وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر77

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر77
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر77

  

گوگا چند دن تک بمبئی میں رہا۔ اس کی کشتی میں صرف چھ دن باقی رہ گئے تھے۔ان مختصر دنوں میں کیا خاک تیاری ہوئی تھی۔ بھولو کو تو مارے غصے کے تاپ چڑھ گیا تھا۔ وہ لٹھ لے کر گوگا کے پیچھے پڑ گیا۔ بیگم بھولو نے بمشکل گوگا کی گلوخلاصی کرائی۔ گوگا اب خجل خجل سا رہنے لگا تھا۔سب سے چھوٹا تھا اسی لیے سب کو عزیز ترین تھا۔

’’گوگے یار!تم نے کیا مصیبت چھیڑلی ہے۔‘‘ایک دن اکی پہلوان نے گوگے کو بجھا ہوا دیکھا تو پوچھنے لگا۔’’یار پہلوانوں کو اس طرح کے چونچلے اور حرکتیں زیب نہیں دیتیں۔‘‘

’’کیا کروں بھاجی!دل کا معاملہ ہے۔ سمجھانے سے تھوڑی جائے گا۔‘‘گوگا نے اظہار دل بیان کر دیا۔

’’یار ایک شوبھا دیوی بھی تو تھی جو ہم پر مرتی جارہی تھی مگر دیکھو کس صفائی اور ڈھٹائی سے اس سے دامن چھڑایا ہے۔‘‘اکی پہلوان نے کہا۔’’ایمان سے سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے خوف لاحق ہو گیا تھا۔اگر یہ خبر ابا جی کو مل گئی تو کیا بنے گا۔‘‘

’’اب کیا ہو سکتا ہے بھا جی۔‘‘گوگے نے کہا۔’’میں نے عذرا سے وعدہ کرلیا ہے شادی کروں گا تو اسی سے۔‘‘

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر76  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’یہ کیسے ہو سکتا ہے۔وہ ہندوستانی ہے بھلا پاکستان کیسے جا سکے گی اور پھر ہم نے تو19جون کو واپس چلے جانا ہے۔ناں یار کوئی بکھیڑا نہیں ڈال۔‘‘

’’بھاجی میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ خدا گواہ ہے میں اپنی بات سچ کردکھاؤں گا۔اگر عذرا مجھے نہ ملی تو میں۔۔۔

’’یار گوگے۔۔۔‘‘اکی نے سمجھایا۔’’کوئی ایسی ویسی بات نہ منہ سے نکالنا۔اگر دل کا بخار تیرے دماغ پر چڑھ گیا ہے تو پھر کچھ علاج تو کرنا ہی پڑے گا۔ بہرحال پہلے اپنی کشتی کی تیاری تو کرلے۔ پرسوں کشتی ہے اور تو مجنوں بنا بیٹھا ہے۔‘‘

’’فکر نہ کرو میں کشتی ہاتھ سے جانے نہ دوں گا۔‘‘گوگے نے یقین سے کہا۔’’میں تیاری میں ہوں۔‘‘

یہ تپتے دنوں کی بات ہے۔ سورج آسمان پر پوری تابانی سے جلوے دکھا رہا تھا۔ زمین کے باسی اس کی تپش سے جھلس رہے تھے۔ دعائیں کی جارہی تھیں کہ موسم ٹھنڈا ہو جائے۔ کولہا پور کی سرزمین ریتلی ہے۔گرمی کے دنوں میں بھٹی پر رکھی ریت کی طرح تپ جاتی ہے۔ پاؤں رکھنا محال ہوتا ہے۔ ہاتھوں میں پکڑیں تو چھالے بنا ڈالتی ہے۔ ایسے سمے میں کشتی جیسا کھیل تو زندگی اور موت کی چومکھی بن جاتا تھا۔ اب تو سخت گرمیوں میں کولہا پور میں کشتیاں نہیں ہوتیں مگر ان دنوں خالص لوگوں کی بے باکیاں حدوں کو چھو کر ایسے ہی کارنامے انجام دیتی تھیں۔ اس روز دوپہر تک موسم خوب گرم تھا مگر جوں جوں دوپہر ڈھل رہی تھی مطلع ابر آلود ہوتا جارہا تھا۔پھر جب کشتی شروع ہوئی تو آسمان برسنا شروع ہو گیا تھا۔ بارش میں کشتیاں جاری رہیں۔ گوگا اور صادق سائیکل والا کو اکھاڑے میں بلایا گیا تو دونوں کے تیل میں چپڑے بدن پر بارش کا پانی شبنمی قطروں کی طرح جم گیا تھا۔ کشتی ہوئی تو گوگا نے صادق کو پندرہ بیس منٹ میں گرادیا۔

کولہا پور کے بعد پونہ، کانپور،حیدر آباد دکن، لکھنؤوغیرہ میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑنے کے بعد بھولو برادران نے وطن واپسی کے لیے کمر باندھ لی۔ رخصت کے چند روز قبل گوگے نے پھر کام کر دکھایا اور راتوں رات غائب ہو گیا۔ اس نے عذرا سے سول میرج کرلی اور عذرا کو لے کر پاکستان کی طرف روانہ ہو گیا تھا مگر پکڑا گیا۔ بھولو پہلوان کو خبر ہو گئی۔ بڑی رازداری سے گوگے کو تھانے سے چھڑایا گیا لیکن یہ خبر پھیل گئی۔پاکستانی اخبارات نے خوب مرچ مصالحہ سے یہ خبر شائع کی۔ بھولو نے گوگے کو نتھ ڈال کر رکھ دی اور اس پر پہرہ بٹھا دیا کہ اب یہ ذرا بھی حرکت کرے تو اس کی چمڑی ادھیڑ کر رکھ دی جائے۔ نمونے کے طور پر بھولو نے گوگے کی مرمت بھی کر دی۔ اس موقع پر بیگم بھولو نے بھولو پہلوان کو سمجھایا۔

’’آپ ذرا ہاتھ ہلکار کھیںٖ!گوگا بچہ تو نہیں۔آگے سے اکڑ گیا تو کیا عزت رہ جائے گی۔‘‘

’’عزت!‘‘ بھولو کی بھنویں تن گئیں۔ ’’بیگم صاحبہ گوگے نے پہلے کون سی عزت رہنے دی ہے۔ آپ نے شاید سنا نہیں اخبارات کیا گند پھیلا رہے ہیں۔ اس دن سے پہلے مجھے موت آجاتی تو اچھا تھا۔ جاکر ابا جی سے کیا کہوں گا۔‘‘

’’حوصلہ رکھیں میں خود گوگے کو سجھا دوں گی۔‘‘

’’نہیں تم نہ سمجھاؤ۔اب خود ہی سمجھ جائے گا۔‘‘بھولو پہلوان نے کہا۔

’’آپ تو ضد پر اتر آئے ہیں۔پیار محبت سے سمجھائیں گے تو سمجھ جائے گا۔‘‘

’’پیار محبت۔‘‘بھولو زہر خند ہو کر بولا۔’’ہاں واقعی وہ اب اس کے علاوہ کوئی اور زبان سمجھنے سے رہا۔‘‘

بیگم بھولو نے اپنے سرتاج کو سمجھا بجھا کر اس بات پر راضی کر لیا۔’’اگر گوگا عذرا سے شادی کر چکا ہے تو آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ کوئی حل نکالیں تاکہ معاملہ سلجھ جائے۔‘‘

’’خیر کچھ کرتا ہوں۔‘‘بھولو رضا مندہو گیا۔‘‘مگر اس کا حل پاکستان جاکر ہی نکلے گا۔‘‘

بھولو نے گوگے کی خاطر عذرا کے گھر والوں سے رابطہ کیا اور انہیں مثبت امید رکھنے کا کہہ کر واپس آگیا۔ رخصت سے ایک دن قبل بھولو برادران کی بمبئی میں کنول سنگھ بیدی کے ہاں دعوت عصرانہ تھی۔ ایک ٹھیکیدار نے بھولو پہلوان کو نورا کشتی لڑنے کے عوض دو لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا۔

بھولو ٹھیکیدار کی بات سن کر تڑپ اٹھا مگر بڑے صبر سے بولا۔’’ٹھیکیدار جی!ہم نورا کشتی نہیں لڑ سکتے۔ کسی اور کو تلاش کریں۔‘‘

’’مگر ہمارا مہان پہلوان آپ سے ہی کشتی کرنے کا خواہشمند ہے۔ اس کی طرف سے یہ آفر دے رہاہوں۔‘‘

’’وہ سورما کون ہے؟‘‘بھولو نے کہا۔’’میں نہیں سمجھتا کہ وہ مہان پہلوان ہو گا۔ دو لاکھ میں ایک کشتی جیتنے والا پہلوان کیسے ہو سکتا ہے۔ ہاں میں اپنی طرف سے ایک لاکھ دوں گا اگر وہ میرے مقابلہ پر آجائے اور ایک منٹ تک ٹھہر جائے۔‘‘

ٹھیکیدار حرکت میں آگیا اور’’پردہ نشین‘‘پہلوان کو بھولو پہلوان کا پیغام بھجوایا مگر کوئی پیغام نہ آیا۔پاکستان جاتے ہوئے بھولو نے ٹھیکیدار سے کہا۔’’اب تو ہم جارہے ہیں اگر آپ کے پہلوان صاحب رضا مند ہو جائیں تو خبر کر دیجئے گا۔ میں چلا آؤں گا۔‘‘

پہلوان پاکستان پہنچے تو انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔البتہ گوگا نظریں چراتا چھپتا چھپاتا گھر پہنچا۔ امام بخش اس کی سرزنش کرنے کی بجائے ملائمت سے پیش آیا۔چند دنوں بعد عذرا کو پاکستان میں لانے کے لیے سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔چند ہفتے بعد یہ کوشش رنگ لائی۔ لاہور میں عذرا چوہدری کا ایک بھائی رہتا تھا۔عذرا بھائی کے پاس پہنچ گئی۔1961ء میں اس کی باقاعدہ رخصتی ہوئی اور یوں گاگا کے دل کو قرار مل گیا۔

***

بھولو پہلوان کی شادی کو بارہ تیرہ برس بیت چکے تھے۔ ابر رحمت اس کے گھر پر سایہ فگن تھا۔ کسی چیز کی کوئی کمی نہ تھی مگر اولاد کی نعمت سے محروم تھا۔ میاں بیوی میں غایت درجہ محبت تھی۔ ایک دوسرے کو خوش رکھنے میں دونوں میں کامل شعور تھا۔ بھولو پہلوان نے اولاد کی محرومی کا شکوہ اپنی بیگم سے کبھی نہ کیا۔ البتہ بیگم بھولو اکثر رنجیدہ ہو جایا کرتی تھی۔

بھولو بڑا شاکر تھا۔ وہ بیگم کو مشیت ایزدی کا فلسفہ سمجھاتا اور کہتا۔

’’بیگم اگر خدا نے اولاد نہیں دی تو اس کی مرضی ہے۔ اس پر ہمارا زور تو نہیں ہے۔‘‘

’’میں تو دعائیں کرتی ہوں۔ دوائیں کھاتی ہوں۔نذرانے کرتی ہوں۔چڑھاوے چڑھاتی ہوں۔یا الٰہی ہمارے سونے آنگن میں پھول کھلا دے۔ میرا دل تو غم سے بھرتا جارہا ہے سرتاج ۔سنا ہے دکھی دل کی دعا رب ضرور سننتا ہے۔ میں تو پہروں سے یاد کرتی ہوں مگر یہ تو نصیبوں کی بات ہے۔شاید میں ہی نصیبوں جلی ہوں۔‘‘

’’ناں بھئی۔ایمان کی بات تو یہ ہے کہ تم نصیبوں جلی نہیں ہو۔‘‘بھولو کہتا۔’’میں تو شکر کرتا ہوں کہ تم جیسی بیوی ملی ہے اور ایک تو ہے کہ بلاوجہ دکھی رہنے لگی ہے۔ میں نے تم سے کبھی شکوہ کیا ہے کہ اولاد کیوں نہیں ہوتی۔ جب میں کچھ نہیں کہتا تو تمہیں بھی رنجیدہ نہیں رہنا چاہیے۔‘‘

’’کیا کروں سرتاج؟‘‘بیگم بھولو کہتی۔۔۔’’دل پر تو اختیار نہیں ہے ناں۔‘‘

’’میں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘بھولو نے کہا۔

’’کیا؟‘‘

’’گوجرانوالہ جاؤں گا اور اپنا نومولود بھانجا ناصر لے آؤں گا۔‘‘بھولو نے کہا۔’’بہن سے کہہ کر گود لے لیں گے۔‘‘

’’وہ مان جائیں گے۔‘‘

’’مانیں گے کیوں نہیں۔بہن ہے میری۔بھائی کی خوشی کے لیے کیسے بات ٹال سکے گی۔‘‘

چند دنوں بعد بھولو بیگم کے ساتھ گوجرانوالہ روانہ ہو گیا اور شیر خوار ناصر کو ساتھ لے آیا۔ بھولو نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا اور اسے ناصر بھولو کا نام دے دیا۔ بیگم بھولو کو بچے کی موجودگی میں قرار سا آگیا۔ وہ اب ناصر بھولو کی دیکھ بھال میں مگن ہو گئی۔

بھولو عمر عزیز کی چالیسیویں سیڑھی پر قدم جما چکا تھا مگر اسے من کی آشا نہیں مل رہی تھی۔ گاماں پہلوان کی رحلت کے بعد بھولو کی رستم زماں بننے کی خواہش روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔ اس نے پاک و ہند اور دنیا بھر کے پہلوانوں کو چیلنج دے دیا تھا مگر کسی کی طرف سے بھی جواب نہیں آرہا تھا۔ یہ بھولو کے فن و طاقت کی دہشت کا عالم تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے شاہ زور اس مقابلہ کرنے سے کترا رہے تھے۔ پھربھولو پہلوان نے جب اپنے چینلج میں انعام ترمیم کرکے دوبارہ یہ کہا کہ دنیا بھر سے جو بھی پہلوان اس سے ٹکرائے گا اور چت کرے گا،بھولو اسے منہ مانگا انعام دے گا لیکن اس بار بھی کوئی پہلوان بھولو کے مقابلہ پر نہ آیا۔ انہی دنوں صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خاں نے بھولو پہلوان کو ملاقات کے لیے بلایا۔ بھولو نے صدر پاکستان سے کہا۔’’بندہ پرور پہلوانی دم توڑ روہی ہے۔ اپنے محکمے سے کہیں ہماری کشتیاں باندھی جائیں۔‘‘

’’ہماری بھی یہی خواہش پہلوان جی!‘‘صدر پاکستان نے کہا۔’’ہم چاہتے ہیں کہ آپ دنیا بھر کے پہلوانوں کو مات دیں اور پاکستان کا نام روشن ہو۔عنقریب آپ کو خوش خبری سنائیں گے۔‘‘اس دوران صدر پاکستان نے بھولو سے پوچھا۔’’پہلوان جی میں نے سنا ہے آپ نے اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کرادیا ہے۔‘‘

’’ہاں حضور مجبوری ہے‘‘بھولو نے کہا۔’’سرپرستی کوئی نہیں کرتا، ہم نے اپنی نسل کو بھوکوں تو نہیں مارنا۔‘‘

’’پہلوان جی یادرکھیں!اگر آپ کے خاندان سے پہلوانی ختم ہو گئی تو پاکستان کے اکھاڑے سنسان ہو جائیں گے۔ کوئی بڑا پہلوان پیدا نہ ہوسکے گا۔ آپ بچوں کو سکولوں سے اٹھائیں اور انہیں اکھاڑوں کی تعلیم دیں۔ یہ ملک کے لیے بڑا احسان ہو گا۔ میں آپ لوگوں کی کفالت کے لیے کچھ کرتا ہوں۔‘‘

صدر ایوب نے بھولو پہلوان کو ایک لاکھ روپے کاروبار کے لیے دیئے۔ بھولوپہلوان کاخاندان جو معاشی بوجھ تلے دب رہا تھا کچھ مستحکم ہوا۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر78 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں