مقبوضہ کشمیر میں خوں ریزی کا خدشہ

مقبوضہ کشمیر میں خوں ریزی کا خدشہ

  

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے بڑی جیل بنا دیا ہے،گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو زندہ جلایا جاتا ہے،ہمیں مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا خدشہ ہے،اظہارِ رائے کی آزادی اور مذہبی آزادی کے موجودہ حقوق کے درمیان توازن ضروری ہے، پوری دُنیا میں مسلمان نفرت انگیز تقاریر سے سب سے زیادہ متاثر ہیں،نفرت انگیز تقاریر انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کی وجہ بنتی ہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام نے خطے کا امن خطرے میں ڈال دیا۔وہ وادی میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، خونریزی کا خدشہ ہے،عالمی طاقتیں خاموش نہیں رہ سکتیں اِس صورتِ حال سے بچاؤ کے لئے عالمی برادری فوری قدم اٹھائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کردار ادا کرے، عالمی طاقتیں مودی کو مجبور کریں کہ مقبوضہ کشمیر میں مبصرین کو آنے کی اجازت دے،عالمی میڈیا مودی کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم عمران خان نیویارک میں پاکستان اور ترکی کے زیر اہتمام نفرت انگیز بیانیہ سے نپٹنے کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیئے سے بچنے کے لئے وہاں کی صورتِ حال پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

عالمی رہنماؤں میں رجب طیب اردوان کی آواز سب سے دبنگ آواز ہے، جو کشمیریوں کے حق میں اُٹھ رہی ہے چند برس قبل جب ابھی بھارت نے کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ نہیں بنایا تھا صدر اردوان بھارت کے دورے پر تھے تو بھی انہوں نے بھارتی رہنماؤں کو کھری کھری سُنا دی تھیں، اب بھی اُن کی آواز سب آوازوں میں نمایاں ہے، ایران کے صدر حسن روحانی اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد بھی عالم ِ اسلام کے ایسے لیڈر ہیں، جو کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان مسلسل عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں اُنہیں شکوہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے صرف نظر اِس لئے کیا جا رہا ہے کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے کہ اگر اس علاقے کے لوگ عیسائی یا کسی دوسرے غیر مسلم مذہب سے تعلق رکھتے تو شاید دُنیا اتنی بے توجہی کا مظاہرہ نہ کرتی۔

وزیراعظم عمران خان اپنے اس شکوے کا اظہار مسلسل کر رہے ہیں اور دورۂ امریکہ کے دوران بھی انہوں نے یہ بات تکرار کے ساتھ کہی ہے کہ دُنیا ہماری بات نہیں سمجھ رہی، دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑنا فیش بن گیا ہے، کسی بھی طبقہ کی محرومی شدت پسندی کو جنم دیتی ہے، پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی سے مسلمانوں کا دِل دکھتا ہے۔ نائن الیون سے پہلے 75فیصد خودکش حملے تامل ٹائیگرز نے کئے، جو ہندو تھے اس دہشت گردی کو ہندوؤں سے نہیں جوڑا گیا۔ عمران خان نے دُنیا کو خبردار کیا کہ کشمیر میں ظلم کو نہ روکا گیا تو کل مسلمانوں کے ردعمل پر شکایت نہ کریں۔

صدر ٹرمپ نے مودی کے ہیوسٹن جلسے میں کہا تھا کہ مودی کے ساتھ مل کر اسلامی دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے، اب وہ مودی کو کہہ رہے ہیں کہ مودی، عمران خان سے مل کر کشمیر کا مسئلہ حل کریں ایسے لگتا ہے کہ وہ موقع کی مناسبت سے ایسی باتیں کر دیتے ہیں کہ سننے والا خوش ہو جائے، مودی کے جلسے میں چونکہ زیادہ تر ایسے لوگ شامل تھے جن سے ٹرمپ کو اگلے صدارتی الیکشن میں ووٹ ملنے کی امید تھی، اِس لئے انہوں نے اسلامی دہشت گردی کا نام لے کر اُنہیں خوش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اگر مسلمان کہیں دہشت گردی کرتے ہیں تو یہ ان کا انفرادی عمل ہے اسلام اُنہیں ایسے کسی اقدام کی تلقین نہیں کرتا، بلکہ اُلٹا اُنہیں ایسے کاموں سے روکتا ہے، لیکن مسلمانوں کے ناموں والے یہ دہشت گرد نہ صرف دُنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، بلکہ مسلمانوں کی مشکلات میں بھی ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ہی دہشت گردوں نے مسلمان حکومتوں کے لئے بھی مشکلات پیدا کی ہیں اور پوری پوری ریاستیں اور ان کے بے گناہ عوام ان کے اقدامات کی وجہ سے مشکلات و مصائب کا شکار ہو گئے ہیں،جو لوگ مسلمانوں اور اسلامی ریاستوں کے لئے مشکلات کا باعث بن رہے ہیں وہ مسلمانوں کے ہمدرد اور خیر خواہ کیسے ہوسکتے ہیں۔

اگر صدر ٹرمپ کا اشارہ ایسے ہی نام نہاد مسلمانوں کے دہشت گردانہ اقدامات کی طرف تھا تو ایسے مسلمانوں سے تو کوئی بھی خوش نہیں، البتہ افغانستان میں امریکہ کو اگر افغانوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے اور وہ اٹھارہ سال میں قابل ِ ذکر کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے تو وہ اپنی فوجی ناکامیوں کا ملبہ افغانوں کو دہشت گرد قرار دے کر اُن پر نہ ڈالیں،وہ گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں اور دُنیا کے بہت سے ممالک میں ایسی جنگیں ماضی میں بھی لڑی جاتی رہی ہیں،آج بھی لڑی جا رہی ہیں اور آئندہ بھی لڑی جاتی رہیں گی۔ویت نام میں امریکہ کو شکست ایسے ہی طریق ِ جنگ کی وجہ سے ہوئی تھی لیکن ویت نامی گوریلوں کو آج تک کسی نے دہشت گرد نہیں کہا نہ جنرل جیاپ کو دہشت گردوں کا سرغنہ کہا گیا۔جب روسی افواج افغانستان میں موجود تھیں اور افغان مجاہدین اُن کے ساتھ گوریلا جنگ لڑ رہے تھے تو کسی مغربی نامہ نگار نے حکمت یار سے پوچھا تھا کہ وہ کتنا عرصہ لڑ سکتے ہیں تو انہوں نے بے اعتنائی سے جواب دیا تھا کہ مچھلی سے یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کتنا عرصہ پانی میں رہے گی، ہم اُس وقت تک لڑیں گے، جب تک غیر ملکی افواج ہمارے ملک سے نہیں نکل جاتیں، اب افغان مجاہدین نے ایسا ہی فارمولا امریکہ پر بھی منطبق کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کوئی ہو روسی ہو،یا امریکی، افغان اسے اپنی سرزمین پر نہیں رہنے دیں گے، جہاں تک اموات کا تعلق ہے طالبان کہتے ہیں کہ جو امریکہ اپنے ایک سپاہی کی موت پر جز بز ہو کر مذاکرات ملتوی کر رہا ہے اُس نے ہمارے لاکھوں افغانوں کا خون بہایا ہے اور اسے ان وسیع ہلاکتوں پر کبھی افسوس نہیں ہوا، صدر ٹرمپ کا اگر اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح کے ذریعے افغانوں پر اس کا اطلاق کرتے ہیں تو یہ درست تجزیہ نہیں ہے، افغان اپنے وطن کو غیروں سے آزاد کرانے کے دعویدار ہیں اور ایک طرزِ جنگ کے موجد ہیں،جس پر مغرب اب دہشت گردی کا لیبل لگاتا ہے۔ تو کیا ایک ہی ہتھیار کے استعمال سے چند ثانیوں میں ہزاروں لوگوں کو موت کے مُنہ میں دھکیل دینے والے انسانیت کے ہمدرد کہلائیں گے؟ اور کشمیر میں بھارت دو ماہ سے جو کچھ کر رہا ہے وہ انسانیت کی کون سی قسم ہے۔ رجب طیب اردوان نے بلند آہنگی کے ساتھ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی ہے، جو جلد ہی رنگ لائے گی اور مقبوضہ کشمیر زیادہ عرصے تک جیل نہیں بنا رہے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -