سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی اور سیاحت کو بطور صنعت ترقی دینے کیلئے کوشاں: محمود خان 

  سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی اور سیاحت کو بطور صنعت ترقی دینے کیلئے کوشاں: ...

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سیاحت کا فروغ ہر دور میں ناگز یر رہاہے کیونکہ سیاحت سماجی، ثقافتی اور اقتصادی حالات پر براہ راست اثر اندا ز ہوتی ہے۔صوبائی حکومت مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی اور سیاحت کو بطور صنعت ترقی دینے کے لیے کوشاں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم سیاحت کے حوالے سے یہاں سے جاری خصوصی پیغام میں کیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو ایڈونچر ٹورازم،قدرتی خوبصورتی، مذہبی سیاحت اور تاریخی مقامات سے مالامال ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواکا ہرضلع اپنی مِثال آپ ہے جہاں ہر قسم کا لینڈ اسکیپ ملتا ہے۔ہزارہ اور ملا کنڈ ڈویژن سیاحت کے حوالے سے خصوصی استعداد رکھتے ہیں جن کے متعدد سیاحتی مقامات مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے جس میں پالیسیوں میں اصلاحات اور نئے سیاحتی مراکزمتعارف کرانا اہمیت کے حامل ہیں۔سیاحتی صنعت سے وابستہ تمام افراد کے ذرائع آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ نا صرف پہلے سے موجود سیاحتی مقامات کو ترقی دی جا رہی ہے بلکہ متعدد نئی سائٹس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت نہ صرف انٹر ٹینمنٹ کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ثقافتی اور سماجی روابط کے استحکام اور معیشت و روزگار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ہائیر ایجوکیشن ریسرچ انڈومنٹ فنڈ کے قانون کے تحت رولز اینڈ ریگولیشن تیار کرنے اور بورڈ آف ڈائریکٹر ز کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ انڈومنٹ فنڈ کے قیام کے مقاصد کا حصول یقینی بنانے کے لیے تمام تر تقاضے پورے کیے جائیں۔  وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہائیر ایجوکیشن ریسرچ انڈومنٹ فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پانچویں اجلاس کے صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش، مشیر برائے سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیا ء اللہ بنگش، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، وائس چانسلرپشاور یونیورسٹی کے علاوہ یو ای ٹی پشاور، ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور، سرحد یونیورسٹی، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرز، ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن، پرنسپل خیبرمیڈیکل کالج اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈ کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں کی تصدیق و تائید کی گئی اور فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی میں چار رکنی انوسٹمنٹ کمیٹی کی منظوری دی گئی جو ہائیر ایجوکیشن ریسرچ انڈومنٹ فنڈ کے تحت سیڈ منی کی بروقت انوسٹمنٹ یقینی بنائے گی۔ اجلاس کو اس موقع پر ہائیر ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے قیام کے پس منظر اور اس کی ضرورت و اہمیت پر بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن ریسرچ انڈومنٹ فنڈایکٹ 2014سے نافذ العمل ہے۔ یہ فنڈ ابتدائی طور پر پچاس ملین روپے کی سیڈ منی سے قائم کیا گیا تھا جسے بعد ازاں بڑھا کر پانچ سو ملین روپے کر دیا گیا۔ قانون کے مطابق سیڈ منی سے حاصل ہونے والا منافع سرکاری جامعا ت کے نیچرل سائنس اور سوشل سائنسز کے شعبوں میں ریسرچ کی فنانسنگ کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سابقہ اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں سرکاری جامعات کے مختلف شعبوں میں متعدد ریسرچ پروپوزلز کی فنانسنگ کی گئی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ مذکورہ فنڈ کے قیام کا مقصد معیاری تحقیق کا فروغ ہے جس کے لیے تمام لوازمات اور ضروری اقدامات بروقت مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ایکٹ کے تحت رولز اینڈ ریگو لیشن پہلی فرصت میں تیار کیے جائیں اور آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں۔

 محمود خان

مزید :

صفحہ اول -