خسارے میں کمی سے معاشی استحکام آچکا، افراط زر بھی نیچے لائیں گے،خسرو بختیار

خسارے میں کمی سے معاشی استحکام آچکا، افراط زر بھی نیچے لائیں گے،خسرو بختیار

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں اس وقت استحکام آچکا ہے، کرنٹ اکاونٹ خسارہ 45 فیصد کم ہو گیا ہے، غیر ملکی ذخائر 9.8 ارب ڈالرسے بڑھ کر13.9 ارب ڈالر پر آچکے ہیں، گزشتہ 2ماہ میں پاکستان کا ریونیو ٹارگٹ 35 فیصد بڑھا ہے، افراط زر کو نیچے لے کر آئیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ معیشت کا جو بنیادی ڈھانچہ استوار کیا جانا تھا ہم نے اس کی بنیاد رکھ دی ہے، کرنسی کی تصحیح کی بہت عرصے سے ضرورت تھی، دنیا میں کسی ملک کی معیشت کو اس کے غیر ملکی ذخائر، کرنٹ اکاونٹ خسارہ، درآمدات اور برآمدات میں توازن اور پائیدار شرح ترقی سے جانچا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ 45 فیصد کم ہوگیا ہے، غیر ملکی ذخائر9.8 ارب ڈالرسے بڑھ کر 13.9 ارب ڈالر پر آچکے ہیں، موجودہ حکومت نے 10 ارب ڈالر کے قرضے بھی واپس کیے ہیں جبکہ اگلے تین سے چار برس میں مزید 35 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنے ہیں، یہ وہ چیلنجز ہیں جن سے حکومت نبرد آزما ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلے دو ماہ میں پاکستان کی ریونیو ٹارگٹ 35 فیصد بڑھا ہے، کسی بھی ملک کی معیشت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں کتنی کھپت اور کتنی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں کی برآمدات کیا ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو اس وقت ہماری برآمدات بہت کم جبکہ درآمدات بہت بڑھ چکی تھیں، ہمارا چیلنج اس وقت بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کو عوامی شعبے کے اخراجات کے ذریعے بڑھانا ہے، ہمیں اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی سٹیٹ بنک سے قرضہ لینے سے بڑھتی ہے لہٰذا حکومت نے سٹیٹ بینک سے قرضہ لینا چھوڑ دیا جس سے سٹیٹ بینک کے پاس پرائیویٹ سیکٹر کو قرض دینے کی جگہ ہوگی۔ مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ اگر معیشت کا پہیہ چلانا ہے تو نجی شعبے کیلیے وسائل کی فراہمی اور قرضہ کی فراہمی لازم ہے۔

خسرو بختیار

مزید :

صفحہ اول -