شانگلہ،ڈینگی وائرس کے متاثرین کی تعداد318 تک پہنچ گئی 

 شانگلہ،ڈینگی وائرس کے متاثرین کی تعداد318 تک پہنچ گئی 

  

  الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ میں ڈینگی وائرس پھیلنے لگا،متاثرہ مریضوں کی تعداد سرکاری318 تک پہنچ گئی جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ڈینگی وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔ غیرضروری ٹریول سے اجتناب کرے،احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ڈسپرین کا استعمال نہ کرے۔ ڈاکٹرز کامشورہ۔ضلعی انتظامیہ نے پانی کی کھلی ٹینکیوں گاڑیوں کی ٹائر جس میں پانی جمع ہوتا ہے پر دفعہ 144 نافژ کردیا ہے خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ضلع شانگلہ کے گرم علاقوں میرہ،باٹکوٹ، بشام، شنگ اورکونڑ بٹگرام میں ڈینگی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔سرکاری ہسپتال میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد سرکاری اعدادشمار کے مطابق 318جبکہ نجی ہسپتالوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ڈینگی مریض علاج کروا رہے ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور ہسپتال انتظامیہ صرف بشام ہسپتال تک محدود۔فوٹو سیشن کے بجائے مرض پرقابو پانے پرتوجہ دے،سلفرڈریپ،اورمچھر دانی مہیا کیا جائے۔لوگوں میں آگاہی اور ڈینگی سے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔حفظ ماتقدم کے طور پر سپرے کیا جائے۔ ڈینگی کے مریضوں میں مسلسل اضافے سے عوام میں تشویش۔محکمہ صحت وباء کی روک تھام میں ناکام۔ ایل ایچ ویز اور ہیلتھ سٹاف کام کررہے ہیں۔کوارڈنیٹرہیلتھ شانگلہ۔بشام ہسپتال میں سہولیات کا فقدان مریضوں اور لواحقین کو شدید مشکلات میں ڈال دیا۔ہسپتال میں ڈاکٹروں سمیت پینے کے صاف پانی،واش روم اور بجلی نہ ہونے کے برابر ہیں، مریض تڑپ رہے ہیں کوئی پُرسان حال نہیں۔ڈینگی مریضوں کیلئے صرف وارڈ کے علاوہ کوئی سہولیات میسر نہیں۔لواحقین۔ڈینگی سے بچاؤ کیلئے اقداما ت جا ری ہے۔سرکاری اعدادشماراورزمینی حقائق میں نمایاں فرق ہے صحیح اعداد وشمار ظاہرکرنے سے محکمہ صحت کتراتے ہیں۔متاثرہ علاقوں میرہ،باٹکوٹ، شنگ اوراحتیاطی طور پر پورن زون میں سپرے جاری ہے تا ہم وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔عوام کا محکمہ صحت پر عدم اطمنان کا اظہار۔ ڈھیر رکھنے والے کے خلاف کاروائی ہوگی۔عوام میں حفاظتی تدابیر کیلئے فنڈز ریلیز کرنے اور سکولوں میں بھی ڈینگی سے بچے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ حکومت سنجیدگی سے غور کریں۔اہلیان کا دہائی۔ شانگلہ کے سب تحصیل بشام میں شروع ہونے والی ڈینگی وائیرس کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہیں، ہر دن ہسپتال میں ڈینگی کے نئے کیسیزسامنے ارہے ہیں، جمعرات کے روز سرکاری ہسپتال میں مزید چھ افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہو گئی ا س کے بعد مریضوں کی تعداد318تک پہنچ گئے۔ مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہیں،تحصیل ہسپتال میں ڈاکٹروں سمیت پینے کے صاف پانی،واش روم اور بجلی نہ ہونے کے برابر ہیں،ہماے مریض تڑپ رہے ہیں کوئی پُرسان حال نہیں، ڈینگی مریضوں کے لئے صرف ایک وارڈ کے علاوہ سہولیات میسر نہیں،ہسپتال حکام حیلے بہانے کر رہے ہیں ڈینگی پر خصوصی قابو پانے کے لئے حکومتی اقدمات نہ ہونے کے برابر ہیں، چار ہفتوں سے علاقے میں وباء شروع ہو چکی ہے،منتخب نمائندے صورت حال پر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ صوبائی حکومت مرض پر قابو پانے کیلئے سنجیدگی سے غور کریں۔۔

مزید :

صفحہ اول -