ایران میں مظاہروں کے دوران جاں بحق نوجوان کی بہن نے بھائی کے جنازے پر اپنے بال کاٹ دیئے

ایران میں مظاہروں کے دوران جاں بحق نوجوان کی بہن نے بھائی کے جنازے پر اپنے ...
ایران میں مظاہروں کے دوران جاں بحق نوجوان کی بہن نے بھائی کے جنازے پر اپنے بال کاٹ دیئے
سورس: Screengrab

  

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں حجاب مخالف مظاہروں میں جاں بحق ہونے والے نوجوان جاوید حیدری کی بہن نے بھائی کے جنازے پر اپنے بال کاٹ دیئے۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق ایران میں 22سالہ مھسا امینی نامی لڑکی کی پولیس کی زیرحراست ہلاکت کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ گزشتہ دنوں پرتشدد مظاہرے میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں جاوید حیدری نامی یہ نوجوان بھی جاں بحق ہو گیا۔

ویڈیوحکومت مخالف ٹوئٹر ہینڈل @1500tasvir_enپر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جاوید حیدری کی بہن اس کے تابوت پر سیاہ لباس پہنے دیگر خواتین کے ہمراہ ماتم کناں ہوتی ہے اور اس دورا ن قینچی سے اپنے بال کاٹ کر تابوت پر رکھے پھولوں کے ساتھ رکھ دیتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایرانی شہر قیز کی رہائشی مھسا امینی خواتین کے حقوق کی کارکن تھی، جسے ایک مظاہرے میں کھلے عام حجاب اتارنے گرفتار کیا گیا تھا اور 16ستمبر کو پولیس کی حراست میں ہی اس کی موت ہو گئی تھی۔

اس کی موت کے بعد ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ان پرتشدد مظاہروں میں اب تک 50سے زائد لوگ موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔مرنے والوں میں 5سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ان مظاہروں کی وجہ سے ایران کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند ہے۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی طرف سے مھسا امینی کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے۔ایرانی پولیس نے مھسا پر تشدد کے الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے مھسا کی موت ہوئی۔

مزید :

بین الاقوامی -