معاشرے میں بڑھتا عدم برداشت

معاشرے میں بڑھتا عدم برداشت
معاشرے میں بڑھتا عدم برداشت

  

سیاست بات چیت ، رکھ رکھاؤ کا نام ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ جمہوری پارلیمانی نظام رائج ہے جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ معاملات کو بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کرنے کو ترجیح دی جائے۔ جمہوری نظام نام ہے کچھ مان لو کچھ منوا لو ، اس نظام میں کسی فرد واحد کا حکم نہیں چلتا بلکہ معاملات مشاورت کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں ۔ ملکی مسائل کے حوالے سے بات چیت ہو  یا بین الاقوامی معاملات ان پر بات چیت کے لیے ایک فورم موجود ہے جو کہ  پارلیمنٹ کی شکل میں موجود ہے۔ لازم ہے کہ   اہم معاملات اور سیاسی اختلافات کا اظہار  پارلیمان میں کیا جائے لیکن بدقسمتی رہی ہے کہ ہمارے ہاں پارلیمان کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حق دار ہے ہمیشہ پارلیمان کو نظر انداز ہی کیا گیا ۔

اس کی ایک مثال تحریک انصاف کا پارلیمان سے نکل جانا ہے۔ اس میں کوئی شق و شبے والی بات نہیں کہ تحریک انصاف 2018 میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ پارلیمان میں آئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن آئینی و قانونی طریقےسے آنیوالی عدم اعتماد کی قرار داد کے بعد جب عمران خان وزیراعظم نہ رہے تو انہوں نے پارلیمان کی اہمیت کو نظر انداز کر کے بے توقیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمان کو ہی چھوڑ دیا  اور عوام مسائل کے حل کے فورم کو مخالفین کے رحم و کرم پر چھوڑ کر سڑکیں ناپنے کو ترجیح دی۔

عمران خان نے جس طرح  پارلیمان کو چھوڑ کر جلسوں کو ترجیح دی اور جس طرح کی گفتگو کے ذریعے تحریک انصاف کے کارکنان کو سیاسی مخالفین کیخلاف اکسایا جارہا ہے اس سے معاشرے میں  تناؤ ہے جو کہ بڑھتا چلا جارہا ہے، سیاسی اختلافات ذاتی دشمنیوں میں بدل رہے ہیں۔ سیاسی مخالفین کو برے القابات سے پکارا جارہا ہے، بیچ بازار سیاسی مخالفین کا گھیراؤ کرنا ، گالیاں دینا ، تذلیل کرنا تو جیسے تحریک انصاف کے ورکرز نےا پنا حق سمجھ رکھا ہے اس کے مثال مسجد نبویﷺ میں پیش آنیوالا واقعہ تھا اور حالیہ لندن میں مریم اورنگزیب کیساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بھی قابل مذمت ہے۔ لیکن افسوس کہ تحریک انصاف کی جانب سے تادم تحریر اس واقعہ بارے کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

آپ لاکھ سیاسی اختلاف رکھتےہوں لیکن ایک خاتون کا احترام تو لازم ہے۔  سیاسی اختلاف میں  اس حد تک کوئی کیسے گر سکتا ہے کہ جتھے کی صورت میں  ایک خاتون کی بیچ سڑک  تذلیل کو اپنا حق سمجھے۔ افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے ایسے لوگوں پر جو ایسے اقدام کو اپنا حق سمجھتے ہوئے شرمندہ بھی نہیں۔  حیرت ہے تحریک انصاف کے رہنماؤں پر کہ وہ  اپنے کارکنان کو ترغیب نہیں دے رہے کہ سیاسی اختلاف کو اس نہج پر نہ لے کر جائیں کہ  احترام انسانیت و نسوانیت ہی بھول جائیں۔ عمران خان کے خطابات  نے پارٹی کارکنان کی ایسی ذہن سازی کی ہے کہ کارکنان اس واقعہ کی مذمت کے بجائے سراہ رہے ہیں۔

مذکورہ واقعہ کے حوالے سے تحریک انصاف کے ایک سرگرم کارکن سے بات ہوئی۔ سوال پوچھا کہ ایک لمحے کے لیے آپ سیاسی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر جواب دیں کہ کیا ایسا واقعہ کسی بھی صورت قابل تعریف ہے؟ موصوف نے مشرقی روایات کو فوری پامال کرتے ہوئے جو جواب دیا وہ واقعی باعث حیرت تھا۔ کہنے لگے  بہت اچھا کیا اوور سیز  پاکستانیوں نے، مریم اورنگزیب ہماری سیاسی مخالف ہیں اوورسیز کارکنان  و سپورٹرز نے اپنے حق کا بالکل صحیح استعمال کیا ۔

آپ اندازہ کریں کہ  اس طرح کے خیالات کی حامل نسل کس جانب جارہی ہے؟ عدم برداشت کا رجحان بڑھتا چلا رہا ہے ۔ الٹا ایسے واقعات پر شرمندگی کے اظہار کے بجائے فخر کیا جاتا ہے۔ آفرین ہے مریم اورنگزیب پر کہ انہوں نے  اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ فواد چوہدری یا فیاض الحسن چوہان  اس طرح کا عمل برداشت کرتے ؟ یقیناً وہ فوری ردعمل دیتے اور نعرے لگانے والوں کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا لیکن مریم اورنگزیب نے تحمل و بردباری کا مظاہرہ کیا ۔

ایک طرف خان صاحب ہیں جو  سیاسی مخالفین کو چور ڈاکو لٹیرے اور ناجانے کن کن القابات سے نوازتے ہیں حالانکہ اپنے ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ حکومت میں وہ سیاسی مخالفین کیخلاف لگائے گئے الزامات کو ثابت نہیں کر سکے۔ ساڑھے تین سال میں تمام حکومتی مشینری کنٹرول میں ہونے کے باوجود کرپشن کی ایک پائی بھی واپس قومی خزانے میں نہیں لاسکے۔ صرف زبانی جمع خرچ کر کے عوام کو بہلاتے رہے۔ اب حکومت سے نکلنے کے بعد وہ سیاسی مخالفین کو ہدف تنقید  بنانے کیساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو بھی  متنازعہ بنا رہے ہیں۔

دوسرے طرف نواز شریف ہیں  جنہوں نے 2013 کی الیکشن مہم کے دوران جب انہیں خبر ملی کہ عمران خان  کرین سے گر کر زخمی ہو گئے ہیں تو وہ فوری طور پر  انتخابی مہم روک کر عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال پہنچے۔ سیاسی قائدین کو چاہیے کہ عدم برداشت کے بجائے  تحمل کا مظاہرہ کریں اوراپنے کارکنان کو بھی امن کا درس دیں نہ کہ انہیں کسی کیخلاف اکسایا جائے ۔ ساتھ ہی ساتھ کارکنان کو درس بھی دیا جائے کہ وہ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں نہ بدلیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطۂ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -