سینئر صحافی ریاض شاکر علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے 

سینئر صحافی ریاض شاکر علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے 

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی)سینئر صحافی ریاض شاکر انتقال کر گئے انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ریاض شاکر کی نماز جنازہ میں صحافیوں، ان رشتہ داروں، دوستوں،وکلاء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بشمول وفاقی وزیر فواد چودھری اور چیئرمین پاکستان بار کونسل ایگزیکٹو کمیٹی اعظم نذیر تارڑنے شرکت کی ریاض شاکر گزشتہ چند دنوں سے سانس کی تکلیف کی وجہ میو ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ گزشتہ روز صبح خالق حقیقی سے جا ملے ریاض شاکر گزشتہ چار دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک رہے،وہ اپنے والد بشیر شاکر کی تقلید کرتے ہوئے بطور کارٹون آرٹسٹ روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ ہوئے اور سیاسی اور سماجی موضوعات پر سینکڑوں کارٹون بنائے ریاض شاکر اسی کی دہائی میں روزنامہ مساوات سے منسلک ہو گئے اور رپورٹر کی حیثیت سے کام کیا ریاض شاکر 1988 میں روزنامہ جنگ لاہور کی رپورٹنگ ٹیم کا حصہ بنے اور پھر جیو نیوز کے شروع ہونے کے بعد اس کیلئے کام شروع کر دیا ریاض شاکر کو عدالتی امور کی رپورٹنگ پر مہارت حاصل تھی. مرحوم مشکل سے مشکل بات آسان الفاظ میں لکھنے کا ہنر جانتے تھے. ریاض شاکر سماجی سرگرمیوں کی تصویر کشی پر بھی عبور رکھتے اور کمال کی مزاح کی حس پائی  صحافیوں نے ریاض شاکر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ صحافت ایک منجھے ہوئے رپورٹر سے محروم ہوگئی۔ریاض شاکر نے اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑی ہے۔ 

ریاض شاکر انتقال

مزید :

صفحہ آخر -