امید بہار رکھ 

امید بہار رکھ 
امید بہار رکھ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان کے دورے پر موجود انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم  نے کراچی میں چار میچز کے بعد لاہور میں ڈیرے ڈال لئے ہیں جہاں 28,30ستمبر کو سیریز کا پانچواں اور چھٹا جبکہ آخری ٹی ٹونٹی میچ 2اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔سیریز کے پہلے چار میچز کی بات کی جائے تو انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے ثابت کیا کہ وہ اس فارمیٹ کی بڑی ٹیم ہے جو کسی بھی وکٹ پر بڑا سکور کرنے اور بہترین حکمت عملی کے تحت میچز جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے  اس کے برعکس اگر قومی کرکٹ ٹیم کی بات کی جائے تو قومی ٹیم نے خاصہ مایوس کیا اس میں قصور اگر کھلاڑیوں کا ہے تو اس سے زیادہ سلیکشن کمیٹی کا بھی ہے جنہوں نے انگلینڈ جیسی بہترین ٹیم اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جو آئندہ ماہ آسٹریلیا میں شروع ہونے جا رہا ہے  کے لئے تجربات کو ترجیح دی اور ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جس میں اکثر کھلاڑی پرچی یا اپنی ایک یا دو میچز کی پرفارمنس پر ٹیم میں موجود ہیں۔آسٹریلیا جیسے ملک میں جہاں پچز کافی تیز اور باؤنسی ہوتی ہیں محمد عامر،شعیب ملک اور شرجیل خان جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں سمیت قومی ٹی ٹونٹی میں رنزوں اور وکٹو ں کے ڈھیر لگانے والے کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا۔بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیض راجہ جو خود بھی ایک کرکٹر رہے ہیں اور ان کے تجربات سے ہمیں آج بھی فائدہ پہنچ رہا ہے نے اپنے ایک بیان میں شرجیل خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں قومی ٹیم میں واپس آنا ہے تو انہیں فٹنس لیول بہتر کرنے کی ضرورت ہے تو ان کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔تو جناب کے حضور ایک بات میں بھی کرتا چلوں کہ شرجیل خان قومی کھلاڑی ہیں کوئی کلب لیول کے کھلاڑی نہیں ہیں جن کی فٹنس کے لئے انہیں خود سے سوچنا ہو گا اس سلسلہ میں پی سی بی کی جانب سے لگائے جانے ولاے کیمپ میں ان کو مدعو کر کے ان کی فٹنس پر کام کیا جانا چاہئے تھا۔جو سرا سر نہیں کیا گیا اوپر سے اگر انہیں کھلانا ہی تھا تو انہیں دو ماہ قبل اپنی فٹنس بہتر بنانے کا ٹاسک دیا جاتا تا کہ وہ اس پر محنت کرتے۔لیکن خیر ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ابھی بھی وقت ہے کہ شعیب ملک،شرجیل خان اور محمد عامر کو پرچی کھلاڑیوں حیدر علی،افتخار احمد جن کا ابھی تک ٹیم کے لئے کوئی کردار نظر نہیں آیا اور ان کے ساتھ  شاہنواز دھانی کو بھی باہر بٹھا کر موقع دینے کی ضرورت ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ کھلاڑی کچھ نا کچھ تو ان سے بہتر اور تجربہ کار ہیں۔ شعیب ملک کو یہ ورلڈ ٹی ٹونٹی کپ کھلا کرباعزت طریقے سے رخصت ہونے کا موقع فراہم کیا جائے اور ان کی جگہ ٹیم میں شامل ثانی مصباح الحق یعنی افتخار احمد کی پکی پکی چھٹی کر دی جائے۔شعیب ملک آج بھی فارم،فٹنس اور تجربہ میں ان سے سو گنا بہتر ہیں۔محمد رضوان اور بابر اعظم کی جوڑی نے یوں تو اپنے نام بے شمار اعزازات حاصل کر لئے ہیں جو ایک اچھی بات ہے مگر ان میں ایک خامی نظر آتی ہے کہ ان دونوں کا اسٹرائیک ریٹ ٹی ٹونٹی کرکٹ کے حساب سے اچھا نہیں ہے۔جس سٹرائیک ریٹ سے دونوں ٹی ٹونٹی کھیل رہے ہیں انہیں چاہئے کہ اسے بڑھائے کیونکہ اس سٹرائیک ریٹ سے تو پچاس اوور کی کرکٹ میں آنے والے اوپنرز بھی کھیل لیتے ہیں آج کرکٹ جدید اور تیز ہو رہی ہے اب تو ٹی ٹونٹی میں بھی دو سو رنز عا م سی بات ہوچکی ہے مگر ہم آج بھی اپنی دفاعی کرکٹ کھیل رہے ہیں بھیا میرے اب دو ر ایڈوانس ہو چکا ہے یہ کوئی 90کی دہائی والا دور نہیں کہ آپ تھوڑا ٹارگٹ دے کر وسیم اکرم،وقار یونس جیسے باؤلرز کی موجودگی میں جیت جاتے تھے۔اب تو افغانستان اور بنگلہ دیش جیسی ٹیمیں بھی آپ کو تگنی کا ناچ نچا دیتی ہیں لہذا اپنی کرکٹ کو جدید کے ساتھ فاسٹ بھی کریں جیت کا تسلسل اچھی بات ہے مگر اپنی کرکٹ اور فارم کو بہتر کرنے کے لئے تھوڑا جار حانہ مزاج اپنانا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -