شعلے کیوں بھڑکتے ہیں 

شعلے کیوں بھڑکتے ہیں 
شعلے کیوں بھڑکتے ہیں 

  

ربیع الاوّل کا مہینہ تھا، چلتے چلتے میری نظر سڑک کنارے ایک کھمبے پر آویزاں ”اشتہاری تختہ“ پر پڑی، جس پردیگر تعارفی اور دعوتی عبارت کے علاوہ جلی حروف میں تحریر تھا: ”ملک کے سب سے بڑے عالم اورشعلہ بیان مقرّر آج بعد از نماز عشاء سیرت ِرسول ؐ پر خطاب فرمائیں گے“۔ لفظ ”شعلہ بیان“ نے میرے قدم روک لئے۔ سیرت نبیؐ پر میرے عاجزانہ مطالعہ اور علم نے مجھ سے کہا کہ سیرت نبی ؐ تواخلاقِ حسنہ، برداشت، قربانی، عفو و درگزراور شیریں بیانی سے عبارت ہے، شعلہ بیانی کا سیرت نبیؐ سے بھلا کیا تعلق ہے…… محرم الحرام کی پہلی تاریخ تھی۔ اسی جگہ اسی سڑک پر ایک ”اشتہاری تختہ“ آویزاں تھا۔اس پردیگر تعارفی اور دعوتی عبارت کے علاوہ جلی حروف میں لکھا تھا: ”محرام الحرام کے پہلے دس دنوں کی مجالس کا عظیم الشان اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ملک کے نامور مبلّغ اور شعلہ بیان ذاکر عظمت ِ اہل ِ بیت پر خطاب فرمائیں گے“۔

مَیں تاحال ربیع الاوّل کے مہینے میں اسی جگہ پر لگے ”اشتہاری تختہ“ پر تحریر ”شعلہ بیان“ مقرّر کے سیرت نبی ؐسے تعلق کو کھوجنے میں الجھا ہوا تھا کہ مَیں نے اسی جگہ شعلہ بیان مقرّر کی زبان سے ہونے والے ذکر ِ اہل ِ بیت کاد عوت نامہ بھی پڑھ لیا……آج جب ہم معاشرے کے اندر تجزیاتی نگاہ دوڑاتے ہیں تو معاشرہ ہمیں مختلف طبقاتی،فرقوں اور فریقوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے۔ ہر فریق دوسرے کے لئے اپنے اندر بغض، عناد،کینہ اور حسد کی دبیز تہیں لئے ہوئے ہے۔یہ نفرت پر مبنی طبقاتی، مذہبی اور معاشرتی تقسیم ِان شعلہ بیانوں کے بھڑکائے ہوئے شعلوں کی عکّاس ہے، جو الفاظ کا انتخاب،اُن کی آگ لگانے کی تاثیر اوراُس کے جواب میں جیب کی طرف سفر کرنے والے ”رزق حلال“ کو دیکھ کر کرتے ہیں۔

مَیں نے شادی کی ایک تقریب میں بات چیت کے دوران اپنے جاننے والے ایک غیر مسلم سے پوچھا:  ”آپ کے بچے کیا کرتے ہیں“؟ اُس نے بتایا: ”ایک بیٹا اور ایک بیٹی ڈاکٹر ہیں، ایک بیٹا اعلیٰ ملازمت میں ہے،سب سے چھوٹا، جوسب سے زیادہ ذہین اور محنتی ہے،اسے مَیں نے آموزش و تبلیغ دین کے لئے وقف کر دیا ہے“۔اس کی یہ بات میرے لئے پریشان کن تو تھی ہی، مگر اپنے مذہب کے ساتھ اُس کی وفاداری کی بہت بڑی دلیل بھی تھی۔اس کے مقابل جب مَیں نے اپنوں کے مذہبی روّیے پر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خوشحال طبقہ اپنے آپ کو دیندار ظاہر کرنے میں ہزیمت محسوس کرتا ہے۔علمی اور معاشی اشرافیہ کی کثیر آبادی میں سے خوش قسمتی سے ہی کوئی گھر ایسا دیکھنے کو ملے گا، جس کی اولاً ترجیح بچے کو عالم ِ دین یا مبلّغ بنانا ہو۔اس طبقے کی تو بات چھوڑیے،معاشرے کی دیگر کروڑوں کی آبادی میں سے گنتی کے لوگ ایسے ملیں گے، جو ملازمت اور معاشی ترقی کے مواقع کی موجودگی میں تعلیم و ترویج ِدین کے لئے خود یااولاد کووقف کرنے کا سوچتے ہوں۔

 ہمارے ہاں اکتساب ِ دین اور اس کی اشاعت آبادی کے اس طبقے کے سپرد ہے جو طبعی، معاشی یا معاشرتی طور پر معذور ہے،جسے معاشرہ بالعموم حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔زیادہ تر مساجد اور امام بارگاہیں اسی طبقہ ئ زندگی کی شعلہ بیانی کی زد میں ہیں۔مسجد و منبر وہ مقام ہے جہاں بڑے سے بڑا سامع مقرّر کے پاؤں کے برابرمیں بیٹھتا ہے۔وہ مقرّر کی ہر بات توجہ سے سنتا ہے، مگر اختلاف رائے کی جسارت نہیں کر سکتا۔اگر وہ اُف بھی کر بیٹھے توکفر کے فتوے کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر مکمل حالت میں اس کے گھر پہنچنے کے امکانات خال خال ہوتے ہیں۔ ایسا مبلّغ اپنی طبعی، معاشی اور معاشرتی معذوری کا بدلہ پورے معاشرے سے لیتا ہے۔وہ اپنے لئے بڑے بڑے القابات اور خطابات تراشتاہے۔ معاشرے کے اندر لوگوں کی جذباتی لگن کوبھانپتے ہوئے اپناہم خیال گروہ تشکیل دیتا ہے،اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شعلہ بیانی کے طفیل ہر طرف بارودکی پھاہ پھاہ، گولیوں کی تڑ تڑ، بوڑھے ما ں باپ کی آہیں، بچوں کی سسکیاں اور بہنوں کے نوحے سنائی دیتے ہیں، دیواروں پر بے گناہوں کے خون کی باس لہو کے آنسو رُلاتی ہے،معاشرے پر خوف کا سکوت طاری ہو جاتا ہے، مگر وہ شعلہ بیان مقرّر دادو دہش سمیٹ رہا ہوتا ہے۔ نتیجتاً مد ِمقابل فریق حساب برابر کرنا اپنا استحقاق سمجھتا ہے،یوں ”اصلاحِ احوال“کا عمل جاری رہتا ہے۔ 

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ سیرتِ نبی ؐ پر جلسہ منعقد کیا ہے تو حیات ِ طیبہ کوبیان ہونا چاہئے۔ جہاں آپؐ کے اسوۂ حسنہ، عفو و در گزر، محبت، خلوص، بھائی چارے اور کسب ِ حلال جیسے موضوعات کا احاطہ ہو، مگراکثر اوقات، گھنٹوں کی نشست میں، لفظوں کے تیر فریق مخالف کی کمین گاہوں کی طرف برستے ہیں اور تمام تر حتمی فیصلہ اسے کافر قرار دینے پر منتج ہوتا ہے۔ اسی طرح مجلس ِ ذکر ِ اہل ِ بیت، اہل ِ بیت ِ اطہار کے عظیم کردار، عبادات، عفو و در گزر، دین کی لگن اور قربانیوں پر محیط ہو، مگر شعلہ بیان مبلّغین اہل بیت کی عظمتوں کا بیان چھوڑ کر صحابہ کرامؓ اور امہاّت المومنینؓ کے لئے نازیبا الفاظ کا استعمالِ کثیر کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہر صحابی کی شان اور اس کا مقام نبی رحمتؐ نے اپنی زندگی میں طے کر دیا تھا، وہ نبیؐ جس کی بات اللہ کی بات، جس کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہے،مگر شعلہ بیانی بعوض دولت کی فراوانی انہیں آتش فشانی پر مجبور کرتی ہے۔ نتیجتاً ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور سزا معاشرہ اٹھاتا ہے۔

جب تک طبعی، معاشی اور معاشرتی معذور انسانی زندگی کی سب سے اہم، نازک اور بنیادی منزل کے پیشوا ہو ں گے،شعلہ بیانی آتش فشانی میں ڈھلتی رہے گی، لفظوں کی تاثیر گلیوں اور سڑکوں کو لہو رنگ کرتی رہے گی، دیواروں سے بے گناہوں کے خون کی باس آتی  رہے گی،بوڑھے ماں باپ کی آہیں،بچوں کی سسکیاں اور بہنوں کے نوحے سنائی دیتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -