوری نظام کے خواہش مند تھے کہ کوئی طالع آزما،آمر اور ڈکٹیٹر ماضی کی طرح جمہوریت کا گلا گھونٹ کر اقتدار پر زبردستی قبضہ نہ کر سکے۔

اس حوالے سے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان (مرحوم) نے جمہوریت کی منزل کے راستے کے تعین کے لئے اپنے خونِ جگر سے ایک مشعل روشن کر دی جو مُلک کے سیاست دانوں کی ہر کٹھن اور مشکل وقت پر رہنمائی کرتی رہے گی۔

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کا معمول تھا کہ دن بھر کی سیاسی مصروفیات کے بعد رات گئے تک ملکی اور غیر ملکی نشریاتی اداروں کی خبروں اور تبصروں کو سُن کر سوتے اور صبح سویرے اذان سے پہلے بیدار ہو جاتے اور نمازِ فجر کے بعد ناشتے کے دوران اور ناشتے کے بعد بھی مقررہ وقت تک لاہور اور اسلام آباد سے شائع ہونے والے اخبارات کی فائل کا گہری نظر اور توجہ سے مطالعہ کر کے مُلک کی سیاسی صورتِ حال سے واقف اور خود کو نئے روز کے لئے سیاسی طور پر تیار کر لیتے۔ مرحوم ایک بااصول سیاست دان تھے،حق کو حق اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کا انہیں ڈھنگ آتا تھا۔ مملکتِ خداداد، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سول،ملٹری تعلقات کا معاملہ ہمیشہ نازک اور حساس رہا ہے۔ اخبارات میں صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات کی خبر، ’’تین بڑوں کی ملاقات‘‘ کی مرضی کے ساتھ شائع ہوئی تو بابائے جمہوریت سخت کبیدہ خاطر ہوئے،کہنے لگے: ’’پارلیمانی جمہوریت میں ایک ہی بڑا ہوتا ہے‘‘۔۔۔ مُلک کا وزیراعظم، جسے آئین چیف ایگزیکٹو قرار دیتا ہے۔

یہ تین بڑے کہاں سے آگئے، لیکن پاکستان میں زمینی حقائق ہمیشہ مختلف رہے ہیں،جب بھی اور جس نے بھی رو گردانی کی،گردن کٹوا بیٹھا۔ نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) بچپن ہی سے مضبوط اعصاب اور بلند حوصلے کے مالک تھے۔ زمانہ طالب علمی سے نامور عالم دین، خطیب، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قربت نصیب ہونے کی وجہ سے ان کی تربیت ایک خاص نہج پر ہوئی اور آپ عمر بھر زہر ہلا ہل کر قند نہ کہہ سکے۔

1993ء میں صدرِ پاکستان کا انتخاب لڑ رہے تھے، اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے،آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل، مقتدر طاقتوں کی ہدایت پر ان کا انٹرویو کرنے آئے،کشمیر کے علاوہ دیگر معاملات اور پالیسیوں پر نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) مقتدر طاقتوں کے موقف سے متفق تھے، مگر 58(2) بی پر وہ مقتدر طاقتوں کے موقف سے متفق نہیں تھے۔کہا کہ ساری عمر 58(2) بی کی مخالفت کی ہے اور اب صدرِ پاکستان بننے کے لئے اپنے اصولوں اور موقف سے ہٹ جائیں،ممکن نہیں ہے۔ساری زندگی اپنی بات کا پالن کیا ہے ۔

نوابزادہ نصر اللہ خان(مرحوم) شخصیات کے خلاف نہیں تھے، وہ وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کی روح کے دِل وجان سے حمایتی ہونے کی وجہ سے طائع آزماؤں کے علاوہ منتخب حکومت ان کی نظر میں غیر جمہوری ڈگر پر چلنا شروع کرتی تو وہ اسے لگام دینے کے لئے خم ٹھونک لیتے۔انہوں نے کئی مرتبہ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر محترمہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف،ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خان،یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کے لئے سیاسی اتحاد اور محاذ بنائے۔کبھی محترمہ بے نظیر بھٹو اور کبھی نواز شریف ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔

جمہوریت اور جمہوری عمل سے انہیں عشق تھا۔ 1888ء کے انتخابات کے بعد مرکز میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور مُلک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں میاں نواز شریف کی حکومت بنی۔

انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو سمجھایا کہ وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے اختلافات کو ترک کر کے مُلک میں جمہوریت کی آبیاری اور استحکام کے لئے آپس میں متحد اور اکٹھے ہو کر کام کرنا شروع کر دیں،لیکن دونوں سیاسی رہنما اقتدار کے گھوڑے پر بیٹھ کر ہواؤں میں اُڑ رہے تھے۔انہوں نے نوابزادہ نصر اللہ خان (مرحوم) کے مشورے اور تجویز پر عمل نہ کیا۔صدرِ پاکستان غلام اسحاق خاں نے 58(2) بی کا استعمال کر کے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی۔اگر دونوں رہنما بابائے جمہوریت کی بات مان لیتے تو مُلک میں جمہوری ادارے اتنے مضبوط ہو جاتے کہ مُلک میں آمریت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جاتا۔اِسی طرح نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت کو دائرہ کار کے اندر رکھنے اور پارلیمانی جمہوری نظام کے پھلنے پھولنے کی راہ ہموار کرنے کے لئے وہ میدانِ عمل تھے کہ جنرل پرویز مشرف 12اکتوبر 1999ء کو اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

نوابزادہ نصر اللہ خان (مرحوم) حالات کی ستم ظریفی پر حوصلہ نہیں ہارے،بلکہ ایک نئے عزم کے ساتھ مُلک سے آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لئے، بکھری ہوئی اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو ایک ایک کر کے اکٹھا کرنے لگے، بڑھاپے، بیماری اور سخت ترین سردی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انہوں نے لندن جا کر بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی۔ وہ جدہ میں نواز شریف سے ملنے گئے اور دن رات کوشش کر کے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اے آر ڈی تشکیل دے دی۔ فوج کو اِس کی اصل ذمہ داریوں اور فرائض کا احساس دِلانے اور انہیں واپس بیرکوں میں جانے پر مجبور کرنے کے لئے عوامی دباؤ بڑھانے کے لئے مُلک میں تحریک چلانے کے لئے اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کا اسلام آباد میں اجلاس بلانے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے کہ فرشتۂ اجل مالک حقیقی کا پیغام لے کر آ گیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعوان) اللہ تعالیٰ! آپ کے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین! ثم آمین۔

مزید : کالم