یو این جنرل اسمبلی، اخلاقی حمایت ملی، عمل کیا؟ چین نے کیا مدد کی؟

یو این جنرل اسمبلی، اخلاقی حمایت ملی، عمل کیا؟ چین نے کیا مدد کی؟
یو این جنرل اسمبلی، اخلاقی حمایت ملی، عمل کیا؟ چین نے کیا مدد کی؟

  

بابائے اتحاد اور قائد جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان(مرحوم) کی برسی آ گئی، حالات کا جبر ہے کہ ہم ان کی خدمات کا ذکر کرنے سے تاحال قاصر ہیں کہ دُنیا کے ایک بہت ہی بڑے پلیٹ فارم پرایک بہت ہی بڑے انسانی المیے کا ذکر ہے،جس کے لئے خود انہوں نے بھی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بڑی تگ و دو کی تھی، وزیراعظم عمران خان آج(27ستمبر) جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کرنے والے ہیں اور گزشتہ پانچ روز سے ”مقدمہ کشمیر“ پیش کرنے میں مصروف ہیں، لہٰذا محترم بابا جی کی روح سے معذرت کیساتھ ایک آدھ روز کی اور تاخیر پر مجبور ہیں،کہ کشمیری مسلمان محبوس ہیں اور آج جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے تو80 سے 90 لاکھ کشمیریوں کے محاصرے کو 54واں روز ہے، وزیراعظم نے کوشش تو بہت کی اور ایک حد تک ٹرمپ سے کشمیر کے تنازعہ کا نام کہلوانے میں کامیابی بھی حاصل کر لی، تاہم ایسے شخص پر کیا اعتبار کیا جا سکتا ہے، جو مودی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر پچاس ہزار بھارتیوں کے سامنے اس کی دوستی کے اقرار کے ساتھ بھارت کو بھی اولیت دیتا ہے۔

بہرحال کپتان اپنی سی کر رہے ہیں۔پیشہ صحافت کا تقاضہ ہے کہ جہاں کسی سے کوئی کوتاہی سرزد ہو اسے بتایا جائے اور کہیں اچھا کام ہو تو اسے سراہا جائے، ہم نے حکومت کی کوشش کا اعتراف کیا تو یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارت کے خلاف کسی کارروائی کا ڈول نہیں ڈالا گیا اور صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ کرفیو ہٹایا جائے۔یہ بات تواتر سے کہی گئی اور وزیراعظم نے گزشتہ روز بھی اس پر زور دیا، تاہم اس کے باوجود بھارت کے خلاف یورپی یونین پارلیمنٹیرین کی اس تجویز کو پیش نہیں کیا گیا کہ عالمی ادارہ اور بڑی طاقت انسانی حقوق کی اتنی بڑی تضحیک اور خلاف ورزی پر بھارت کے خلاف تجارتی اور سفری پابندیاں لگائے تاآنکہ کشمیریوں کی گھروں میں نظر بندی ختم نہیں کی جاتی،ممکن ہے کہ وزیراعظم آج کی تقریر میں ایسا مطالبہ بھی کر گزریں،لیکن یہاں فیصلہ ممکن نہیں کہ جنرل اسمبلی بحث کا ایک فورم بن کر رہ گئی ہے اور، پاکستان کی طرف سے تو اس سے پہلے ہی اپنا موقف استدلال کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کا خطاب ہو جائے تو اس پربھی بات ہو سکے گی۔ آج ہم وزیراعظم کے اس موقف کو سراہتے ہیں جو انہوں نے ”نفرت انگیز زبان“ کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس اور اس سے پہلے فارن افیئرز کمیٹی کے اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے اختیار کیا، وزیراعظم نے بجا طور پر باور کرایا کہ11ستمبر2001ء کے بعد مغربی رہنماؤں نے خود ہی دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا، حالانکہ اس کا دور دور تک دین سے کوئی تعلق نہیں، ہمارا دین وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاہے، جو آپؐ نے پیش کیا، کپتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دُنیا کے دوسرے مذاہب(عیسائی+ یہودی) میں بھی تشدد اور انتہا پسندی والے لوگ ہیں اور ان کی طرف سے عمل بھی ہوا ان کو تو کسی نے عیسائیت اور یہودیت سے نہیں جوڑا اور نہ ہی بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس اور خود بھارتی وزیراعظم مودی کی دہشت گردی کو ہندو مذہب سے جوڑا، عمران خان نے شاید پہلی مرتبہ مودی حکومت کی طرف سے کشمیریوں پر مظالم کو مکمل ریاستی دہشت گردی قرار دیا یوں یہ مقدمہ بہتر طور پر پیش کیا گیا اور یقینا اس نے متاثر بھی کیا ہو گا۔ وزیراعظم نے بجا طور پر مغربی دُنیا کو یاد دلایا کہ مسلمان رسول اکرمؐ کی گستاخی کے حوالے سے بہت زیادہ دُکھ محسوس کرتے ہیں۔

یہ سب اپنی جگہ،کپتان کی دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں،ان میں ترکی کے صدر اردوان اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا ذکر خصوصی طور پر مقصود ہے،ان سے مکمل حمایت ملی اور صدر اردوان نے تو اپنے خطاب میں دوستی اور اُمتی رسولؐ ہونے کا حق بھی ادا کر دیا جب انہوں نے کشمیریوں پر مظالم کا ذکر بھارت کی مذمت اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا یہ بھی ایک اور کامیابی ہے کہ او آئی سی کے گروپ نے بھی پاکستانی مطالبات کی حمایت کر دی ہے اور یوں پاکستان کو بہت حمایت حاصل ہوئی اور بھارت کی مذمت کی گئی تاہم یہ سوال اپنی جگہ کھڑا ہے کہ یہ سب ہوا کیا کوئی ایسا فیصلہ ہوا،جو مودی کو مجبور کر سکے۔اس نے تو کشمیر کو ہضم کرنے کے لئے خود اپنے بھارتی آئین کی خلاف ورزی کی اور ”جگاڑ“ لگا کر بڑی تیزی سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے بھارتی آئین کے آرٹیکل370اور35-A کو ختم کرا لیا اور ساتھ ہی ساتھ مقبوضہ کشمیر کو بھی تین حصوں میں تقسیم کر دیا، اس کے لئے لداخ کے معاملہ پر چین سے بھی مخاصمت مول لی۔ یہ معاملہ بھارت کی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر مودی حکومت کو کشمیر میں شہری آزادیاں بحال کرنے کا حکم دیا،لیکن اب تک اس پر بھی عمل نہیں ہوا،شاید مودی حکومت سمجھتی ہے کہ تاخیر کشمیریوں کے اعصاب شل کر دے گی، لیکن یہ ممکن نہ ہو گا کہ کشمیری اب تک جان و مال اور عصمتوں کی قربانیاں دیتے چلے آ رہے

ہیں،لیکن اپنے موقف سے نہیں ہٹے، ابھی آج ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، اسے دیکھ کر دِل دھڑکنا بھول گیا، آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے، صدمے سے بُرا حال ہے، اس ویڈیو میں تین معصوم کشمیری بچے (12+10 سال) بھارتی درندوں (فوجیوں) کی حراست میں ہیں وہ بندوق تانے کھڑے اور ایک بچہ زخمی ہے، ایک سفید پوش فوجی ویڈیو بنا رہا ہے، بچے جو معصوم تر ہیں، رو رو کر دہائی دے رہے اور منتیں کر رہے ہیں،یہ ظالم مسکرا رہے اور پھر، اس سے آگے تو ہم سے دیکھا ہی نہیں گیا، ہم نے فوراً ہی یہ ویڈیو بند کر دی۔ ایسا احساس ہوا یہ لوگ درندے ہیں اپنے ظلم کی تشہیر بھی کرتے ہیں اور معصوم بچوں کی جان لینے والی ویڈیو بنا کر وائرل کرتے ہیں کہ کشمیری خوف زدہ ہو جائیں۔ شاید ایسا ممکن نہ ہو اور مودی حکومت نے اسی خوف سے نو لاکھ فوجی تعینات کر رکھی اور شہری محبوس ہیں جونہی یہ پابندی ختم ہوئی، کشمیری احتجاج پر ہوں گے، جو اتنی سختی اور پابندیوں کے باوجود احتجاج کر ہی رہے ہیں۔

بات ختم کرنے سے قبل ایک استفسار کرنا ضروری ہے،چین جو اپنا یار ہے اس پر جاں نثار ہے،اس سارے عمل میں اس کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی،نہ ہی چین کے نائب وزیراعظم سے ہمارے وزیراعظم کی ملاقات کی تفصیل معلوم ہو سکی۔ ٹرمپ ہی ٹرمپ نظر آیا،کیا تعلقات میں کچھ سرد مہری ہے،چین سے بڑی حمایت کی توقع ہے۔ ایسا نظر کیوں نہ آیااس صورتِ حال سے ہمیں یہاں پاکستان میں چینی قونصل جنرل کا ایک بیان بھی یاد آ گیا جو کہتے ہیں، سی پیک میں پاکستان کی بیورو کریسی روڑے اٹکا رہی ہے۔یہ سفارتی زبان ہے جس کا مطلب ہر سمجھدار جان سکتا ہے۔الزام بھی یہ ہے کہ سی پیک پر رفتار سست کر دی گئی ہے، وضاحت ہو تو بہتر ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -