اللہ کی رضا کیلئے کی گئی ایک نیکی کس طرح زندگی کی ضمانت بن گئی؟ وہ واقعہ جو آپ کا بھی ایمان تازہ کردے

اللہ کی رضا کیلئے کی گئی ایک نیکی کس طرح زندگی کی ضمانت بن گئی؟ وہ واقعہ جو آپ ...
اللہ کی رضا کیلئے کی گئی ایک نیکی کس طرح زندگی کی ضمانت بن گئی؟ وہ واقعہ جو آپ کا بھی ایمان تازہ کردے

  

عباسی خلیفہ مامون الرشید کی پولیس کے سربراہ عباس کو ایک بار خلیفہ نے انتہائی غصے کی حالت میں بیڑیوں میں جکڑا ہوا ایک شخص حوالے کیا اور کہا کہ صبح ان کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ عباس اسے لے کر جیل کی طرف جانے لگے لیکن پھر خیال آیا کہ خلیفہ انتہائی غصے میں تھے ، پتہ نہیں یہ کتنا ضروری قیدی ہے اس لیے اسے میری نگرانی میں رہنا چاہیے، یہ سوچ کر انہوں نے اہلکاروں کو یہ قیدی اپنے گھر میں نظر بند کرنے کا حکم دے دیا۔ جب قیدی کو عباس کے گھر نظر بند کردیا گیا تو اس نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے بارے میں پوچھا۔ جس پر قیدی نے بتایا کہ وہ دمشق کا رہنے والا ہے۔ عباس نے اس سے پوچھا کہ وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے تو قیدی نے کہا کہ وہ اپنی کہانی تب تک نہیں سنائے گا جب تک تم اپنے تجسس کی وجہ بیان نہیں کرو گے۔ عباس نے بتایا کہ ایک بار وہ دمشق کے گورنر کے ہاں افسر تھا، اسی دوران وہاں بغاوت ہوگئی اور وہ گورنر سمیت بھاگ گیا، لوگ پیچھا کر رہے تھے کہ وہ ایک گھر تک پہنچا جس کے مکین نے نہ صرف اس کیلئے دروازہ کھولا بلکہ مقصورہ یعنی میاں بیوی کے خاص حجرے میں چھپادیا۔ جب باغی لوگ آئے تو اس نیک شخص نے گھر کی تلاشی کی اجازت دے دی، انہیں کچھ نہ ملا تو وہ لوگ مقصورہ کی طرف بڑھے لیکن اس کی بیوی نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔ 

عباس نے قیدی کو بتایا کہ اس کے بعد اس اللہ کے بندے نے مجھ پر لطف و کرم کا سلسلہ جاری تکھا اور اپنے محل میں ایک الگ مکان بھی دے دیا۔ میں وہاں 4 مہینے تک رہا اس دوران اس نے نہ میرا نام پوچھا اور نہ ہی عہدہ معلوم کیا۔ ایک روز میں نے بغداد جانے کی اجازت مانگی تو اس نے بخوشی اجازت دینے سے قبل مجھ سے کہا کہ میں بغداد جانے والے قافلے کا پتہ کرکے آتا ہوں، جس روز وہ روانہ ہوا اس روز آپ کو اس کے ساتھ بھیج دوں گا۔ میں نے اس نیک شخص سے عہد کیا کہ اتنی مدت کے حسن سلوک اور ہمدردی کی بنا پر میں تیسرے ساتھ یہ وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی بھر تمہارا احسان نہ بھولوں گا اور حسب طاقت اس کا بہترین صلہ دوں گا۔ جس دن وہ قافلہ روانہ ہوا تو اس نیک شخص نے مجھے گھوڑا، جوڑا، تلوار ، غلام اور 2 خچروں پر سامان لاد کردیا۔ 

عباس کی کہانی سن کر قیدی نے کہا کہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کرنے والا آدمی میں ہی تھا۔ پھر اس نے اپنی کہانی بتائی اور کہا کہ دمشق میں ایک بار پھر بغاوت ہوئی جس کا الزام میرے سر لگادیا گیا، اس کے  بعد مجھے گرفتار کرکے اتنا تشدد کیا گیا کہ جان نکلنے کو ہوگئی، پھر مجھے زنجیروں میں جکڑ کر امیرالمومنین کے دربار میں پیش کیا گیا۔ حالت یہ ہے کہ میں وصیت بھی نہیں کرپایا، میرا غلام اس وقت بغداد میں ہی موجود ہے تاکہ میرے ساتھ گزرنے والے حالات سے میرے گھر والوں کو آگاہ کرسکے۔ اگر تم میرے احسان کا بدلہ دینا چاہتے ہو میرے غلام کو بلادو تاکہ میں اسے وصیت کرسکوں۔ 

چنانچہ عباس نے غلام کو بلایا جس کے بعد قیدی نے اسے وصیت کردی، وصیت مکمل ہونے کے بعد عباس نے لوہار کو بلوایا اور قیدی کی زنجیریں تڑوادیں۔ قیدی نے عباس سے کہا کہ میرا جرم بہت بھیانک ہے اور اگر میں فرار ہوگیا تو امیر المبومنین تمہاری گردن مار دیں گے اور مجھے بھی فوج کے ذریعے پکڑ کر قتل کردیا جائے گا لیکن عباس نے پھر بھی قیدی کو فرار کرادیا۔

قیدی کو فرار کرانے کے بعد عباس موت کو گلے لگانے کیلئے تیار ہوگیا، اس نے غسل کرکے حنوط لگیا اور کفن تیار کرلیا۔ نماز فجر کے فوری بعد خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوگیا، خلیفہ مامون الرشید کے پوچھنے پر عباس نے پوری کہانی سنائی اور بتایا کہ وہ اس قیدی کے بدلے میں قتل ہونے کو تیار ہے اسی لیے غسل کرکے کفن ساتھ لایا ہے۔

خلیفہ نے یہ بات سنی تو کہا اے عباس اللہ تجھے تیرے احسان کی جزا نہ دے ، تیرا احسان بھلا کب اس کے درجے کو پاسکتا ہے کیونکہ تو نے تو پہچاننے کے بعد احسان کیا اور اس نے بغیر جانے پہنچانے تجھ پر احسان کیا تھا ، مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ تیری طرف سے میں خود اس کے احسان کا بدل چکادیتا۔ 

خلیفہ کی یہ بات سن کر عباس میں ہمت پیدا ہوئی اور اس نے عرض کیا کہ وہ شخص ابھی بھی بغداد ہے تاکہ میرے معاملے کی خبر رکھے اور اگر میری جان کو خطرہ ہو تو خود پیش ہو کر اپنی گردن قلم کروادے۔

یہ بات سن کر مامون الرشید نے کہا کہ یہ اس شخص کا دوسرا احسان ہے جو پہلے سے بھی بڑا ہے، جا اور اسے میرے پاس لا تاکہ  تیرے اوپر ہونے والے احسان کا صلہ میں خود ادا کردوں۔ 

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -