پی ٹی آئی کے فیصلے اور دلی اجاڑنے والے

پی ٹی آئی کے فیصلے اور دلی اجاڑنے والے
پی ٹی آئی کے فیصلے اور دلی اجاڑنے والے

  

ہندوستان کے مشہور مسلمان حاکم سلطان محمد تغلق اپنے لاابالی پن اور متلّون مزاجی کے حوالے تاریخ میں ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ان کا دورغیرحقیقت پسندانہ ، ناقابل فہم اور ناقابل عمل سیاسی اور انتظامی فیصلوں سے بھرا ملتا ہے۔ محمد تغلق نے منگولوں کے مسلسل حملوں سے تنگ آکر ایک صبح اعلان کردیا کہ اب ہندوستان کا دارالخلافہ دلی نہیں بلکہ یہاں سے 1500 کلومیٹر دور ہندوستان کے وسط میں واقع دولت آباد ہوگا۔ مطلق العنان اور متلون مزاج سلطان نے مزید حکم دیا کہ صرف میں اور میرا دربارہی نہیں بلکہ دلی کے تمام باسی بھی اپنے ڈھور ڈنگر سمیت دولت آباد منتقل ہوجائیں، سرتابی کی مجال نہ تھی، مرتے کیا نہ کرتے، دلی سے لاکھوں افراد نے دولت آباد کا رخت سفر باندھا ، سینکڑوں راستے میں ہی بیماریوں اور آفات کے ہاتھوں مارے گئے۔ کئی ماہ بعد سلطان نے پھر اچانک دولت آباد کو خیرباد کہنے اور سب لوگوں کو دلی واپس پہنچنے کا شاہی فرمان جاری کردیا۔ مورخین لکھتے ہیں اس دوران دلی کا خوبصورت شہر کھنڈر کا منظر پیش کررہا تھا۔ گھر گلیاں بازار، بندروں کتوں بلیوں کا مسکن بن چکے تھے۔

گورنر پنجاب چودھری سرور کی سینئیر صحافیوں کیساتھ بیٹھک میں ہونے والی گفتگو میں مجھے سلطان محمد تغلق کا وہ شاہی فرمان بڑی شدت سے یاد آیا، تحریک انصاف کی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، اور تمام گورنر ہاؤسز کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کردیا جائے گا۔ اب برسراقتدار آکر اس سلسلہ میں بنائی گئی شفقت محمود کمیٹی نے اپنی سفارشات بھی پیش کردی ہیں۔ اسی تناظر میں سندھ اور پنجاب کے گورنر ہاؤسز کو جزوی طور پر عوام کے لئے کھولا جاچکا ہے۔ پنجاب کے لئے وفاقی حکومت کی ایک عمارت چنبہ ہاؤس کو نیا گورنر سیکرٹریٹ تجویز کیا گیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چنبہ ہاؤس ارکان پارلیمنٹ کے لئے لاہور میں قیام گاہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے ،مشرف دور میں یہ عمارت نیب کو پسند آگئی اور یہ ایک "تفتیش خانہ" بن گیا۔ اس عمارت کا بھی وہی حال کردیا گیا جو ہتھے چڑھنے والے کرپٹ لوگوں کا کیا جاتا ہے، چند سالوں میں یہ پرشکوہ عمارت ایک بھوت بنگلہ بن کر رہ گئی۔ اسے خالی کیا گیا تو یہ اس قدر تباہ حال ہوچکی تھی کہ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ نے اس کی مرمت اور بحالی کے لئے کروڑوں روپے کا بل نیب کو بھجوا دیا، انہیں نہیں معلوم تھا کہ نیب صرف لیتا ہے دیتا نہیں۔

.

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی مرمت کے لئے کم از کم دس کروڑ روپے درکار ہیں۔ گورنر پنجاب صحافیوں کو بتا رہے تھے کہ ان کی حکومت نے یہ گورنر ہاؤس خالی کرنے اور اسے میوزیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے، گورنر نے بتایا گورنر ہاؤس لاہور کا سالانہ خرچ ایک کروڑ 30 لاکھ ہے تو وہاں موجود تمام صحافیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کیونکہ یہ انکشاف خود تحریک انصاف کے اپنے ہی کئی ایسے دعووں کی نفی کررہا تھا کہ گورنر ہاؤس پر ہر ماہ کروڑوں کا بجٹ خرچ ہوتا ہے۔ گورنر ہاؤس میں گورنر کا صرف ایک بیڈ روم اور ایک ڈرائینگ روم ہے جبکہ یہاں صدر مملکت کے لاہور میں قیام کے لئے ایک کمرہ جبکہ ایک کمرہ کسی بھی مہمان لئے مختص ہے، باقی تمام بلڈنگ گورنر سیکرٹریٹ ہے جہاں گورنر کا سٹاف پنجاب کی تمام یونیورسٹیز، صوبائی محتسب سمیت قانون سازی کے ضروری امور انجام دیتا ہے۔

معلوم نہیں تحریک انصاف کو کس افلاطون نے یہ مشورہ دیا کہ گورنر ہاؤس کو یہاں سے منتقل کرنے ہی سے انقلاب ظاہر ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک گورنر ہاؤس ختم کرکے دوسرا گورنر ہاؤس بنانے سے کون سا انقلاب آجائے گا۔ جب کہ نئے گورنر ہاؤس کو تیار کرنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔ اور پھر یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ چنبہ ہاؤس انتہائی تنگ گلی اور گنجان آبادی میں گھری ہوئی عمارت ہے۔ وہاں جب آئے روز اعلی سطح کے اجلاس ہوں گے تو اس سے پورے علاقے میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ جائیں گے۔ سکیورٹی خطرات اس کے علاوہ ہوں گے۔ گورنر ہاؤس کو یہاں سے تبدیل کرنے میں نہ صرف کروڑوں روپے درکار ہوں گے بلکہ اس کے لئے ممکن ہے نئے سرے سے قانون سازی کرنا پڑے۔ اور پھر یہ بھی بعید نہیں کہ ہم جس طرح کے حالات میں رہ رہے ہیں ان میں کب سکیورٹی کے ادارے اس فیصلے کو واپس لینے کا کہہ دیں۔

اور پھر گورنر تمام سامان اٹھائے واپس گورنر ہاؤس منتقل ہونے پر مجبور ہو جائے۔ یہ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ آنے والی حکومت بھی اس فیصلے کو برقرار رکھے گی یا نہیں۔ ماضی میں نون لیگ میں بھی شہبازشریف نے اپنے روایتی جذباتی انداز سے مجبور ہوکر انتخابی مہم میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن سیکیورٹی ایشوز کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے بلکہ لاہور میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹس کی تعداد تین سے بڑھ کر پانچ ہوگئی۔

مجھے یقین ہے کہ ان تمام سوالات کا گورنر پنجاب سمیت کسی بھی لیڈر کے پاس جواب نہیں ہو گا۔ اور وہ محض الیکشن میں اپنے لگائے ہوئے جذباتی اور غیر حقیقت پسندانہ نعروں کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ جذباتی فیصلوں کی بجائے حقیقت پسندانہ انداز سے آگے بڑھے جس طرح اس نے قاف لیگ، نون لیگ، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے لوگوں کو تحریک انصاف میں شامل کیا انہیں اپنی کابینہ کا حصہ بنایا اسی طرح دورحاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے قابل عمل پالیسیاں اختیار کرے۔ حکومت کا یہی طرز عمل ہے جس کی وجہ سے بعض سیانوں کا کہنا ہے کہ مرکز اور پنجاب سمیت تین صوبوں میں حکومت، اپنا صدر منتخب کروانے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت بڑی مضبوط ہوگئی ہے، اس کے مقابلے میں اپوزیشن مختلف گروپوں میں بٹی ہوئی ہے۔ یہ کسی بھی حکومت کیلئے آئیڈیل حالات ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو بیرونی طور پرکسی سے کوئی خطرہ نہیں، خطرہ ہے تو اسے خود تحریک انصاف کے انداز حکمرانی سے ہی ہوگا۔ سلطان محمد تغلق سے تو اس کے ایڈونچر بارے پوچھنے کی کسی کو جرات نہیں تھی۔۔۔ معلوم نہیں تحریک انصاف میں کیا صورتحال ہے۔

مزید :

رائے -کالم -