صوبے کے مختلف اضلاع میں ہسپتالوں کی نجکاری کیخلاف ڈاکٹر وں اور پیرا میڈیکس کی ہڑتال 

صوبے کے مختلف اضلاع میں ہسپتالوں کی نجکاری کیخلاف ڈاکٹر وں اور پیرا میڈیکس ...

  

پشاور،اضلاع (سٹی  رپورٹر،نمائندگان پاکستان) بٹ خیلہ ہسپتال میں محکمہ صحت ڈاکٹرزپیرامیڈیکس سمیت تمام عملہ کے دوسرے روزبھی مکمل ہڑتال ہسپتال میں علاج معالجے کیلئے آئیں ہوئے اپریشن اور دیگر علاج معالجہ کیلئے آئیں ہوئے مریضوں کوسخت مشکلات کاسامنا ملازمین کااحتجاجی مظاہرہ۔تفصیلا ت کے مطابق پختونخواہیلتھ الاؤنس کے کال پرصوبے کے دوسرے حصوں کے طرح ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال بٹ خیلہ میں ڈاکٹرزپیرامیڈیکس سمیت تمام عملہ نے ہڑتال کیااوپی ڈی لیبارٹری وارڈایکسرے اوراپریشن تھیٹرمکمل طورپربندرہاجس کی وجہ سے اپریشن اوردیگرعلاج معالجہ کیلئے آئیں ہوئے مریضوں کوسخت مشکلات کاسامناکرناپڑا۔دریں اثناء ملازمین نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیامظاہرے سے ہیلتھ کوارڈنیشن کونسل کے ضلعی صدرمحمدیونس جنرل سیکرٹری حضرت حسین محمدنوازاورعمرحبیب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے محکمہ صحت کے ملازمین کوموجودہ حکومت نے دیوارسے لگارہے ہیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی اورریجنل ہیلتھ اتھارٹیDHA/RHAکے نام پرہسپتالوں کی نجاری نامنظورنامنظورملازم کش پالیسی نامنظورجوہم کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم اپنے قائدین کے کال پرکسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اگرموجودہ حکومت نے اپنافیصلہ واپس نہ لیاتوہم دوبارہ احتجاجی تحریک شروع کردیں گے جومسائل کے حل تک جاری رہیں گے اوراس سلسلے میں ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔سب دویژن جندول سمیت لوئر دیر کے ہسپتالوں میں ایک مرتبہ پھر مقامی ڈاکٹروں نے ہڑتال سے پیدا اٹھاکر ہزروں غریب مریضوں کو لوٹالیا گیاہسپتالوں کے اندر سیکڑوں مریضوں بے یارومددگار بھیٹکرکر سرکاری اوپی ڈی میں ڈاکٹروں کے کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد پرایؤٹ ڈاکٹروں کے پاس جانے پر مجبور ہوگیا سرکاری ڈاکٹروں کے بجائے ہسپتالوں میں صرف سینکڑوں کلاس فور ملازمین صاف سوترا لباس پہن کر نظر ارہاتھا جو کام کے بجائے ایک جگہ جمع ہوکر گپ شپ میں مصروف نظر ارہاتھا۔علاقائی لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ جندول میں تین بڑے بڑے ہسپتال کے بلڈنگ کھڑے ہے مگر ان میں ایک ہی قابل ڈاکٹر نظر نہیں ارہا ہے اس وجہ سے علاقئی لوگ پشاور جانے پر مجبور ہے انہونے مزید کہا کہ اس وقت جندول کے تمام ہسپتالوں ہزروں کلاس فور ملازمین میں سے کئی کلاس فور ملازمین گھر بیٹھکر قومی خزانے سے کروڑوں تنخوا وصول کررہی ہے مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ کبھی ہم نے جندول کے ہسپتالوں میں کلاس فور کے کمی تو نہیں دیکھی مگر ہمشہ ہسپتالوں میں ڈکٹروں کے کمی معمول بن گئی ہے انہونے کہا کہ ایک بڑے ہسپتال میں پچاس کے بجائے دوسو کلاس فور کے کیا ضرورت ہے مقامی لوگوں نے علی احکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جندول کے ہسپتالوں میں زیادہ کلاس فور ملازمین برتی ہونے سے بیمارلوگوں کے علاج نہیں ہوسکتے اسلئے کلاس فور ملزمین کے بجائے ہمیں قابل ڈکٹروں کے اشد ضرورت ہیہسپتالوں کی مجوزہ نجکاری کے خلاف صوبائی گرینڈ ہیلتھ الائینس کے قائدین کی اپیل پر صوبہ بھر کی طرح ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تیمرگرہ سمیت ضلع دیر لوئر بھر کے تما م چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں ڈا کٹروں، پیرا میڈیکس، نرسز، درجہ چہارم،اور درجہ سوئم کے ملازمین نے  دوسرے روزبھی ہڑتال جاری رکھی جس کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال  تیمرگرہ کے او پی ڈی، ایکسرے، لیبارٹری، او ٹی سمیت تمام شعبہ جات بند رہے درجنوں اپریشن  ملتوی  ہوئے جس کی وجہ سے مریضوں کو شدیدمشکلات کا سا منا کرنا پڑا اور دور درز علاقوں سے آنے والے مریض گھروں کو مایوس لوٹ گئے ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے قائدین کے مطابق صوبائی حکومت نے ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری کے فیصلہ پر ڈاکٹروں کواعتماد میں لینے اور اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن صوبائی حکومت نے ڈاکٹر زتنظیموں کے قائد ین کواعتماد میں لئے بغیر مجوزہ بل اسمبلی میں پیش کیا  ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری کے خلاف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال تیمرگرہ مین ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس، نرسز اور کلاس فور ملازمین کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر وحید اللہ، ڈا کٹر محمد آمین، پیرا میڈیکس ایسوسی ایشن لوئر دیر کے صدر محمد رحیم،نرسنگ ایسوسی ایشن کے صدر ہدایت اللہ، اور کلاس فور کے نمائندہ پیر زادہ سمیت کثیر تعداد میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس نے شرکت کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی قائدین کی ہدایت پر آج پشاور میں احتجاجی پروگرام میں شرکت کے لئے لوئر دیر سے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس، نرسز اور کلاس فور پر مشتمل سترہ سو افراد کا قافلہ صبح سات بجے تیمرگرہ سے روانہ ہوگا۔   صوبہ بھر کے دیگر اضلاع کی طرح چارسدہ میں ڈاکٹرز، نرسسز، پیرا میڈیکس کا ڈی ایچ اے ایکٹ کے خلاف ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ میں دوسرے روز بھی ہڑتال جاری۔ 27ستمبر کو گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیر اہتمام صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے میں بھر پور شرکت کا اعلان۔ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ مقررین۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹرہسپتال چارسدہ میں ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور پیرا میڈیکس کا احتجاج جاری رہا۔ اوپی ڈی مکمل طور پر بند رہی جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے ڈاکٹر ز ایسو سی ایشن کے رہنماء ڈاکٹر امین خٹک، پیرا میڈیکس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری خالد عثمان، کلاس فور کے صدر غریب جان، جنرل سیکرٹری خالد زمان اور خالد عثمان نے کہا کہ ہمارا احتجاج ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف ہے اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہیگاجب تک حکومت ہسپتالوں کو ٹھیکداری نظام میں تبدیل کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں کرینگے کیونکہ حکومت کا یہ اقدام غریب عوام کو مفت علاج فراہم کرنے کے خلاف سازش ہے۔ ہسپتالوں کی نجکاری سے عوام ایک اور ازیت میں مبتلا ہو جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ 27ستمبر کو گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنے میں بھر پور شرکت کرینگے جب تک حکومت اس غلط اور عوام دشمن فیصلے کو واپس نہیں لیتے اس وقت تک احتجاج جاری رکھا جائیگا۔

مزید :

صفحہ اول -