بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان(مرحوم)

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان(مرحوم)
بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان(مرحوم)

  

پاکستان کے سیاسی افق پر ساری زندگی اقتدار کی خواہش کے بغیر ملک و قوم اور سیاست کی خدمت کرنے والے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان آج بھی ملک کے سیاست دانوں کے لئے مشعل ِ راہ ہیں، ان کی ساری زندگی اپوزیشن کی سیاست میں ایک قائد کی حیثیت سے گزری۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ اور خان لیاقت علی خان کے اس جہانِ فانی سے رخصت ہو جانے کے بعد، جب ملک کے سیاسی لیڈر اقتدار کے حصول کے لئے سیاسی بولیاں بولنے لگے تو اس مشکل اور کٹھن دور میں نوابزادہ نصر اللہ خان  اقتدار پر براجمان لوگوں کا قبلہ درست رکھنے کے لئے بطور اپوزیشن لیڈر سامنے آئے اور انہوں نے ہر دور میں اپوزیشن لیڈر کا کردار انتہائی فعال اور جاندار طریقے سے ادا کیا، ان کے پیش ِ نظر  ہمیشہ جمہوریت کی بقاء رہی۔ مارشل لاؤں سے ان کا تصادم رہا، اور جب کبھی جمہوری حکومتوں میں آمریت کے جراثیم دیکھتے(جس طرح آج عمران خان کی حکومت میں دکھائی دے رہے ہیں) تو اس کی اصلاح کے لئے نوابزادہ نصر اللہ خان جمہوری حکومتوں کے خلاف بھی کمربستہ ہو جاتے۔

وہ سمجھتے تھے کہ جمہوریت، آمریت کے ساتھ نہیں چلائی جاتی، لیکن جب یہ ملاوٹ دکھائی دیتی تو بابائے جمہوریت اس جمہوری حکومت کو راہِ راست پر لانے کے لئے جدوجہد کرتے۔نوابزادہ نصراللہ خان کمزور جمہوریت کو مضبوط آمریت سے بہتر قرار دیتے تھے۔انہوں نے تحریک پاکستان کی جدوجہد سے جمہوریت کے قیام تک بھرپور اور نمایاں سیاسی خدمات سرانجام دیں۔انہوں نے ملک میں چلنے والی ہر تحریک میں قائدانہ رول ادا کیا۔ 18کے قریب سیاسی اتحاد اور محاذ، مارشل لاؤں اور مارشل لاء نما جمہوری حکومتوں کے خلاف بنائے، پاکستان کی جمہوری تاریخ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کے نام کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، ان کے نزدیک جمہوریت کے ساتھ کوئی لاحقہ نہیں ہوتا، جمہوریت ہوتی ہے، یا نہیں ہوتی، دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔انہوں نے کالج کی زندگی کے بعد اپنی سیاسی زندگی کا آغاز برطانوی راج کی مخالفت سے کیا۔

23مارچ 1940ء کو قراردادِ پاکستان کی منظوری کے لئے منعقدہ مسلم لیگ کے جلسہ عام لاہور میں شریک ہوئے،حالانکہ وہ اس وقت مجلس احرار کے اہم عہدیدار کی حیثیت سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتے تھے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی صحبت، قربت اور تربیت کے باعث ان میں مذہبی شعور اور سوچ بیدار ہوئی، مگر وہ قدامت پرست یا کٹر مذہبی شخصیت نہیں تھے اور نہ ہی بہت زیادہ روشن خیال تھے۔ ایوب خان ڈکٹیٹر کے خلاف 30اپریل 1967ء میں پاکستان ڈیمو کریٹک فرنٹ (پی ڈی ایف) پانچ جماعتوں مسلم لیگ (کونسل)، جماعت اسلامی، سابق وزیراعظم چودھری محمد علی کی نظام اسلام پارٹی، نوابزادہ نصر اللہ خان کی عوامی لیگ (8نکاتی)، اور نور الدین کا نیشنل ڈیمو کریٹک فرنٹ(این ڈی ایف) شامل تھے۔ اس وقت مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) پاکستان کا ایک بازو تھا اور یہ سیاسی اتحاد ڈھاکہ میں ملک کے سیاست دانوں کے ایک اجلاس میں وجود میں آیا تھا،جس کے صدر نوابزادہ نصر اللہ خان اور محمود علی کو مشرقی پاکستان سے سیکرٹری جنرل اور خواجہ خیر الدین (مسلم لیگ) نائب صدر چنے گئے تھے۔

نوابزادہ نصر اللہ خان نے ایوب خان جیسے جرنیل سے سیاسی قیدیوں اور صحافیوں کو رہا کروایا، ان کے اخبارات کے ڈیکلریشن بحال اور مذاکرات کی میز پر ملک میں انتخابات کرانے کا اعلان کرا کر چھوڑا۔ زندگی میں بے شمار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، جبکہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پانچ سال قید رہے۔پاکستان بننے سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک جمہوری تحریکوں کا حصہ رہے اور ہر تحریک میں قائدانہ کردار ادا کرنے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے حکمرانوں سے مذاکرات میں شریک ہوئے۔بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے سفارت کاری اور ایک مقصد کے لئے جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔یہ ذمہ داری بطور وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے انہیں  سونپی تھی۔اگرچہ چودھری سرور خان، حامد ناصر چٹھہ، سردار عبدالقیوم، مولانا فضل الرحمن بھی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے،آج کل سید فخر امام ہیں اور جو کچھ آج کل کشمیر میں کشمیری قوم کے ساتھ ہو رہا ہے، سن کر، پڑھ کر، دیکھ کر دِل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل و غارت اور پکڑ دھکڑ ہو رہی  ہے۔ ایک سال سے کشمیری کرفیو کے باعث گھروں میں بند پڑے ہیں، کشمیر کمیٹی ایک طرف، حکومت خاموش بیٹھی کشمیریوں کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ آج پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم یاد آتے ہیں،جنہوں نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے یورپ کا دورہ کیا، اسد ملک آرگنائزیشن کے اجلاس13 تا 15دسمبر 1994ء میں کشمیر کے حق میں قرارداد منظور کروائی اور برطانیہ کی لیبر پارٹی سے مذاکرات کر کے مسئلہ کشمیر کے حل کو ان کے منشور کا حصہ بنوایا۔

 کشمیر میں مداخلت پر بابائے جمہوریت کا واضح موقف تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کسی ملک کا داخلی مسئلہ نہیں،یہ ایک انسانی مسئلہ ہے، جس پر خاموش رہنا جرم ہے۔ انہوں نے بھٹو حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے نظام مصطفی کے نفاذ کے لئے جدوجہد کی۔وہ ان کے خلاف چلنے والے مقدمے اور فیصلے سے متفق نہیں تھے،ان کو سزائے موت دیئے جانے پر پاکستان کے سب سیاست دانوں سے پہلے سوگوار خاندان سے اظہارِ ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان کی زندگی کا آخری اتحاد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بہت یادگار اتحاد تھا،جس میں مرحوم نے دو،دو بار  وزیراعظم رہنے والے، ایک دوسرے کے سخت سیاسی مخالفین کو مشرف آمریت کے خلاف اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پراکٹھا کر دیا۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان مذاکرات کرانے کے بعد ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ لندن میں میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کروا کر ملک سے آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کا بندوبست کر کے پاکستان لوٹے۔25ستمبر 2003ء کو اسلام آباد میں اے آر ڈی کے اجلاس کے انتظامات دیکھنے گئے ہوئے تھے کہ اس دوران دِل کی تکلیف ہوئی، ہسپتال داخل ہو گئے۔ 26ستمبر کی رات12بجے کے بعد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ بابائے جمہوریت نے اپنی  پوری زندگی جمہوریت کی بحالی کے لئے قربان کر دی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے،آمین

مزید :

رائے -کالم -