ایکسائز انسپکٹر مزمل نے اغواء کے بعد بداخلاقی‘ نکاح باالجبر کیا‘ مریم یوسف

  ایکسائز انسپکٹر مزمل نے اغواء کے بعد بداخلاقی‘ نکاح باالجبر کیا‘ مریم ...

  

ملتان ( نیوز رپورٹر) محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس ملتان کے انسپکٹر مزمل شہزاد اور انسپکٹر مریم کا دفتر سے اچانک تین روز غائب رہنے اور بعد ازاں دونوں کا ایکسائز دفتر پہنچ کر مشترکہ پریس کانفرنس میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا اعلان کرنے کے بعد گذشتہ روز پریس کلب ملتان میں انسپکٹر ایکسائز مریم نے اپنے والد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسے انسپکٹر مزمل شہزاد نے 15 ستمبر 2019ء اپنی بیوی کے(بقیہ نمبر17صفحہ12پر)

ذریعے گھر سے باہر بلا کر پر اغواء کیا گیا جس کے بعد مجھے ڈی جی خان میں تعینات ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندر کی رہائش گاہ پر لے جایا گیا اور مجھ سے زبردستی بداخلاقی کی گئی اور بعد ازاں بالجبر نکاح کیا گیا اور پھر اسلحہ کے زور پر عدالت میں بیان بھی دلوایا گیا مزمل شہزاد نے 20 ستمبر تک اپنے پاس رکھا جبکہ نکاح کی تاریخ 31 اگست 2019ء ڈالی گئی میڈیا میں ہمارے غائب ہونے کی خبروں کی وجہ سے مزمل شہزاد مجھے ملتان لے آیا اور یہ اعلان کردیا کہ مریم میری بیوی ہے جو کہ سراسر جھوٹ ہے انسپکٹر مریم نے مزید کہا کہ اس نے خلع کے لئیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے جس کی وجہ سے اب انسپکٹر مزمل شہزاد اس کی اہلیہ اور شیخ سکندر مجھے اور میرے خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں انہوں نے چیف جسٹس اف پاکستان سے جان و مال کے تحفظ اور مزمل شہزاد و اہلیہ اور شیخ سکندر کے خلاف ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور وزیر اعلی پنجاب آئی جی پنجاب سمیت اعلی حکام سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثنا ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ملتان عبداللہ خان نے کہا ہے انسپکٹر مریم کی جانب سے انسپکٹر مزمل کے خلاف دی گئی درخواست پر عملدرآمد کرتے ہوئے انسپکٹر مزمل کو پیڈا ایکٹ کے تحت معطل کرکے شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے اور ان دونوں اہلکاروں کے مابین معاملات کی تہہ تک پہنچ کر حقائق جاننے کے لئیے باقاعدہ ای ٹی او شیخ عارف اور انسپکٹر قاسم سعیدی پر مبنی دو رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ وقوعہ میری ملتان تعیناتی سے قبل رونما ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بحیثیت ڈائریکٹر درخواستگزار مریم کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے اور اس ضمن میں ای ٹی او ایڈمن خالد حسین قصوری کو بھی ہدایت کردی ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری ٹیم 60 روز کے اندر رپورٹ کرنے کی پابند ہے تاہم شہادتیں اور دیگر ثبوت ملنے پر رپورٹ جلد بھی آسکتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ محکمانہ کاروائی کے علاوہ انسپکٹر مریم دیگر ہراسمنٹ کے حوالے سے موجود فورم سے بھی رجوع کرسکتی ہیں۔جبکہ ایکسائز انسپکٹر مزمل شہزاد نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ میری بیوی مریم بتول نے آج پریس کلب ملتان میں اپنے والد یوسف شاہ  کے ہمراہ میڈیا نمائندوں سے بات چیت کی ہے اس کے بارے میں میرا موقف بڑا واضح ہے کہ میں اپنے خدا کو حاضر ناظر جان کر کے بیان دے رہا ہوں کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ میں نے روبرو گواہان شریعت کے مطابق نکاح کیا ہے۔ وہ کل بھی میری بیوی تھی وہ آج بھی میری بیوی ہے۔ میری حکام بالا سے گزارش ہے کہ مریم بتول  کو اس کے والد کے جبر اور تسلط سے الگ کر کے آزادانہ ماحول میں بیان لیا جائے۔ ہم نے جو نکاح کیا باہمی رضامندی سے کیا۔ کسی قسم کا کوئی جبر دھونس یا پریشر نہیں تھا۔اس سلسلے میں اس بات کی بھی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ نکاح کے بعد میری بیوی مریم بتول نے اپنے والد، اپنے بھائیوں اور اپنی والدہ سے انتہائی مؤدبانہ گزارش کی کہ میں نے مزمل شہزاد سے نکاح کرلیا ہے لہذا اسے باعزت طور پر رخصت کر دیا جائے لیکن  اس کے والد کی ہٹ دھرمی آڑے آگئی۔ اور یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ مریم بتول اپنے دو بھائیوں کی موجودگی میں اپنے گھر سے میرے ساتھ رخصت ہوئی تھی۔ میں   اس مقدس رشتے کے احترام میں کسی کی ذات پر کیچڑ نہیں اچھالنا چاہتا۔اس کے والد کا احترام کرتا ہوں۔ انسپکٹر ایکسائز ملتان سیدمریم بتول شاہ پر ایکسائز انسپکٹر مزمل شہزاد کی جانب سے ا غواء، آبروزیزی اور غیر اخلاقی اقدام کے حوالے سے ایپکا ایکسائز یونٹ کا خصوصی مذمتی اجلاس صدر ملک عبد المجید نانڈلہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں چیئر مین احسان خان سدوزئی، جنرل سیکرٹری چوہدری نیاز احمد ڈھلوں، ملک الطاف حسین، ریحان فاروق جاٹ، یونس خان، حسن عباس، زوہیب ظفر، طاہر عباس سندیلہ، زمن خان، اکرم ڈھلوں و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک عبد المجید نانڈلہ، احسان خان سدوزئی اور چوہدری نیاز احمد ڈھلوں نے ایکسائز آفس میں پیش آنے والے اس واقعہ کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ادارے کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر متوقع وقوعہ کے بعد نہ صرف میل سٹاف بلکہ فی میل سٹاف میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں ا فسرن بالا سے مطالبہ کیا گیا ہے متاثرہ لیڈی ایکسائز انسپکٹر مریم بتول کی مکمل سپورٹ کی جائے اور اس واقعہ کے مرکزی کردار مزمل شہزاد اور جو بھی ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔

ایکسائز انسپکٹر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -