آصف زرداری اور فواد چوہدری کی نااہلی سے متعلق سماعت،عدالت کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے: اسلام آباد ہائی کورٹ

آصف زرداری اور فواد چوہدری کی نااہلی سے متعلق سماعت،عدالت کو سیاسی معاملات ...
آصف زرداری اور فواد چوہدری کی نااہلی سے متعلق سماعت،عدالت کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے: اسلام آباد ہائی کورٹ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سابق صدر آصف زرداری کی نااہلی سے متعلق درخواست پر سماعت 4نومبر تک ملتوی کردی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئےعوام کے منتخب نمائندوں کی عزت کرنی چاہئے,آئندہ سماعت پرفواد چوہدری اور آصف زرداری نااہلی کیس کا فیصلہ کریں گے.

نجی ٹی وی 24نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق صدر آصف زرداری اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کی نااہلی سے متعلق سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران آصف زرداری کے خلاف درخواست دائر کرنے والے تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کی جانب سے ان کے وکیل فیصل چوہدری جبکہ فواد چوہدری کے خلاف درخواست سمیع ابراہیم عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آصف زرداری کے خلاف قومی احتساب بیورو(نیب) تحقیقات کررہا ہے تو کیس کیوں سنے؟ عدالت عوام کے منتخب نمائندوں کے خلاف کسی قسم کی بھی درخواست کیوں سنے؟عدالت کے نوٹس کرنے سے بھی منتخب نمائندے پر اثر پڑتا ہے او ر نمائندے پھر سیاسی انجینئرنگ کا الزام لگاتے ہیں اس لئے عدالت کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے اور عوام کے منتخب نمائندوں کی عزت کرنی چاہئے۔

آصف زرداری کے خلاف درخواست کے حوالے سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خرم شیر زما ن کس جماعت کے نمائندہ ہیں؟جس پر وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ خرم شیر زمان پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی جماعت تو حکومت میں ہے، پارلیمنٹ کو عزت دیں،جب عوام نے ایک شخص منتخب کیا تو عدالت مداخلت کیوں کرے؟۔

اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو خود احتسابی کا میکنزم بنانا چاہئے،خود احتسابی کا سب اداروں میں نظا م موجود ہے،پارلیمنٹ بھی اپنا خود احتسابی کا نظام کیوں نہیں بنا لیتی؟منتخب نمائندوں کا احتساب تو بہت آسان ہے،مطمئن کریں عدالت منتخب نمائندوں کے خلاف کیس کیوں سنے؟۔دیگر فورم بھی موجود ہیں پارلیمنٹ خود کیوں احتساب نہیں کرتی؟۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت سے کیسز زیر التوا ہیں، ایسے معاملات میں کیوں پڑیں؟، ایسے کیسز کا فیصلہ ہونے میں وقت لگتا ہے۔

درخواست گزار سمیع ابراہیم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ دیانتدار لوگوں کو عوام کی نمائندگی کا حق دینا چاہئے۔سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 199کے تحت عدالت یہ معاملات دیکھ سکتی ہے،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 199کے تحت ہماری پاور صوابدیدی ہے،میڈیا خو د ایک احتساب کا فورم بن چکا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ثابت ہو چکا ہے عدالتوں سے ایسے معاملات کے فیصلوں کے اثرات الگ ہوتے ہیں،ہم نے ایک رکن قومی اسمبلی کو نااہل قرار دیا تھالیکن اس رکن اسمبلی کی اپیل بعد میں سپریم کور ٹ سے منظور ہوگئی۔اس حلقے کے عوام کو خاطر خواہ وقت نمائندگی سے محروم رہنا پڑا،وزیر اعظم پانچ حلقوں سے منتخب ہوئے ان کے خلاف بھی درخواست آگئی تھی،آئندہ سماعت پرفواد چوہدری اور آصف زرداری نااہلی کیس کا فیصلہ کریں گے۔ہمارے لئے زیادہ اہم ان غریبوں کے کیسز ہیں جن کو بنیادی حقوق بھی میسر نہیں ہیں۔سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے کیس میں فیصلہ دیا۔

عدالت نے سمیع ابراہیم کو بھی آئندہ سماعت پر وکیل کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -