مسلم لیگ ن میں اختلاف کی خبروں پر احسن اقبال بھی میدان میں آگئے، ایسی بات کہہ دی کہ "نون میں سے شین " نکالنے کا دعویٰ کرنے والے سٹپٹا اٹھیں گے

مسلم لیگ ن میں اختلاف کی خبروں پر احسن اقبال بھی میدان میں آگئے، ایسی بات کہہ ...
مسلم لیگ ن میں اختلاف کی خبروں پر احسن اقبال بھی میدان میں آگئے، ایسی بات کہہ دی کہ

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کےجنرل سیکرٹری احسن اقبال نےکہاہےکہ آج پاکستان اس حال میں ہےتوسب جوابدہ ہیں،مسلم لیگ ن میں کوئی نظریاتی اختلاف نہیں، نواز شریف کے بیانیے کو پارٹی اون کرتی ہے،حکومتی رہنما اگرخاتون رکن اسمبلی کی کردار کشی کرتےہیں تو میں مذمت کرتا ہوں ،گلگت بلتستان  انتخابات میں دھاندلی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ 

نجی ٹی وی "جیو نیوز" کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں کوئی نظریاتی اختلاف نہیں، نواز شریف کے بیانیے کو پارٹی اون کرتی ہے،پارٹی میں ہر کسی کو رائے دینے کا اختیار ہےلیکن پارٹی کےفیصلےپرتمام لوگ عمل کرتےہیں،آج پاکستان اس حال میں ہے تو سب جوابدہ ہیں ,ہم اپوزیشن جماعتوں کےساتھ ملکر احتجاجی تحریک شروع کررہےہیں،ہمیں جمہوری جدوجہد کرنی ہمیں ملک میں آئین کی بالا دستی یقینی بنانی ہے ۔انہوں نے طلال چوہدری پر مبینہ تشدد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی رہنما جس درجےکی سیاست کرتے ہیں وہ سب کےسامنے ہیں، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں خاتون رہنما کو بھی شامل کیاگیاہے،حکومتی رہنما اگرخاتون رکن اسمبلی کی کردار کشی کرتےہیں تو میں مذمت کرتاہوں۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ  نواز شریف کےحالیہ بیانات سےان کی پارٹی اضطراب کا شکارہے،نواز شریف کےبیانیےپرمسلم لیگ ن سے مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں،مسلم لیگ ن میں تقسیم کےحوالےسےشیخ رشیدکی باتوں میں وزن ہے جبکہ ’’ن‘‘میں سے’’ش‘‘نکلنےکی باتوں میں حقیقت ہے،’’ش ‘‘لیگ سمیت مسلم لیگ ن کےکئی دھڑےبننےجارہےہیں۔

اس سے قبل مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ گلگت بلتستان کے باقی ماندہ انتخابی مرحلے کو شفاف بنانے کے لئے جی بی کے چیف الیکشن کمیشنر فی الفور تمام سیاسی جماعتوں کو موثر انتخابی ضابطہ اخلاق بنانے کے لئے مدعو کریں اور حکومتی وزرا کے دوروں اور فنڈز کے اعلانات پہ پابندی لگائیں ، گلگت بلتستان  انتخابات میں دھاندلی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

مزید :

قومی -