اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، سکالر شپ پروگرام، 4140طلباء و طالبات میں  19کروڑ روپے تقسیم 

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، سکالر شپ پروگرام، 4140طلباء و طالبات میں  19کروڑ ...

  

 بہاول پور(بیورورپورٹ+ ڈسٹرکٹ رپورٹر) وزیر اعظم پاکستان احساس سکالرشپس پروگرام کے تحت اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے 4140طلباء وطالبات میں 19کروڑ روپے کے وظائف تقسیم کیے گئے۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی تقریب عباسیہ کیمپس میں منعقد ہوئی۔وائس چانسلرانجینئر پروفیسر ڈاکڑ اطہر محبوب نے ملک حبیب اللہ بھٹہ اور سید تابش الوری کے ہمراہ طلبہ وطالبات میں سکالرشپس(بقیہ نمبر33صفحہ 6پر)

 تقسیم کیے۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر نے کہا کہ عالمگیر یت کے اس دور میں تمام قومیں معاشی میدان میں عالمی سطح پر بہترین مقام حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سال 2050تک دنیا کی آبادی 10ارب تک پہنچ جائے گی اور اس کا 30فیصد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو گی۔ اس عالمی مثابقتی دور میں ہمیں بھی اپنا مقام حاصل کرنا ہے اور یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت اس طرف بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم پاکستان احساس سکالرشپس پروگرام کے پہلے مرحلے میں ملک بھر سے ہزاروں طلبہ وطالبات مستفید ہوئے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے تمام جامعات میں 4140طلباء کے ساتھ اِ ن وظائف کا ایک بڑا حصہ حاصل کیا۔ وائس چانسلر نے اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان احساس سکالرشپس پروگرام کے حکام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ داخلوں سے معلوم ہوا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اپنے معیاری تعلیمی پروگراموں اور سہولیات کے باعث طلباء وطالبات کی اولین ترجیح بن چکی ہے جو انتہائی خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس سکالرشپس پروگرام کے دوسرے حصے کی رجسٹریشن جاری ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں طلباء کی تعداد حالیہ داخلوں کے بعد 35ہزار سے تجاوز کر جائے گی اور ہمارے طلباء وطالبات کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اس سکالرشپ پروگرام سے استفادہ کریں۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جواد اقبال،ڈائریکٹر فنانشل اسسٹینس ڈاکٹر غلام حسن عباسی، ڈائریکٹر انفارمیشن بہاول پور ریاض الحق بھٹی،سمیر ا ملک ممبر سینڈیکیٹ، نصیر احمد ناصر صدر پریس کلب، رانا خالد لقمان، پروفیسر ڈاکٹر معظم جمیل، رجسٹرار، پروفیسر ڈاکٹر ابو بکر خزانہ دار، سول سائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ 

خطاب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -