ادویہ ساز کمپنیوں نے 94کے بجائے 1300ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

  ادویہ ساز کمپنیوں نے 94کے بجائے 1300ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

  

 لاہور(جاوید اقبال) ڈریپ اور ادویات ساز کمپنیوں کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا۔ڈریپ نے 94ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا مگر ملکی و غیر ملکی کمپنیوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ملی بھگت سے 1300 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر لیا،جن میں 400  کے قریب سرجیکل ڈسپوزیبل کی قیمتوں میں بھی اضافہ بھی شامل ہے۔بینڈج،کاٹن،سوچرز،سرجیکل گلوز سمیت آپریشن میں استعمال ہونیوالے دیگر ساز و سا ما ن میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے ادویہ ساز کمپنیوں نے ڈسپرین اور پینا ڈول جیسی ادیات کو بھی نہیں بخشا ان کی قیمتیں میں بھی بڑھا دی گئی ہیں،ادویات ساز کمپنیوں کی اس کارستانی کا علم ہونے کے با وجود ڈریپ اور صوبائی حکومتوں نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔قابل ذکربات یہ ہے کہ ڈریپ نے تا ثر دیا ہے کہ انہوں نے ان 94 ادویات کی قیمتیں بڑھائی ہیں جن کی قیمتیں کم ہونے کے باعث کمپنیاں یہ ادویات بنا نہیں رہیں تھیں اور ان کی مارکیٹ میں قلت رہتی تھی مگر مارکیٹ میں ہوا اس کے بالکل برعکس ہے۔کمپنیوں نے 94 ادویات کی قیمتوں کی آڑ میں تیرہ سو کے قریب اپنی ادویات کی قیمتوں میں تین سو فیصد تک کا اضافہ کر لیا ہے۔دوسری طرف بتایا گیا ہے نزلہ زکام کی دو ا ئی ایرنک فورٹ کی ڈبی 560 سے بڑھ کر 740 روپے کی ہو گئی۔ بخار و درد کا سیرپ بروفن 67 سے 75 روپے کا ملے گا۔ اینٹامیزول ڈی ایس کی ڈبی 94 سے 107 روپے کر دی گئی۔ مرگی کی دوائی ایپی وال کی ڈبی 1028 سے 1075 کی کر دی گئی۔ سانس کی دوائی تھیو گریڈ کی ڈبی 260 سے 360 روپے کی ہو گئی۔ چکروں کی دوائی سرک کی ڈبی 584 سے 747 کی کر دی گئی۔ شوگر کی دوائی گلوکوفیج کی ڈبی 105 کی بجائے اب 124 روپے میں ملے گی۔ کتے کاٹے کی ویکسین 850 روپے سے 1641 کی کر دی گئی ہے۔ اسی طرح دیگر دوائیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔اس حوالے سے ایڈیشنل سیکرٹری ڈرگ ونگ محمد سہیل کا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہارڈشپ کیسز کے تحت کیا گیا، جن کمپنیوں نے اپنے طور پر قیمتیں بڑھائی ہیں ان کیخلاف سخت ایشن لیا جائے گا اور اس کی تفصیلات جمع کی جا رہیں ہیں جبکہ پاکستان فارماسیوٹیکل مینو فیکچرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین ذکاء اللہ کا کہنا ہے کئی سال سے مخصوص ادویات کی قیمتیں نہیں بڑھی تھیں جس سے ان کی کاسٹ موجودہ قیمتوں سے بڑھ چکی تھی۔

ڈریپ ملی بھگت

مزید :

صفحہ اول -