فپواسا کا یونیورسٹیز میں غیر قانونی تعیناتیوں کیخلاف جنرل باڈی اجلاس

فپواسا کا یونیورسٹیز میں غیر قانونی تعیناتیوں کیخلاف جنرل باڈی اجلاس

  

پشاور( سٹی رپورٹر)فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن (فپواسا ) خیبر پختونخوا کا یونیورسٹیز میں درپیش مالی بحران اور وائس چانسلرز کی ت غیر قانونی تعیناتےاں اور دیگر تحفظات کے حوالے سے گزشتہ روز یونیورسٹی اف انجنیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس کی صدارت ڈاکٹر سرتاج عالم نے کی جبکہ اجلاس میں صوبہ بھر کے یونیورسٹیوں کے ایسوسیشنز نے شرکت کی-اجلاس میں اساتذہ کرام کے نمایندہ ایسوشینز نے صوبائی حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں میں درپیش مسائل پر چشم پوشی پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ یونیورسٹیوں میں مالی بحران شدید ہو چکا ہے جسکی وجہ سے اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبا میں بھی مایوسی بڑھ رہی ہے- اجلاس میں صوبائی حکومت کی جانب یونیورسٹیوں میں بے جا سیاسی اور انتظامی مداخلت پر سخت تنقید کی گئی بالخصوص اسلامیہ کالج یونیوررسٹی پشاور میں غلط طریقے سے وائس چانسلر کی تعیناتی کو بالکل مسترد کرتے ہے جبکہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلرکی تعیناتی بھی یونیورسٹی ایکٹ کے خلاف قرار دے دی جو حکومت کےلئے باعث شرمندگی ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گےا ہے کہ صوبائی حکومت یونیورسٹیز میں مالی بحران کو ختم کرنے اور مختلف یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کی ااسامےاں خالی ہونے کے بعد ان اسامیوں پر یونیوررسٹی ایکٹ سیکشن (3)12 کے عین مطابق اسامیوں کو مشتہر کیا جائے بصورت دیگر نمائندہ یونیورسٹیز تنظیموں کے ساتھ مل کر چار اکتوبر کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دینگے ۔واضح رہے کہ فپواسا کی طرف سے کلاسز کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان طلباءکے وسیع تر مفاد میں کیا گےا ہے جبکہ اساتذہ احتجاجی طور پر کالی پٹےاں بندے رکھیں گے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -