عوام کے دکھوں سے لاتعلق حکومت اور اپوزیشن

عوام کے دکھوں سے لاتعلق حکومت اور اپوزیشن
عوام کے دکھوں سے لاتعلق حکومت اور اپوزیشن

  

یہ نیا پاکستان نت نئی منطق بھی لایا ہے…… یو ٹرن کی منطق کو متعارف کرانے والے پیارے کپتان نے اب ادویات کی بے تحاشہ قیمتیں بڑھانے کی منطق یہ پیش کی ہے کہ اس سے ان کی دستیابی یقینی ہو جائے گی۔ واہ واہ کیا فارمولا ایجاد کیا ہے اشیاء کی دستیابی کا اور کیا راہ دکھائی ہے بلیک مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کو، اب جو بھی کسی شے کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ کرنا چاہتا ہے، وہ مارکیٹ سے اسے غائب کر دے، اس کے بعد حکومت ہاتھ جوڑ کر اسے منائے گی اور اس کی من پسند قیمت پر بیچنے کی اجازت دے  دے گی۔ اس فارمولے کو پہلے چینی مہنگی کرنے والوں کے لئے استعمال کیا گیا، پھر پٹرول مہنگا بیچنے والے اس سے مستفید ہوئے، اب ادویات فروخت کرنے والوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔

دوائیاں 262 فیصد تک مہنگی کر دی گئی ہیں گویا عوام پر اربوں روپے کا نیا بوجھ ڈال دیا گیا ہے اور وہ بھی بیماریوں میں مبتلا دکھی انسانیت پر…… اب  تو صاف لگ رہا ہے کہ اس حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لئے کچھ نہیں ہے، بلکہ اس کی ساری توجہ اس بات پر ہے کہ عوام کی رگوں سے موجود رہا سہا خون بھی نچوڑ لیا جائے۔ مَیں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ ستر برسوں میں آنے والی حکومتوں کو یہ فارمولا کیوں نہیں سوجھا، کیوں وہ ادویہ ساز کمپنیوں کو لگام ڈال کر رکھتی رہیں اور مارکیٹ میں دوائیوں کی کمی بھی نہ ہونے دی؟ پہلے ہی کہا جاتا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی ادویہ ساز کمپنیوں کے لئے لوٹ مار کی جنت ہے، اب بھی بڑی آسانی سے موازنہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں یہی کمپنیاں کس قیمت پر دوائیاں فراہم کر رہی ہیں اور پاکستان میں ان کی کئی سو گنا قیمت وصول کی جا رہی ہے۔ آخر کیا ماجرا ہے کہ لوٹ مار کے لئے صرف پاکستان ہی رہ گیا ہے؟ گاڑیاں بنانے والی تین بڑی کمپنیاں بھارت میں سستی اور پاکستان میں مہنگی گاڑیاں فراہم کر رہی ہیں، کون ہے جو انہیں چیک کرے، یہ تو سیدھی سادی ملی بھگت سے عوام کو لوٹنے کی ایک ”واردات“ لگتی ہے، جس میں عمالِ حکومت پوری طرح شامل ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو نجانے یہ علم ہے یا نہیں کہ عوام کی آمدنی بڑھی نہیں کم ہوئی ہے، صرف تنخواہ دار طبقے کا ہی ذکر نہیں، جس کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، عام آدمی بھی مہنگائی کے ہاتھوں بری طرح پس رہا ہے۔ جب لوگوں کی آمدنی ہی نہیں بڑھی تو انہیں اشیائے خورونوش حتیٰ کہ ادویات مہنگے داموں خریدنے پر کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے؟ اب اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ ادویات کی قیمتیں بڑھا کر اربوں روپے کی تکنیکی کرپشن کی گئی ہے، تو کیا غلط ہے؟ آپ نایاب ادویات کی بات کرتے ہیں، یہاں تو عام ادویات بھی مہنگی کر دی گئی ہیں، جن کی مارکیٹ میں کبھی کمی نہیں رہی،کیونکہ انہیں ایک سے زائد کمپنیاں بنا رہی ہیں، صاف لگ رہا ہے کہ یہ بوجھ کسی خاص مقصد کے تحت پسے ہوئے عوام پر ڈالا گیا ہے،

یہی ادویہ ساز کمپنیاں ہیں جو دوائی لکھنے پر ڈاکٹروں کو مہنگی گاڑیاں لے کر دیتی ہیں،عالمی دورے کراتی ہیں، کیش پرائزز دیتی ہیں، گویا کرپشن تو ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے، اب وزارتِ صحت کے حکام سے مل کر انہوں نے کئی سو گنا اضافہ کرا لیا ہے تو اس میں کرپشن کی کتنی گنگائیں بہائی گئی ہوں گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ عمران خان کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، فوج بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے، وہ جو بھی کریں فی الوقت انہیں چیلنج کرنے والا کوئی نہیں، مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوام دشمن فیصلے کریں، حکومت کو بے بس ظاہر کر کے اشیاء کی قیمتیں بڑھائیں کہ اس کے بغیر ان کی دستیابی ممکن نہیں تھی، یہ بھی نہ سوچیں کہ عوام کی قوتِ خرید ہے بھی یا نہیں؟ انہیں تو پہلے ہی زندہ درگور کر دیا گیا ہے۔ اب زندہ رہنے کے لئے انہیں دوائیاں تک گھر کا سامان بیچ کر خریدنا پڑیں گی۔ اب تو عوام کو نوازشریف اور آصف علی زرداری کے ادوارِ حکومت بری طرح یاد آنے لگے ہیں، بھلے وہ کرپشن کرتے ہوں گے، لیکن انہوں نے عوام کی زندگی کو اس قدر اذیت ناک نہیں بنایا تھا، جتنی آج بن چکی ہے۔

دو سال کے عرصے میں ادویات کی قیمتیں تقریباً پانچ سو گنا بڑھ چکی ہیں۔ سو روپے والی میڈیسن پانچ سو میں مل رہی ہے۔ دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات فراہم کرنے کا سلسلہ بھی بند کر دیا گیاہے، رہا ہیلتھ کارڈ تو وہ اس وقت استعمال ہو سکتا ہے، جب آپ کسی ہسپتال میں داخل ہوں۔ بدقسمتی سے ان سب باتوں کا جواب اب بھی یہی دیا جاتا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے پاکستان کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ یہ گردان آخر کب تک جاری رہے گی؟ ماضی میں تو ادویات سستی تھیں، پٹرول، چینی، آٹا، بجلی کے نرخ بھی کم تھے، ہر سال سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی بڑھائی جاتی تھیں، گویا حالات عوام کے حق میں تھے۔ پھر یہ کیا ہوا کہ ان حکمرانوں کے جاتے ہی حالات خراب ہو گئے،ان کا نزلہ بھلا عوام پر کیسے گرایا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی ظاہر ہو چکی ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے دو برسوں میں اتنا قرضہ لے لیا ہے جتنا پچھلی حکومت نے پانچ برسوں میں نہیں لیا تھا۔ گویا ایک طرف قرضے بھی بڑھے اور دوسری طرف مہنگائی بھی بڑھ گئی اور درمیان میں عوام پس کر رہ گئے ان میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور غصہ بھی لیکن بے بسی کے ساتھ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔

ایسے مواقع پر اپوزیشن عوام کا ساتھ دیتی ہے، ان کی آواز بنتی ہے، لیکن آج کی اپوزیشن ایک ایسی مفلوج حزب اختلاف ہے، جسے، عوام کے مسائل سے دور کا واسطہ بھی نہیں سب کو اپنے بچاؤ کی پڑی ہے، سب عسکری قیادت سے ملاقاتیں کر کے اپنے لئے ریلیف مانگ رہے ہیں، انہیں عوام کے لئے کسی ریلیف کی کوئی پروا نہیں۔ مہنگائی کے خلاف اپوزیشن نے آج تک نہ کوئی ریلی نکالی، نہ کوئی دھرنا دیا، حتیٰ کہ آل پارٹیز کانفرنس میں یہ نکتہ ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھا۔ اب حکومت نے ادویات کی بے تحاشہ قیمتیں بڑھا دی ہیں تو اپوزیشن ایسے لاتعلق بیٹھی ہے، جیسے قیمتیں کسی دوسرے ملک میں بڑھائی گئی ہوں۔ شہباز شریف کا ایک نیم دلانہ بیان آ گیا اور قیمتیں بڑھانے کی مذمت کر دی، حالانکہ انہیں فوری قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دینی چاہئے تھی، اسے ہنگامی ایجنڈے میں رکھنا چاہئے تھا، بلاول بھٹو زرداری  اسلام آباد میں مظاہرے کی کال دے کر ایک بڑے احتجاج کی راہ ہموار کرتے اور مولانا فضل الرحمن احتساب بیورو کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کی بجائے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف میدان عمل میں آتے، مگر یہ ان کا مسئلہ نہیں کیونکہ ان کے گھر دانے ہیں اور ان کے کملے بھی سیانے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -