مسئلہ کشمیر کا حل ایٹم بم نہیں انسانی حقوق کیلئے جنگ ہے،محمد علی درانی

مسئلہ کشمیر کا حل ایٹم بم نہیں انسانی حقوق کیلئے جنگ ہے،محمد علی درانی

  

لاہور(خصوصی رپورٹ)سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ بھارت کا ایٹم بم کشمیر کی آزادی کو نہیں روک سکتا،مسئلہ کشمیر کے حل میں ایٹم بم کا کوئی رول نہیں، دنیا میں ظلم اور غلامی کے خاتمے کی جنگیں انسانی حقوق اور جذبہ آزادی کے ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان ملک کے تمام شہریوں کے لیے بنیادی فوجی تربیت کو لازمی قرار دے۔ 22کروڑ پاکستانیوں کو فوجی تربیت دے کر“امن فورس”قائم کی جائے اور اقوام متحدہ اس امن فورس کو کشمیر میں امن قائم کرنے کے لیے تعینات کرے۔سابق سینیٹرمحمد علی درانی نے مطالبہ کیا کہ 2020 کو کشمیر کا عالمی سال قرار دیا جائے۔ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں“مسئلہ کشمیر، ممکنہ حل، توقعات اور خدشات”کے عنوان سے ہونے والے گول میز مباحثے سے خطاب کررہے تھے۔ محمد علی درانی نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہورہی ہے۔مودی کے اقدامات سے بھارت کو نقصان پہنچا ہے، وہ کشمیری سیاستدان جو کشمیر میں بھارت کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے تھے، وہ بھی آج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ کشمیری جو بھارت کے ساتھ الحاق کی بات کرتے تھے انہوں نے اپنے اس عمل کی معافی مانگی ہے اور خود کو غلط قرار دے کر“کشمیر بنے گا پاکستان”کی حمایت کی ہے۔370 اور 35-Aیہ ہمارے ایشوز نہیں ہمارا ایشو کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد ہے۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی کشمیر پر قرارداد جوUN Chapter 6 کے تحت ہے اس کو UN Chapter7 میں تبدیل کیا جائے اور اقوم متحدہ chapter 7کے تحت کشمیر میں بھارت کے قبضے اور جبر کے خاتمے کے لیے اپنی فورسز کو استعمال کرے۔ اگر اقوام متحدہ Chapter 7کا استعمال افغانستان میں کرسکتی ہے تو کشمیر میں کیوں نہیں؟انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا فلیش پوائنٹ ہے۔ملحقہ سرحدوں والے ممالک کے پاس ایٹمی جنگ کا آپشن نہیں ہوتا۔بھارت کا ایٹم بم کشمیر کو غلام نہیں رکھ سکتا۔جس طرح روس کے ہزاروں ایٹم بم اس کو ایک ملک کے طور پر متحد نہیں رکھ سکے بھارت کا ایٹم بم بھی بھارت کو متحد نہیں رکھ سکے گا اور نہ ہی کشمیریوں کو آزاد ہونے سے روک سکے گا۔مسئلہ کشمیر کا حل ایٹم بم نہیں انسانی حقوق کے لیے جنگ ہے۔محمد علی درانی نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو بنیادی فوجی تربیت دی جائے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسا کہ آج کی جدید دنیا میں کئی ممالک اپنے تمام شہریوں کے لیے لازمی فوجی تربیت مہیا کرتے ہیں، پاکستان بھی اپنے شہریوں کے لیے فوجی تربیت کا اہتمام کرے۔محمد علی درانی نے اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جس طرح 2014 کو فلسطین کا سال قرار دیا گیا تھا 2020 کو کشمیر کا عالمی سال قرار دیا جائے۔2020 کشمیر کی آزادی کا سال ہے۔

علی درانی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -