حقوق، گیس کی قلت، نوابزادہ نصراللہ کی یاد!

حقوق، گیس کی قلت، نوابزادہ نصراللہ کی یاد!
حقوق، گیس کی قلت، نوابزادہ نصراللہ کی یاد!

  

ہمارے معزز اور قابل احترام رانا اکرام ربانی نے انور مقصود صاحب سے موسوم ایک پوسٹ بھیجی۔ اس میں کہا گیا کہ اگر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے بعد یہ حکومت آئی ہوتی تو بھی انہوں نے کہنا تھا کہ ہم محمد علی جناح کی حکومت کا گند صاف کر رہے ہیں۔ یہ انور مقصود سے موسوم ہے تو اور اگر ان کی طرف سے فیک ہے تو بھی حقیقت کی غماز ہے کہ ابھی چند روز قبل ہی محترم وفاقی وزیر عمر ایوب نے فرمایا کہ سردیوں میں گیس کی قلت اس لئے ہو گی کہ سندھ حکومت ہمیں پائپ لائن نہیں بچھانے دیتی۔ توقع کے مطابق سندھ کی صوبائی حکومت کی طرف سے تردید بھی کی گئی اور یاد دلایا گیا کہ آئینی طور اور خصوصاً 18ویں ترمیم کے بعد قدرتی وسائل پر پہلا حق اس صوبے کا ہے، جہاں سے یہ نکلے یا پیدا ہو۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ خود وفاقی حکومت، معاون خصوصی اور وفاقی وزیر کے علاوہ وزیراعظم نے بھی آگاہ کیا کہ آئندہ سردیوں میں قدرتی گیس کی قلت ہو گی اور ساتھ ہی کہا ہم اس کمی کو پورا کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ گھبرانا نہیں، سوئی سدرن کی طرف سے سندھ والوں کو یہ بتا دیا گیا کہ گیس کی قلت ہو گی اور لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ سوئی ناردرن کے پاس فالتو گیس ہے، وہ اگر اس میں سے ہمیں دے دے تو قلت کم ہو سکتی ہے۔

ادھر سوئی ناردرن والوں نے صارفین کو یہ ”خوشخبری“سنائی کہ سردیوں میں صنعتوں اور سی این جی والوں کو گیس نہیں دی جائے گی کہ گھریلو ضرورت پوری کرنا ہے اور گھریلو صارفین کو بھی کھانا پکانے کے لئے گیس فراہم ہو گی اور اس کے لئے صارفین کو احتیاط کرنا ہو گی کہ دو وقت گیس دی جائے گی اور لوڈشیڈنگ مجبوری ہو گی۔ ہم نے یہ سب بلا کم و کاست بیان کر دیا اور یقین ہے کہ اب وفاق کی طرف سے یہ سب بھی سابقہ حکومتوں ہی کے حساب میں درج کیا جائے گا، حالانکہ گیس کی کمی ماضی میں بھی ہوتی تھی، لیکن ایسا نہیں کہ اتنی شدید قلت کی نوید پہلے ہی سنا دی جائے، اب یقینا بازار میں ایل پی جی کی قیمت میں بھی اضافہ ہو چکا اور گھریلو صارفین تو ابھی سے دکھی ہیں، اس کے علاوہ یہ بھی مذاق ہے کہ سی این جی والوں کو کبھی کبھار گیس دی جائے اس پریشانی کی وجہ سے تو لوگوں نے پہلے ہی اپنی گاڑیوں میں سے گیس سلنڈر نکلوا دیئے ہوئے ہیں اور وہ پٹرول استعمال کر رہے ہیں، سی این جی کی ضرورت تو ویگن والوں کی ہے جو ابھی تک یہ خطرناک عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔وزارت پٹرولیم کی طرف سے پہلے تو یہی کہا جاتا رہا کہ حکومت قلت نہیں ہونے دے گی اور اب صورت حال یہ ہے کہ گھریلو صارفین بھی بری طرح متاثر ہوں گے۔ کھانا پکانا مشکل ہوگا چہ جائیکہ پانی گرم کرکے نہایا جائے۔

معروضی حالات تو اے پی سی اور اس کے نتیجے میں پی ڈی ایم بن جانے کے ذکر ہی سے بہرہ ور ہیں اور فرزند راولپنڈی بدستور انکشاف پر انکشاف کرتے چلے جا رہے ہیں، وہ اینٹ پھینک کر تماشا والے کام کر رہے ہیں۔ اب انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی ملاقاتوں کا ذکر کر دیا ہے تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ مولانا کے اتنے تعلقات ہیں تو انہوں نے دھرنا بھی پوچھ کر دیا اور پھر ختم بھی وعدے پر کیا ہو گا۔ محترم وفاقی وزیر اپنے جوش خطابت میں کوئی ”خدمت“ نہیں کر رہے، بلکہ متعلقین کو موقع مہیاکر رہے ہیں کہ وہ جوابی وضاحت کے نام پر ”ارشادات“ فرما دیں اور یہ کوئی قومی خدمت نہیں ہے، جب مجموعی رائے اور خود عسکری قیادت کا یہ کہنا ہے کہ فوج کو سیاست میں ملوث نہ کیا جائے تو یہ صاحب کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں، جن سے یہ تاثر ملے کہ سیاسی قائدین سیاسی امور ہی کے حوالے سے ملتے ہیں، وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ عسکری قیادت کو حزب اقتدار یا حزب اختلاف سے ملنے میں کوئی حجاب یا تحفظ نہیں اور بقول عسکری قیادت ان کا سیاسی امور سے کچھ لینا دینا نہیں، لیکن شیخ رشید نے بہرحال یہ خدمت ضرور سرانجام دی ہے کہ اب ایسی باتیں جو دل میں تھیں وہ سوشل میڈیا پر بھی آ رہی ہیں، ویسے محترم خود مسلم لیگ (ن) اور آمرانہ حکومتوں کا حصہ رہے محمد نوازشریف اور مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے ان کے ارشادات محفوظ ہیں،ہمارا تو مہذبانہ مشورہ ہے کہ وہ حضرات جو ازل سے حکومتی پارٹی ہیں، وہ سابقین کے لئے مروت کر لیں اور ایسا نہ کہیں کہ خود ہی اپنے دام میں صیاد آ جائے۔

ہم نے گزشتہ روز نئے سیاسی اتحاد کے حوالے سے مرحوم نوابزادہ نصراللہ کو یاد کیا تھا، اتفاق سے آج ان کی برسی بھی ہے، ہمیں دکھ ہے کہ ان کے جانشین صاحبزادے منصور علی خان نے ان کی خدمات کے ذکر کو ہی محدود کر دیا، محترم نے بابا، جی! کی جماعت پاکستان جمہوری پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم کر دیا تھا، خود بھی گمنام ہوئے اور باباء جی کو اس قدر یاد نہ ہونے دیا جو ان کا حق ہے۔ اب مرحوم کے گاؤں خان گڑھ میں فاتحہ خوانی کی دو تقریبات ہوتی ہیں۔ ایک منصور علی خان کی رہائش پر اور دوسری قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب رکن نوابزادہ افتخار کی رہائش پر جو مرحوم کے چھوٹے صاحبزادے ہیں، حالانکہ سیاست میں جو مقام نوابزادہ نصراللہ نے حاصل کیا وہ شاید ہی کسی اور کے حصے میں آیا ہو۔ انہوں نے اپنی ساری عمر بحالی جمہوریت کے لئے وقف کر رکھی تھی اور یہ ان کا مقام ہے کہ آج تک ان کے خلاف ایسی کوئی آواز نہیں اٹھی کہ وہ بھی نیب کے ”شکار“ ہوں، ہم نے گزشتہ روز ذکر کیا تھا کہ ان کو اتحاد بنانے میں اتنا ملکہ حاصل تھا کہ آگ اور پانی کو ایک جگہ جمع کر دیتے تھے انہوں نے محترم اصغر خان کو پیپلزپارٹی کے ساتھ بٹھایا جو بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی لگانے کا اعلان کرتے تھے اور پھر اس مسلم لیگ (ن) کو بھی میثاق جمہوریت پر آمادہ کیا جس نے 1988ء میں تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی، جس کے نتیجے مین چھانگا مانگا اور سوات کے مقام مشہور ہوئے۔

نوابزادہ نصراللہ خان سادہ شخصیت اور مہذب سیاست دان تھے۔ ان کی زبان سے ہر مخالف کا نام احترام سے نکلتا، بھٹو صاحب اور ضیاء صاحب ہی کہتے تھے۔ نوابزادہ مرحوم کے ساتھ اتنا وقت گزرا کہ ایک ایک لمحہ ایک ایک کہانی ہے،ہم ان کو تنگ کرتے اور کہتے کہ جناب! آپ بھی ایسے سیاست دان ہیں کہ جب جمہوری حکومت ہو تو اس کے خلاف محاذ بنا لیتے اور مارشل لاء آ جاتا ہے۔ اور جب آمریت ہوتو پھر سے جمہوریت کے لئے جدوجہد شروع ہو جاتی ہے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہم حقیقی جمہوریت کے داعی ہیں اور جو اس کے خلاف ہو، ہم اس کے خلاف ہیں۔

(وضاحت: برادرم رؤف طاہر کے یاد دلانے پر یہ عرض ہے کہ گزشتہ روز کے کالم میں سہو ہوا پیرپگارو والا اتحاد یو ڈی ایف اور مادر ملت کی حمائت سی او پی نے کی جبکہ پی ڈی ایف اور ڈیک الگ بنے۔)

مزید :

رائے -کالم -