میٹرک انٹر نتائج، ہزاروں ذہین سٹوڈنٹس دلبرداشتہ ری، چیکنگ کے نام پر بھاری فیسیں بٹورنے کا منصوبہ فائنل 

  میٹرک انٹر نتائج، ہزاروں ذہین سٹوڈنٹس دلبرداشتہ ری، چیکنگ کے نام پر بھاری ...

  

  اوچ شریف (نامہ نگار) کورونا کی ہنگامی صورت حال کے تناظر میں پنجاب کے تعلیمی بورڈزکی ناقص امتحانی پالیسی نے صوبہ بھر کے لاکھوں طلبہ کی محنت پر پانی پھیر دیا، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے ناقص نتائج سے ہزاروں ذہین اور محنتی طلبہ دلبرداشتہ ہوگئے، حکام نے ری چیکنگ کے نام پربھاری فیسوں کی مد میں والدین کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کے لئے کمر کس لی،تفصیلات کے مطابق کورونا کی ہنگامی صورت (بقیہ نمبر1صفحہ 6پر)

حال کے تناظر میں صوبہ بھر کے تعلیمی بورڈز نے حکومت پنجاب کی سفارشات پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے تمام طلبا ء و طالبات کو بغیر امتحان دیئے پاس کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم حکومتی اعلان کے باوجود کئی ماہ تک طلبہ کو بغیر امتحان پروموٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے سے لاکھوں طلبہ انتظار اور ذہنی کوفت کی سولی پر لٹکے رہے اور تعلیمی بورڈز کے دفاتر کے چکر کاٹتے رہے، ناقص حکومتی پالیسی سے دلبرداشتہ ہو کر سیکڑوں طلبہ کا نہ صرف تعلیمی سال ضائع ہوا بلکہ کئی طلباء و طالبات پڑھائی چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ گئے، بار بارمیٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نتائج کی تاریخیں تبدیل کرکے تاخیر کے ریکارڈ توڑ دیئے گئے اوربلاوجہ التواکا شکار کرکے طلبہ اور ان کے والدین کو اذیت میں مبتلا کیا جاتا رہا، میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے جاری ہونے والے ان نتائج نے سیکڑوں ہزاروں ذہین اور محنتی طلبہ کی محنت اور امیدوں پر پانی پھیر کر ان کا مستقبل تاریک کر دیا،جبکہ رزلٹ سننے کے بعد کئی طلبہ روتے ہوئے بھی نظر آئے، کورونا وائرس کی شدت میں کمی کے بعد ایس او پیز کے ساتھ 6ماہ بعد تعلیمی ادارے تو کھل گئے مگر سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے غریب طلباء و طالبات نتائج میں تاخیر کے باعث فرسٹ ایئر اور تھرڈ ایئر میں داخلے نہیں لے سکے،کورونا کو جواز بنا کر ناقص مارکنگ کے ذریعے جہاں محنتی اور قابل طلبہ کو رعایتی نمبروں کے ساتھ پاس کیا گیا وہاں ایسی مثالیں بھی سامنے آئیں جب امتحان میں نہ بیٹھنے والے طلبہ کو بھی پاس کر دیا گیا،تعلیمی ماہرین کے مطابق پہلے امتحانی بورڈز کی پالیسی ہوتی تھی کہ پرچوں کی چیکنگ سرکاری کالجز کے تجربہ کار اساتذہ ہی کر سکتے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہوتا، پرچوں کی چیکنگ کے لئے سنٹرل مارکنگ کا نظام ہے جس میں پیپر چیکرز بورڈ کی متعین کردہ جگہ پر آکر پیپر مارک کر سکتے ہیں، اب ہوتا یہ ہے کہ پرچوں کی چیکنگ کے عوض ملنے والا معاوضہ انتہائی کم ہونے کے باعث سرکاری کالجز کے اکثر اساتذہ اس کام سے انکار کر دیتے ہیں جس کا فائدہ بورڈ کے افسران اٹھاتے ہیں اور پرائیویٹ کالجز کے نہ تجربہ کار اساتذہ کو اس کام کے لئے رکھ لیا جاتا ہے، اس بار بھی ایسا ہی ہوا،تعلیمی ذرائع کے مطابق قریباً تمام امتحانی بورڈز میں پرچوں کی چیکنگ پرائیویٹ کالجز کے ناتجربہ کار اور نان کوالیفائیڈ ٹیچروں سے کروائی گئی، ان نجی کالجز کے انتہائی کم تنخواہوں اور مراعات کے بغیر کام کرنے پر مجبور اساتذہ چار پیسے زیادہ کمانے کے لئے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیپر چیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بنڈلز کے ریٹ لگتے ہیں،مقابلے بازی ہوتی ہے کہ کون کم وقت میں زیادہ پیپر چیک کرتا ہے، امتحانی فیسوں، ری چیکنگ اور اسناد کی مد میں سالانہ کروڑوں روپیہ اکٹھا کرنے والے تعلیمی بورڈز کی بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم پیسہ خرچ ہو، تعلیمی بجٹ انتہائی کم ہونے کے باعث یہ تعلیمی بورڈز اپنے معاملات چلانے کے لئے سارا پیسہ طلبہ سے اکٹھا کرتے ہیں جس سے بورڈز ملازمین کی تنخواہوں سے لے کر بورڈ افسران کی پرتعیش مراعات کا سامان کیا جاتا ہے، سال بھر محنت کرنے کے بعدبھی جب محنت کا ثمر نہ ملے تو ایک طرف جہاں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہیں والدین اور معاشرے کے دیگر لوگوں کی تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے، اکثر طلبہ تو امتحانی نتائج سے مایوس ہو کر تعلیم کو ہی خیرآباد کہہ دیتے ہیں یا مالی مشکلات کا شکار والدین ان کو پڑھائی سے ہٹا کر کسی کام دھندے پر لگا دیتے ہیں، بورڈ امتحانات کے نتائج کی بنیاد پر ہی یونیورسٹیوں کا میرٹ بنتا ہے، وہ نوجوان جو حالیہ نتائج آنے سے پہلے تک ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے خواب دیکھ رہے تھے، ان نتائج کے بعد بالکل مایوس ہوچکے ہیں اور یہ مایوسی ان کو کسی بھی طرف لے کر جاسکتی ہے۔

پوزیشن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -