کرپشن میں ڈوبا بلوچستان

کرپشن میں ڈوبا بلوچستان
کرپشن میں ڈوبا بلوچستان

  

بلوچستان میں حکومت جس شعبے میں تحقیق کرتی ہے، وہاں نااہلی اور کرپشن نظر آتی ہے۔ اس کرپشن کو نہ قوم پرست حکومت روک سکی ہے اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کی حکومت روکنے میں کامیاب ہوئی ہے

اب محکمہ خزانہ بلوچستان نے اضلاع میں مانیٹرنگ کمیٹیوں کے ذریعے جانچ پڑتال کی، تو رپورٹس میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹس میں 35 ہزار سرکاری ملازمین کا ریکارڈ غائب ہے،پانچ ہزار ملازمین کو مشتبہ قرار دیاگیاہے اور ان کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

507 ملازمین پر دہری ملازمتوں کے حامل ہونے کا شبہ ظاہر کیاگیاہے۔ 335 ملازمین نے اپنی ملازمت کے دوران تاریخ پیدائش میں تبدیلی کی ہے اور ملازمت کے دورانیہ میں اضافہ کیاہے اور کئی فوائد سمیٹے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے مانیٹرنگ کمیٹی بنائی تو مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے بھی مختلف محکموں کی جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے نو اضلاع میں کام کیا۔ یہ رپورٹ ڈی جی خزانہ اکاؤنٹس نے متعلقہ محکموں کے سپرد کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے نو اضلاع کے 5751 ملازمین کو مروجہ طریقہ کار اور قانونی تقاضوں کے بغیر بھرتی کیاگیاہے۔ ان دستاویزات کے مطابق محکمہ صحت میں 683، محکمہ تعلیم میں 1782ء پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں 175، بی اینڈ آر میں 1099، محکمہ آبپاشی میں 542 اور محکمہ زراعت میں 296ملازمین کو قوانین کو بالائے طاق رکھ کر بھرتی کیاگیاہے۔

اس کے علاوہ ضلع پنجگور اور کچھی میں 180 ملازمین پر بوگس ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیاہے۔ ان میں محکمہ تعلیم کے 48 اور بی اینڈ آر کے 32 ملازمین شامل ہیں، جبکہ پنجگور، نوشکی ،نصیر آباد، جعفر آباد، صحبت پور اور خاران کے 1276 ملازمین کو غیر منظور شدہ اسامیوں پر بھرتی کیا گیا ہے۔ مانیٹرنگ کمیٹی نے پوسٹنگ کی ایڈجسٹمنٹ تک تنخواہیں روکنے کی سفارش کی ہے ۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے 8 اضلاع کے 62 ہزار 914 میں سے 35 ہزار 807 ملازمین کے تقررناموں سمیت اصل ریکارڈ یعنی ایچ آر فارم ہی غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ان میں نصیر آباد کے 5843، جعفر آباد کے 12120، صحبت پور کے 1600، سبی کے 9305، کچھی کے 6939 ملازمین شامل ہیں، جبکہ خاران اور نوشکی کے دس ہزار ستر ملازمین کے ایچ آر فارم نامکمل پائے گئے ہیں۔ ان پر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر کے دستخط موجود نہیں، جو بہت ضروری ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے ان ملازمین کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ پنجگور ، نوشکی، نصیر آباد، سبی، کچھی خاران کے 208 ملازمین نے اپنی ملازمت دوسروں کے نام منتقل کی ہے۔

1982 ء میں ایک سرکاری ملازم نے ایمپلائمنٹ نمبر 2015 ء میں ایک خاتون کے نام ٹرانسفر کیا۔ اس طرح پنجگور، خاران، نوشکی، جعفر آباد، سبی، کچھی کے ملازمین غیر قانونی طور پر میڈیکل الاؤنس وصول کررہے ہیں، ان کی تعداد 208 ہے۔ بعض اضلاع میں سرکاری ملازمین چھٹیوں کے دوران کنوینس الاؤنس وصول کرتے رہے ہیں۔ 693 اساتذہ نے قومی خزانے کو 35لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔

کمیٹی نے ان سے رقوم واپس لینے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ نصیر آباد، جعفر آباد ، سبی اور خاران میں 2011 ء سے 2016 ء تک تین ارب روپے سے زائد کی رقم کمپیوٹرائزڈ نظام کے باوجود خلاف ضابطہ مینوئل طریقے سے ادا کی گئی ہے۔ جعفرآباد ، نصیر آباد ، صحبت پور ، لورالائی ، سبی ، کچھی اور خاران کے 2125 ملازمین کے شناختی کارڈ کی نادرا سے جانچ پڑتال کی گئی تو ان کی تصدیق نہ ہوسکی، جبکہ سبی میں 3068 ملازمین کے پے رول میں غیر مجاز افراد کی جانب سے تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ مانیٹرنگ کمیٹیوں نے ڈائریکٹر ایم آئی ایس عبدالخالق اور فنانس اکاؤنٹنگ سسٹم کے ایف آئی کنسلٹنگ عرفان نور کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریکارڈ میں تبدیلیوں کا مرتکب پایا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ سبی کے بائیس ملازمین کے پاس شناختی کارڈ نہ ہونے اور چھ ملازمین کے پاس وفاق اور صوبے دونوں کی ملازمتیں ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔

یہ رپورٹ چشم کشا بھی ہے اور عبرت ناک بھی کہ بلوچستان میں ہزاروں ملازمین سرکاری خزانے سے غیر قانونی طورپر بھاری رقومات لے رہے ہیں، جس پر ان کے خلاف اور ان کے افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اس انکوائری رپورٹ کے مطابق محکمہ ایری گیشن میں 41 کمسن بچے ملازمت کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے گزیٹڈ آفیسر سمیت 45 ہزار ملازمین اور پنشنرز کے شناختی کارڈ بوگس ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور ان کے غیر ملکی ہونے کا شبہ بھی۔۔۔ اس انکشاف کے باوجود ان ملازمین کو تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے دور حکومت میں سیکرٹری خزانہ کے گھر کے ایک ایک کونے سے نوٹوں کا خزانہ نکلا تھا اور محکمے کے سیکرٹری، وزیر گرفتار ہیں، جبکہ سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے ایک آفیسر کے گھر سے سونے کی اینٹیں نکلی تھیں، اب وہ بڑے گھر میں ہیں اور مقدمہ بھی چل رہاہے۔ یہ آج کا بلوچستان ہے ۔

مزید :

کالم -