پاکستان کا وہ درخت جو پچھلے 122 سال سے زیر حراست ہے، آج تک کوئی ضمانت کروانے بھی نہ آیا

پاکستان کا وہ درخت جو پچھلے 122 سال سے زیر حراست ہے، آج تک کوئی ضمانت کروانے ...
پاکستان کا وہ درخت جو پچھلے 122 سال سے زیر حراست ہے، آج تک کوئی ضمانت کروانے بھی نہ آیا

  

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی سامراج کے دوران گوروں نے ہندوستانی عوام پر تو جو ظلم ڈھائے، سو ڈھائے لیکن ہندوستان کے درخت بھی ان طالع آزماﺅں کی دستبرد سے محفوظ نہ رہ سکے۔ لنڈی کوتل چھاﺅنی میں موجود یہ درخت آج بھی برطانوی سامراجی ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہے جو گزشتہ 118برسوں سے زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس درخت کے زنجیروں میں جکڑے ہونے کا سبب ایسا ہے کہ سن کر کوئی ہوش مند یقین ہی نہ کرے۔ 

واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ 1898ءمیں ایک برطانوی فوجی افسر جیمز سکڈ نے بہت زیادہ شراب پی رکھی تھی اور وہ نشے میں دھت تھا۔ نشے کی زیادتی کی وجہ سے اسے محسوس ہوا جیسے یہ درخت اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چنانچہ اس نے پاس موجود سپاہیوں کو حکم دے دیا کہ وہ فوری طور پر اس درخت کو گرفتار کر لیں۔ان سپاہیوں نے جیمز سکڈ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس درخت کو زنجیروں سے جکڑ دیا۔ اس دن سے لے کر آج تک یہ درخت زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور برطانیہ کا قبضہ ختم ہونے اور پاکستان کو آزادی ملنے کے 73 سال بعد بھی بیچارا یہ درخت ناکردہ گناہ میں ہونے والی قید سے رہائی کا منتظر ہے۔ آج تک کوئی شخص اس قیدی درخت کی ضمانت کرانے نہیں آیا۔ نہ کسی عدالت میں اس پر کوئی مقدمہ چلایا گیا۔ گرفتاری کے بعد سے یہ درخت ایک ناکردہ جرم کی سزا کاٹ رہاہے۔

لنڈی کوتل کے مقامی لوگ اس زنجیروں میں جکڑے درخت کو انگریزوں کے ظلم و ستم کی ایک نشانی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس درخت پر ایک تختی بھی آویزاں ہے جس پر انگریزی زبان میں لکھا ہے کہ ”میں زیرحراست ہوں۔ مجھے ایک انگریز افسر نے شدید نشے کی حالت میں گرفتار کرایا کیونکہ اسے یوں لگا تھا کہ میں اس کا پیچھا کر رہا ہوں اور اس نے سپاہیوں کو حکم دے کر مجھے گرفتار کروا دیا۔“

اس درخت کو دیکھنے کے لیے سیاح آج بھی لنڈی کوتل کا رخ کرتے ہیں مگر مقامی لوگ ان سیاحوں کی آمد سے خوش نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس درخت کو آج تک زنجیروں میں جکڑے رکھنے کا مقصد انگریزوں کے مظالم کو یاد رکھنا ہے۔ برطانوی حکام علاقے کے قبائلیوں کو اپنے اپنے مظالم سے خوفزدہ رکھنے کے لیے بات بات پر ایسے ہی سزائیں دیا کرتے تھے اور اکثر انہیں بھاری زنجیروں سے باندھ دیا کرتے تھے جیسے اس درخت کو باندھا گیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -