الحمرا کا نیا بورڈ آف گورنرز اور فیض میلہ

الحمرا کا نیا بورڈ آف گورنرز اور فیض میلہ
الحمرا کا نیا بورڈ آف گورنرز اور فیض میلہ

  

منیزہ ہاشمی الحمرا آرٹس کونسل کے بورڈ آف گورنرز کی چیئرپرسن نہ بھی ہوتیں تو نومبر کے مہینے میں فیض میلہ ضرور ہوتا،لیکن انھوں نے بھی اہل ِ اقتدار کی عام روش کے تحت الحمرا کے بورڈ آف گورنرز کی چیئرپرسن کا عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے فیض میلے کے لیے الحمرا کا ہال بُک کرایا۔الحمرا میں ہونے والے فیض میلے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لاہور کی اشرافیہ کے ان نمائندگان کو مدعو کیا جاتا ہے،جو اس کا قیمتی ٹکٹ خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ایک فیض میلہ، باغِ جناح کے اوپن ایئر تھیٹر میں ہوتا ہے جہاں ہم جیسے غریب شاعر جاتے ہیں۔اپنے جیسے لوگوں کو کلام سناتے ہیں اور مفت کی داد پاتے ہیں۔منیزہ ہاشمی کا الحمرا میں ہونے والا فیض میلہ اس لیے بِک جاتا ہے کہ اس میں ہر سال بھارت سے کوئی نہ کوئی بڑا فلمی اداکار آتا ہے اور لاہور کی اشرافیہ کو اپنی جھلک دکھلاتا ہے۔ہمارے ہاں قومی ایوارڈز کے معاملے میں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہوتی ہے،جن لوگوں کو ایوارڈ کمیٹی میں اس لیے شامل کیا جاتا ہے کہ وہ ملک بھر کے اچھے ادیبوں، شاعروں،استادوں، فنکاروں اور سائنس دانوں کا چناؤ کریں وہ سب سے پہلے اپنے لیے کوئی ایوارڈ پسند کرتے ہیں۔نہ صرف پسند کرتے ہیں،بلکہ لے بھی اُڑتے ہیں۔ماضی میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

محترمہ منیزہ ہاشمی ہمارے لیے اس لیے محترم ہیں کہ آپ ہمارے مرشد فیض صاحب کی بیٹی ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ماڈل ٹاؤن کے ایف بلاک میں قائم ہونے والے فیض گھر میں ادب سرائے کا پہلا مشاعرہ میری صدارت میں ہُوا تھا۔ اس میں محترمہ منیزہ ہاشمی نہایت خشوع و خضوع سے تشریف فرما تھیں۔ سٹیج پر، جہاں مَیں بیٹھا ہُوا تھا، فیض صاحب کی ایک بہت بڑی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اپنا کلام سنانے سے پہلے مَیں نے اپنے مرشد فیض صاحب کی تصویر سے دست بستہ کلام سنانے کی اجازت طلب کی تھی۔ میری یہ ادا دیکھ کر فیض صاحب کی تصویر دِھیرے سے مُسکرا دی تھی۔فیض صاحب کی برکت سے یہاں مجھے بہت داد ملی تھی اور مشاعرہ بھی بہت کامیاب رہا تھا۔اس کے بعد فیض گھر میں اُوپر تلے کئی مشاعرے ہوئے۔کبھی چلا گیا، کبھی معذرت کر لی۔

یہ ساری تمہید مَیں نے الحمرا آرٹس کونسل کے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے باندھی ہے۔ الحمرا کا بورڈ آف گورنرز حال ہی میں تشکیل دیا گیا ہے۔ چیئرپرسن سمیت اس بورڈ آف گورنرز کے کُل اٹھارہ رکن ہیں۔مَیں چاہتا ہوں کہ اپنے قارئین کو اس بورڈ آف گورنرز کے تمام ارکان سے مِلوا دوں۔تیمور عظمت عثمان پنجاب کے سابق سیکرٹری اطلاعات و ثقافت ہیں۔ ان دِنوں ریٹائرمنٹ کے مزے لے رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ نامور صحافی ہیں۔نہایت نپا تُلا اور درست تجزیہ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وارث بیگ گلوکار ہیں۔حال ہی میں انھیں صدارتی تمغہ دیا گیا ہے۔ مسز نوین فرید سماجی کارکن ہیں۔کاروبار بھی کرتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ ثقافتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ محترمہ عائشہ ارشد شاہنواز این سی اے میں پڑھاتی ہیں۔ نیئر علی دادا کو کون نہیں جانتا؟ ممتاز ماہر تعمیرات ہیں۔ الحمرا کی پُرشکوہ عمارت بھی آپ ہی کے ذہن رسا کا نتیجہ ہے۔ان کی قائم ہوئی نیرنگ گیلری علمی،ادبی اور ثقافتی شخصیات کے لیے ایک پناہ گاہ ہے۔

آصف ثنا صاحب پچھلے اُنیس برسوں سے یونین بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ایڈوائزر ہیں۔ گویا بنکار ہیں۔غالب اقبال صاحب، اسلام آباد میں ہوتے ہیں۔ان کی والدہ محترمہ سرفراز اقبال، فیض صاحب کی مستقل میزبان تھیں۔ غالب اقبال صاحب مختلف ممالک میں سفیر رہے ہیں اور اِن دِنوں مختلف ٹی وی چینلز پر بطور تجزیہ کار دکھائی دیتے ہیں۔امجد اسلام امجد ممتاز شاعر ہیں۔ ادبیاتِ اُردو کے استاد رہے ہیں۔فن اور فنکار سے ان کا دیرینہ تعلق ہے۔محترمہ آمنہ پٹوڈی پی این سی اے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔راجہ جہانگیر انور ان دِنوں پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ہیں۔ پنجاب بھر میں ہونے والی ثقافتی سرگرمیاں اِنھی کی مرہونِ منت ہیں۔عبداللہ خان سنبل پرانے بیورو کریٹ ہیں۔ کمشنر لاہور بھی رہ چکے ہیں۔آج کل پنجاب کے فنانس سیکرٹری ہیں۔محترمہ صالحہ سعید بطوور ڈپٹی کمشنر اس بورڈ آف گورنرز کی رکن تھیں۔اب وہ ڈپٹی کمشنر نہیں ہیں ممکن ہے کہ ان کی جگہ مقرر ہونے والے ڈی سی صاحب بورڈ میں شامل کر لیے جائیں۔پی ٹی وی کے جنرل منیجر سیف الدین صاحب بھی اس اہم بورڈ کے ممبر ہیں۔محترمہ شاہدہ منظور صاحبہ پنجاب یونیورسٹی کے کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی پرنسپل ہیں۔سب سے آخری نام اطہر علی خان کا ہے، جو اِن دِنوں الحمراء آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔

اس بورڈ آف گورنرز میں شامل تقریباً تمام لوگ نہایت لائق اور اہل ہیں۔یقینا یہ سب الحمراء آرٹس کونسل کے معاملات میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔اس بورڈ میں کچھ بینکاروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید الحمرا آرٹس کونسل اِن دِنوں کسی مالی بحران کا شکار ہے۔یہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اطہر علی خان اور ہمارے دوست ڈائریکٹر پروگرامز ذوالفقار زلفی کی سلیقہ مندی ہے کہ وہ نہایت کم بجٹ میں بڑی بڑی تقریبات منعقد کروا رہے ہیں۔اب تو یہ بھی سُنا جا رہا ہے کہ الحمرا میں کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کو بیک جُنبش قلم فارغ کیا جانے والا ہے۔واللہ اَعلم بالصواب۔محترمہ منیزہ ہاشمی سے مجھے عرض کرنا ہے کہ اگر آپ نے بینکاروں اور مالداروں کو بورڈ آف گورنرز میں رکھا ہے تو اس کا فائدہ الحمرا کے کارکنوں کو ہونا چاہیے۔ جن لوگوں نے الحمرا کو ایک شناخت عطا کی ہے،انھیں اپنے قریب رکھیں، خود سے دُور نہ کریں۔سب کچھ پیسا نہیں ہوتا۔فیض صاحب تو اعلیٰ انسانی اقدار کے شاعرہیں۔آپ بڑے شاعر کی بیٹی ہیں۔دِل بڑا کریں اور ہاں یاد آیا اگر الحمرا میں موسیقی، رقص، اداکاری، مصوری کی کلاسز ہو سکتی ہیں تو شاعری کا فن یعنی علم ِ عروض سکھانے کی کوئی کلاس کیوں نہیں لگائی جا سکتی؟ علم ِ عروض شاید اسی لیے دم توڑ گیا ہے کہ اس کے جاننے والوں کی قدر نہیں کی گئی۔اب ہر بے بحرا،شاعر بنا پھرتا ہے۔ اور ہاں میری تجویز ہے کہ نومبر میں ہونے والے فیض میلے کو اس بار عام لوگوں کے لیے آپ کو اپنے بنکار اور تاجر دوستوں کی مدد ہی کیوں نہ لینا پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -