قندیل بلوچ کیس کے فیصلے کے بعد مفتی عبدالقوی کا ردعمل بھی آگیا

قندیل بلوچ کیس کے فیصلے کے بعد مفتی عبدالقوی کا ردعمل بھی آگیا
قندیل بلوچ کیس کے فیصلے کے بعد مفتی عبدالقوی کا ردعمل بھی آگیا

  

ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف ماڈل اور اداکارہ قندیل بلوچ کے قتل کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد مفتی عبدالقوی کا ردعمل بھی آگیا۔ 

فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی نے بتایا کہ عدالت نےاقرار جرم کرنیوالے وسیم کو عمر قید کی سزا دیدی، اورا س کے ساتھ کیس میں موجود ہم پانچ افراد کو شک کی بنا پر بری کردیا اور بالخصوص میرے بارے میں لکھا کہ " کسی طرح کی کوئی شہادت ایسی نہیں آئی کہ مفتی عبدالقوی نے جرم میں اعانت کی ، اس لیے انہیں باعزت بری کرتاہوں"۔ فیصلہ چیلنج کیے جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیلنج کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ،واضح فیصلہ ہے ، چیلنج کرنے کے لیے شواہد کی ضرورت ہے ، مفتی عبدالقوی وہ خوش قسمت شخص ہے جن کے خلاف پولیس سمیت کسی نے کوئی بیان نہیں دیا کہ مفتی عبدالقوی نے کسی کو اس طرح کی کوئی بات نہیں کی کہ یہ اقدام کریں۔ مقتولہ کے بھائی کو سزا ملنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تاریخی فیصلہ ہے ، آج کا دن اپنے لیے دعاؤں کی قبولیت، حققیت اور انصاف کا قرار دے دیا، جمعہ کا دن پاکستان تحریک انصاف کیلئے ہمیشہ سے خیر کا رہا ہے۔

یادرہے کہ  ملتان کی سیشن کورٹ میں ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ جج عمران شفیع نے فیصلہ سناتے ہوئے کیس کے مرکزی ملزم اور قندیل بلوچ کے بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا سنادی جب کہ مفتی عبدالقوی سمیت دیگر نامزد ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا۔گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران کیس میں ملزموں کے وکلا اور پراسیکیوشن کی جانب سے دلائل مکمل کرلیے گئے تھے جس کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ آج تک کے لیے محفوظ کرلیاتھا۔قندیل بلوچ کے والدین کی جانب سے بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس پر عدالت نے نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست مسترد کردی تھی اورکہا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں صلح یا مدعی مقدمہ کی طرف سے معاف کیے جانےکے عمل کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ ماڈل قندیل بلوچ کو 15 اور 16 جولائی 2016 کی درمیانی شب قتل کیا گیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ مظفر آباد میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ قندیل کو گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے۔ قندیل کے بھائی وسیم نے گرفتاری کے بعد اقبال جرم کرلیا تھا لیکن عدالت میں فرد جرم عائد کی گئی تو اس نے انکار کردیا۔ مقدمے میں مذہبی اسکالر مفتی قوی سمیت عبدالباط، ظفر اقبال، اسلم شاہین اور حق نواز کو گرفتار کیاگیاتھا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -ملتان -