سار کووزرائے خارجہ کانفرنس، شاہ محمودکا جارحانہ اقدام، بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

      سار کووزرائے خارجہ کانفرنس، شاہ محمودکا جارحانہ اقدام، بھارتی ہم منصب ...

  

نیویارک(آن لائن،امانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سارک وزرائے خارجہ کانفرنس میں بھارتی ہم منصب شنکر کی تقریر کا بائیکاٹ کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس کے موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی ہم منصب جے شنکر کی تقریر کا بائیکاٹ کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ کشمیر کے قصاب سے بات کرناتو دور اس کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ بھارت کے ہاتھ معصوم کشمیوں کے خون سے رنگے ہیں بھارت پہلے مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کروائے اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آئندہ سارک سربراہ اجلاس اسلام آباد میں ہونا طے پایا ہے۔ بھارت نے گزشتہ برس کی طرح اس بار اجلاس پر اعتراض نہیں کیا۔ نیو یارک میں سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تمام سارک ممالک کو اجلاس کی دعوت دی اور آئندہ سارک ممالک کے سربراہ اجلاس پاکستان میں ہونا طے پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بھارت نے اعتراض کیا تھا تاہم اس بار خاموشی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا۔ بھارت نے غیر آئینی طریقے سے بزور طاقت متازعہ علاقے کو شامل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے 5اگست کے اقدام کے خلاف بھارت میں بھی تنقید ہورہی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ میں 14درخواستیں دائر ہوچکی ہیں جبکہ کشمیر کا ہر طبقہ بھارتی اقدام کو مسترد کرچکا ہے۔ قبل ازیں گلف کونسل برائے تعاون(جی سی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ہماری حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دے رہی ہے،پاکستان ایف اے ٹی ایف اہداف کی تکمیل کیلئے سنجیدگی سے عمل پیرا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ہماری حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک سے برادرانہ تعلقات کا فروغ خارجہ پالیسی کا اہم پہلو ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جی سی سی ممالک میں دوطرفہ تعاون کیلئے پرعزم ہے، پاکستان اورخلیجی ممالک میں مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی ہم آہنگی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دوطرفہ تجارتی، اقتصادی تعاون میں خاطرخواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے، پاکستان ایف اے ٹی ایف اہداف کی تکمیل کے لیے سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی معاونت پرجی سی سی کے شکرگزار ہیں، آئندہ ماہ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بھی جی سی سی کی معاونت درکارہوگی۔انہوں نے کہا کہ فری ٹریڈ معاہدے سے متعلق جی سی سی کے ساتھ 2 ادوار مکمل ہوچکے، فری ٹریڈ معاہدے کا حتمی دور بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ہماری حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دے رہی ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ جی سی سی ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے مستفید ہوسکتے ہیں، پاکستان میں توانائی کی ضرورت روز بروز بڑھ رہی ہے، خلیجی ممالک کے لیے قابل تجدید توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر سے ملاقات کی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں قیام امن کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔مزید برآں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن سے ملاقات کی جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کیلئے مشاورتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بحرین کے ہم منصب شیخ خالدبن احمدبن محمدالخلیفہ سے ملاقات کی، جس میں کشمیر میں جاری انسانی حقوق خلاف ورزیوں سمیت باہمی دلچسپی کیامور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بحرین کے وزیر خارجہنے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ بحرین کے منتظرہیں۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے جنیوا ہیومن رائٹس کونسل کے مشترکہ بیانیہ کی حمایت پر بحرین کاشکریہ ادا کیا۔مزید برآں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے برطانوی وزیر لارڈ طارق احمد آف ویمبلڈن سے ملاقات کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال،انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں،سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانوی وزیر لارڈ طارق احمد نے کہاکہ برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کے تحفظات بھی ہم تک پہنچ رہے ہیں اور ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔وزیر خارجہ نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے برطانوی معاونت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

شاہ محمود قریشی

مزید :

صفحہ اول -