اپوزیشن کو استعفوں کا چیلنج؟

اپوزیشن کو استعفوں کا چیلنج؟

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے استعفے دیئے تو ضمنی الیکشن کرا دیں گے،اُنہیں ایک سیٹ نہیں ملے گی، پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں، اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، نواز شریف کی تقریر حکومت اور فوج میں اختلاف ڈالنے کی کوشش تھی انہیں تکلیف ہے وہ (فوج) میری پالیسی پر کیوں چلتی ہے؟ اپوزیشن کی فوجی افسروں سے ملاقاتوں کا مجھے علم ہوتا ہے، نواز شریف اور زرداری کا اب کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آتا،نواز شریف کھیل سے باہر ہو چکے ہیں اِس لئے وہ چاہتے ہیں نہ کھیلوں گا نہ کھیلنے دوں گا، وہ مایوس ہو چکے ہیں۔ نواز شریف کی تقریر نشرکرنے کی اجازت دینا درست فیصلہ تھا تاہم نواز شریف کی تقریر بھارت کے بیان کی عکاسی ہے، نواز شریف اپنی وطن واپسی کے لئے کچھ بھی کریں گے، جمہوری حکومتوں میں اختلاف رائے ہوتا ہے ہماری کابینہ میں ایسے وزراء بھی ہیں جو اپنی طرف گول کر دیتے ہیں، مسلم لیگ(ن) ہو یا ش لیگ، یہ لوگ صرف خاندانی سیاست کریں گے، مَیں نے پاکستان میں سب سے زیادہ سٹریٹ پاور استعمال کی۔ انہوں نے اِن خیالات کا اظہار نیوز چینلز کے ڈائریکٹروں سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے این آر او دینے کی غلطی کی تھی، مَیں نے پرویز مشرف کو این آر او دینے کی وجہ سے ہی چھوڑا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں کے گیارہ جماعتی اتحاد، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) نے حکومت کے خلاف جس احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا ہے وہ تین ماہ پر محیط ہے، جو اکتوبر سے شروع ہو گا اور دسمبر تک مرحلہ وار جاری رہے گا،جنوری میں البتہ لانگ مارچ اور پھر دھرنے کا پروگرام ہے جو اسی وقت ہوں گے اگر پہلے سارے مراحل ناکام ہو گئے، استعفوں کا بھی ایک آپشن ہے اور اس کی نوبت بھی بہت بعد میں آئے گی، یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن جلد بازی میں استعفے دے دے، کیونکہ بہت سے منتخب لوگ استعفوں کے حق میں نہیں،سیاسی جماعتوں کے رکن ہونے کے باوجود اُن کی اپنی اپنی رائے بھی ہے۔ عین ممکن ہے کہ سیاسی جماعتیں اگر اپنے ان ارکان سے استعفے طلب کریں تو ان میں سے بعض ایسا کرنے میں لیت و لعل سے کام لیں یا سرے سے ہی انکار کر دیں، سیاسی جماعتوں میں ایسے ارکانِ اسمبلی اور سینیٹ بھی ہیں جو اہم ووٹنگ کے وقت اپنی جماعتوں کی پالیسی سے انحراف بھی کر جاتے ہیں اور یوں نہ صرف اپنی جماعتوں کی سبکی کا باعث بنتے ہیں،بلکہ اُن کی حکمت عملی اپنے انہی ارکان کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہے اور حکومت کو فائدہ پہنچ جاتا ہے،اِس لئے امکان تو یہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں استعفوں کا آپشن استعمال کرنے سے حتی الامکان گریز کریں گی، ویسے مولانا فضل الرحمن نے تو2018ء کے انتخاب کے فوری بعد یہ تجویز دی تھی کہ منتخب ارکان حلف ہی نہ اٹھائیں،لیکن اس وقت دوسری جماعتوں نے اس تجویز کو چنداں لائق ِ توجہ نہ سمجھا اور یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ اسمبلیوں کے اندر اپنا کردار ادا کریں گے،اب شاید اُن میں سے بعض نے محسوس کر لیا ہے کہ اسمبلیوں کے اندر بھی وہ کوئی ایسا کردار ادا نہیں کر سکتیں، جس  کی وجہ سے وہ حکومت سے اپنے مطالبات منوا سکیں، بلکہ عملاً انہوں نے حکومت کی مدد ہی کی ہے اور”سو پیاز اور سو جوتے“ والا طعنہ بھی سنا ہے۔

ماضی میں حکومتوں کے خلاف جتنی بھی تحریکیں چلیں وہ کسی ایک جماعت نے انفرادی طور پر چلائی ہوں یا کسی سیاسی اتحاد نے، ان میں بھی استعفوں کی تجویزیں سامنے آتی رہیں، لیکن شاید ہی کسی تحریک کے موقع پر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کی نوبت آئی ہو،تحریک انصاف کو یہ اعزاز البتہ حاصل ہے کہ اس نے جب نواز شریف کی حکومت کے خلاف دھرنے کے موقع پر اجتماعی استعفے دیئے تو اس کے تمام ارکان، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے مستعفی ہو گئے تھے، لیکن خیبرپختونخوا میں چونکہ تحریک انصاف کی اپنی حکومت تھی،اِس لئے یہاں استعفوں کی نوبت نہ آئی۔ یہ حکومت اپنے سرکاری وسائل دھرنے میں جھونکتی رہی، استعفے دونوں اسمبلیوں کے سپیکروں کے پاس جمع ہو گئے،قومی اسمبلی کے سپیکر اعلان کرتے رہے کہ مستعفی ارکان آ کر اپنے استعفوں کی تصدیق کریں، لیکن کوئی رکن اس مقصد کے لئے سپیکر کے پاس نہیں گیا، صرف ایک مخدوم جاوید ہاشمی تھے، جنہوں نے ایوان کے اندر استعفے کا اعلان کیا اور وہ رکنیت چھوڑ گئے، باقی مستعفی ارکان نے دھرنے کی ناکامی کے بعد دوبارہ اسمبلیوں میں آنا شروع کر دیا،پوری تنخواہیں وصول کیں، جو ارکان کمیٹیوں کے ممبر تھے انہوں نے وہ ساری مراعات بھی لیں، جو کمیٹیوں کے ارکان کو ملتی ہیں اور یہ اعلان بھی کیا کہ تنخواہیں وصول کرنا اُن کا حق ہے۔

اب وزیراعظم نے یہ کہہ کر بال اپوزیشن کی کورٹ میں پھینک دیا کہ وہ استعفے دیں توضمنی انتخاب کرا دیا جائے گا اور اس میں اپوزیشن کو ایک سیٹ بھی نہیں ملے گی،اگر وزیراعظم اتنے پُرامید ہیں تو اُنہیں استعفوں کا انتظار کرنے کی بجائے خود ہی نئے انتخابات کا ڈول ڈال دینا چاہئے، کیونکہ اس طرح پوری کی پوری اپوزیشن مکھن سے بال کی  طرح ایوانوں سے باہر ہو جائے گی اور وزیراعظم کو دو تہائی کیا پوری کی پوری پارلیمینٹ کی حمایت حاصل ہو جائے گی،اُنہیں گلہ ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں،لیکن ارکانِ اسمبلی تعاون نہیں کرتے وہ آئین میں بعض ترامیم کے بھی خواہش مند ہیں،لیکن ان کے پاس ان کی منظوری کے لئے مطلوبہ اکثریت نہیں، اسمبلی میں انہوں نے چھ سات چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے تعاون سے اکثریت بنائی ہوئی ہے یہ ارکان کسی وقت دغا دے جائیں تو اُن کی حکومت ختم ہو سکتی ہے،اِس لئے اُن کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ اپوزیشن کو ایوانوں سے باہر کرنے کے لئے یہ حکمت عملی آزما لیں اور اپوزیشن کے استعفوں کا انتظار کرنے کی بجائے خود ہی آگے بڑھ کر چھکا مار دیں اور نئے انتخابات میں پوری اپوزیشن کو آؤٹ کر کے اطمینان کا سانس لیں،جیسی چاہیں قانون سازی کریں، جنسی جرائم کرنے والوں کو سرعام پھانسیوں کا قانون منظور کرائیں یا اُنہیں نامرد بنانے کی منظوری حاصل کریں، کوئی اُن کے راستے میں حائل نہیں ہو گا،اسمبلیوں سے نکل کر اپوزیشن جماعتوں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ سندھ سے بھی وہ پیپلزپارٹی کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور وہاں بھی اُن کے راستے کا یہ کانٹا اقتدار سے باہر ہو جائے، پھر وہ کراچی کو جیسے پیکیج چاہیں دیں، سو فیصد فنڈز دیں یا پچاس فیصد، اس اعلان کی بھی حاجت نہ ہو گی کہ پیپلزپارٹی کو فنڈز نہیں دیئے جا سکتے وہ کھا جائے گی،اُن کی اپنی حکومت ہو گی تو وہ جو چاہیں گے کر سکیں گے،اسمبلیوں میں اپوزیشن تو ہو گی نہیں،کیونکہ وہ تو اُن کے دعوے کے مطابق ایک بھی سیٹ نہیں لے سکے گی،اِس لئے ایسے سنہری موقع کو استعفوں کے انتظار میں ضائع نہیں کرنا چاہئے، بلکہ خود آگے بڑھ کر ماسٹر سٹروک کھیل دینا چاہئے،اِس لئے وزیراعظم خود ہی صدر کو اسمبلی توڑنے کا مشورہ دیں اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیں،جس کا اُنہیں ہر وقت آئینی اختیار حاصل ہے۔ وہ یہ اختیار استعمال کر کے بھی دیکھ لیں، ”چور اپوزیشن“ سے جان چھڑانے کا اِس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -